وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَالَ:" آتِيكُمْ"، قَالَ: فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ: لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْأَلِيهِ، قَالَ: فَأَتَانَا، فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ، كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا للَّحْمَ!"، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا، قَالَ: فَقَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ؟ قَالَتْ: تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَلَا يَدْعُو لَنَا!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے والد صاحب کے قرض کے سلسلے میں تعاون کی درخواست لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس آؤں گا“، میں نے واپس جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس حوالے سے کوئی بات کرنا اور نہ ہی سوال کرنا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے اپنی ایک بکری ذبح کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت کے ساتھ ہمارے تعلق خاطر کا پتہ لگ گیا ہے“، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس جانے لگے تو میری بیوی نے کہا: یا رسول اللہ! میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے دعاء فرما دیجیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کیا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ دیکھو تو سہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہمارے لئے دعا نہ فرمائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14245]
الحكم: إسناده صحيح