بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14246
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14246
حدیث نمبر: 14246 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: الظُّهْرُ كَاسْمِهَا، وَالْعَصْرُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبُ كَاسْمِهَا، وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَأْتِي مَنَازِلَنَا وَهِيَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ، فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ، وَكَانَ يُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَيُؤَخِّرُ، وَالْفَجْرُ كَاسْمِهَا، وَكَانَ يُغَلِّسُ بِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز ظہر اپنے نام کی طرح ہے، نماز عصر سورج کے روشن اور تازہ دم ہونے کا نام ہے، نماز مغرب بھی اپنے نام کی طرح ہے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ دکھائی دیتی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے ادا فرماتے تھے، اور نماز فجر بھی اپنے نام کی طرح ہی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر منہ اندھیرے پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14246]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (14245) باب پر واپس اگلی حدیث (14247) →