هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ، قَالَ:" لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، فَقَالَ سُرَاقَةُ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہمارا عمل کس مقصد کے لئے ہے کیا قلم لکھ کر اسے خشک ہو گئے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا پھر ہم اپنی تقدیر خود ہی بناتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا سیدنا سراقہ نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اسی عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2648
الحكم: إسناده صحيح، م: 2648