عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقُولَ: هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس عمریٰ کو جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی سے کہہ دے کہ یہ چیز آپ کی اور آپ کی اگلی نسل کی ہو گئی اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک کے لئے آپ کی ہو گئی تو وہ چیز مالک کے پاس واپس لوٹ جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14131]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625