عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ، فَقَالَ لَهُ: تَمَنَّ عَلَيَّ، فَقَالَ: أُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: إِنِّي قَضَيْتُ الْحُكْمَ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ نے تمہارے باپ کو زندگی عطا کی اور اس سے پوچھا کہ کسی چیز کی خواہش ہو تو بتائے؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ ایک مرتبہ پھر شہید ہو سکوں اللہ نے فرمایا کہ میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ دنیا میں آنے والے دوبارہ لوٹ کر نہیں جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14881]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل متابع
الحكم: إسناده حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل متابع