بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14692
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14692
حدیث نمبر: 14692 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَهُ النَّفَقَةَ، فَلَمْ يُوَافِقْ عِنْدَهُ شَيْءٌ، حَتَّى أَحْجَزْنَهُ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، ثُمَّ أَتَاهُ عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَأُذِنَ لَهُمَا، وَوَجَدَاهُ بَيْنَهُنَّ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَةَ زَيْدٍ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَوَجَأْتُهَا، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، وَأَرَادَ بِذَلِكَ أَنْ يُضْحِكَهُ، فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا حَبَسَنِي غَيْرُ ذَلِكَ"، فَقَامَا إِلَى ابْنَتَيْهِمَا، فَأَخَذَا بِأَيْدِيهِمَا، فَقَالَا: أَتَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟! فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، فَقَالَتَا: لَا نَعُدْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ نَزَلَ التَّخْيِيرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے نفقہ میں اضافے کی درخواست کی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ نہیں تھا لہذا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا نہ کر سکے سیدنا صدیق اکبر کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے اندر جانے کی اجازت چاہی چونکہ کافی سارے لوگ دروازے پر موجود تھے اس لئے اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر نے بھی آ کر اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی اور وہ گھر میں داخل ہو گئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے اور اردگرد ازواج مطہرات تھیں سیدنا عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! اگر آپ بنت زید (اپنی بیوی) ابھی مجھ سے نفقہ کا سوال کرتے ہوئے دیکھیں تو میں اس کی گردن دبادوں گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ خواتین جنہیں تم میرے پاس دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ ہی کا سوال کر رہی ہیں۔ یہ سن کر سیدنا صدیق اکبر اٹھ کر سیدنا عائشہ کو مارنے کے لئے بڑھے اور سیدنا عمر حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں کہنے لگے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا سوال کر تی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کو روکا اور تمام ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ واللہ آج کے بعد ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کر یں گے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ نے آیت تخییر نازل فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14692]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
← پچھلی حدیث (14691) باب پر واپس اگلی حدیث (14693) →