حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ وَنَافِعٍ، قَالَ جَابِرٌ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ رَافِعًا أَمْ لَا، إِنَّهُ يُقَالُ لَهُ: هَاهُنَا بَرَكَةٌ؟ فَيُقَالُ: لَا، وَيُقَالُ: هَاهُنَا يَسَارٌ؟ فَيُقَالُ: لَا"، قَالَ: فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْهُ ثُمَّ تَرَكَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت، یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کر دوں گا اب مجھے یہ یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رافع کا نام بھی ذکر کیا تھا یا نہیں؟ اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ کوئی کسی سے پوچھتا ہے کہ یہاں برکت ہے وہ جواب دیتا ہے نہیں کوئی پوچھتا ہے کہ یہاں کوئی یسار (آسانی) ہے وہ جواب دیتا ہے کہ نہیں لیکن اس سے قبل ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عمر نے اسے سختی سے روکنے کا ارادہ کیا لیکن پھر اسے ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14606]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2138، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 2138، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة