يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، أَبِي عَيَّاشٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا:" إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ , لَا شَرِيكَ لَهُ , وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ , بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بقر عید کے دن دو مینڈھے ذبح کئے جب انہیں قبلہ رخ کرنے لگے تو فرمایا: میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کر دیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا سب سے کٹ کر اور مسلمانوں ہو کر میں مشرکین میں سے نہیں ہوں میری نماز قربانی زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لئے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان، بسم اللہ، اللہ اکبر اے اللہ یہ تیری جانب سے ہے اور تیرے لئے اسے محمد اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15022]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسین، أبو عیاض المعافري روی عنه ثلاثة، وابن إسحاق صدوق، حسن الحدیث
الحكم: إسناده محتمل للتحسین، أبو عیاض المعافري روی عنه ثلاثة، وابن إسحاق صدوق، حسن الحدیث