بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15013
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15013
حدیث نمبر: 15013 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى نَاضِحٍ لِي فِي أُخْرَيَاتِ الرِّكَابِ، فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبَةً، أَوْ قَالَ: فَنَخَسَهُ نَخْسَةً، قَالَ: فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ فِي أَوَّلِ الرِّكَابِ، إِلَّا مَا كَفَفْتُهُ , قَالَ: فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَزَادَنِي، قَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ، قَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا؟"، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" أَلَا تَزَوَّجْتَهَا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا , وَتُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ کسی سفر میں شریک تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اچانک چلتے چلتے میرا اونٹ ایک جگہ کھڑا ہو گیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اسے کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کو ڑادو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوڑا دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی اور وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ پہنچ کر۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد شادی کر لی میں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
← پچھلی حدیث (15012) باب پر واپس اگلی حدیث (15014) →