مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ، دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاثْنَانِ؟ قَالَ:" وَاثْنَانِ"، قَالَ مَحْمُودٌ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ أَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ: وَاحِدٌ؟ لَقَالَ: َوَاحِدٌ، قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَاكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہو گا، ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہو جائیں تو؟ فرمایا: ”تب بھی یہی حکم ہے“، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر آپ لوگ ایک کے بارے میں پوچھتے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما دیتے کہ ایک کا بھی یہی حکم ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ! میر ابھی یہی خیال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14285]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن