بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14409
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14409
حدیث نمبر: 14409 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، خَالِصًا وَحْدَهُ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً" فَبَلَغَهُ إِنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَيَرُوحَ إِلَى مِنًى، نَاسٌ مِنَّا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ:" قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ، وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ، وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا أَهْدَيْتُ، حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً"، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ، قَالَ" بِمَ أَهْلَلْتَ؟" فَقَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَهْدِهِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم یعنی صحابہ رضی اللہ عنہما نے صرف حج کا احرام باندھا، اور چار ذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں، اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ جب عرفات کا دن آنے میں پانچ دن رہ گئے تو ہمیں حلال ہو نے کا حکم دے رہے ہیں تاکہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آ جاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا، تم حلال ہو جاؤ اور اسے عمرہ بنا لو، وہ مزید کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ انہوں نے کہا، جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام باندھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس طرح حالت احرام میں ہی رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1557، م: 1216
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1557، م: 1216
← پچھلی حدیث (14408) باب پر واپس اگلی حدیث (14410) →