زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، مَنْصُورٌ ، سَالِمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْت أَبِي مَرَّةً، يَقُولُ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ الْعَامِرِيُّ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا , فَقُلْنَا: لَا نَدَعُكَ تُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا بِاسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى الرَّجُلُ بِابْنِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ , وَإِنِّي سَمَّيْتُهُ بِاسْمِكَ , فَأَبَى قَوْمِي أَنْ يَدْعُونِي، قَالَ:" بَلَى , تَسَمَّوْا بِاسْمِي , وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي , فَإِنِّي قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھ دیا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کیفیت نہیں دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ لیں چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھ لیا کر و لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کر و کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والابنا کر بھیجا گیا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15130]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3114، م: 2133
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3114، م: 2133