هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لَا نُكَنِّيكَ بِهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا لَهُ، فَقَالَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اس کا نام قاسم رکھ دیا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کنیت نہیں رکھنے دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ لیں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ کیا کرو، لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14249]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6187، م: 2133، هشيم - وإن لم يصرح بالتحديث - قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6187، م: 2133، هشيم - وإن لم يصرح بالتحديث - قد توبع