بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14112
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14112
حدیث نمبر: 14112 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٌ ، زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَال: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَقَالَ:" نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ، لَا يَدْخُلُهَا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ، رَجَفَتْ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ، وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ، وَذَلِكَ يَوْمَ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ، عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى، فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ، وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدّجَّالِ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي"، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ مقام حرہ کے کسی شگاف سے طلوع ہوئے ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہی تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خروج دجال کے وقت مدینہ منورہ بہترین زمین ہو گی اس کے ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہو گا جس کی وجہ سے دجال مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ جب ایسا ہو گا تو مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور کوئی منافق (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) ایسے نہیں رہیں گے جو نکل کر دجال کے پاس چلا جائے اور ان میں بھی اکثریت خواتین کی ہو گی اسے یوم التخصیص کہا جائے گا کیونکہ یہ وہی دن ہو گا جس دن مدینہ منورہ اپنے میل کچیل کو اس طرح سے نکال دے گا جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ دجال کے ساتھ ستر ہزار یہو دی ہوں گے جن میں سے ہر ایک نے سبز رنگ کی ریشمی چادر تاج اور زیورات سے مزین تلوار پہن رکھی ہو گی وہ اس جگہ پر اپنا خیمہ لگائے گا جہاں اب بارش کا پانی اکٹھا ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ اب سے پہلے اور قیامت تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ ہوا ہے اور نہ ہو گا اور ہر نبی نے اس سے اپنی امت کو ڈرایا ہے اور میں تمہیں اس کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے مجھ سے پہلے اپنی امت کو نہیں بتائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14112]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد منقطع، زيد - وهو ابن أسلم العدوي- لم يسمع من جابر
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد منقطع، زيد - وهو ابن أسلم العدوي- لم يسمع من جابر
← پچھلی حدیث (14111) باب پر واپس اگلی حدیث (14113) →