مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي حَائِط، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ، فَقَالَ:" عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ؟ وَإِلَّا كَرَعْنَا"، فَقَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرِيشٍ، فَحَلَبَ لَهُ شَاةً، ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَائِتًا ثُمَّ سَقَاهُ، وَصَنَعَ بِصَاحِبِهِ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا: اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لئے اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش فرمایا: اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کے ساتھ آنے والے صاحب کے ساتھ اسی طرح کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14700]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 5613
الحكم: إسناده حسن، خ: 5613