مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ، أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، قَالَ: فَحَنَّ الْجِذْعُ، قَالَ جَابِرٌ: حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ، فَسَكَنَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ لَمْ يَأْتِهِ، لَحَنَّ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کی جڑ یا تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا کہ مسجد میں موجود سارے لوگوں نے اس کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس نہ جاتے تو وہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14119
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14119