هُشَيْمٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُؤْوِيهِنَّ، وَيَرْحَمُهُنَّ، وَيَكْفُلُهُنَّ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ"، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَتْ اثْنَتَيْنِ؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَتْ اثْنَتَيْنِ"، قَالَ: فَرَأَى بَعْضُ الْقَوْمِ، أَنْ لَوْ قَالُوا لَهُ: وَاحِدَةً، لَقَالَ:" وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، جن کی رہائش، ان پر شفقت اور کفالت وہ کرتا ہو، اس کے لئے جنت یقینی طور پر واجب ہو جائے گی“، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کی دو بیٹیاں ہوں تو؟ فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ ایک کے متعلق سوال کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بھی فرما دیتے کہ ایک بیٹی ہو تب بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14247]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زید بن جدعان، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زید بن جدعان، لكنه قد توبع