بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 1 از 48
حدیث نمبر: 10985 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَعَرَضَ لِإِنْسَانٍ مِنْهُمْ فِي عَقْلِهِ أَوْ لُدِغَ، قَالَ: فَقَالُوا لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَل فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، فَأَتَى صَاحِبَهُمْ، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ، فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَضَحِكَ، وَقَالَ:" مَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا، وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے، دورانِ سفر ان کا گذر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ اتفاقاً ان میں سے ایک آدمی کی عقل زائل ہوگئی یا اسے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے کہ کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ ان میں سے ایک نے " ہاں " کہہ دیا۔ اور اس آدمی کے پاس جا کر اسے سورت فاتحہ پڑھ کر دم کردیا۔ وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا اور عرض کردیا کہ یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے تو صرف سورت فاتحہ پڑھ کر ہی دم کیا تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے؟ پھر فرمایا کہ بکریوں کو وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2276، م: 2201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2276، م: 2201
حدیث نمبر: 10986 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي الصِّدِّيقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ أَوْ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: فَحَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً، قَدْرَ قِرَاءَةِ سُورَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنَ الْأُولَيَيْن".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نماز ظہر اور عصر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، چنانچہ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں تیس آیات کی تلاوت کے بقدر قیام فرماتے ہیں، " جو سورت سجدہ کی مقدار بنتی ہے " اور آخری دو رکعتوں میں اس کا نصف قیام فرماتے ہیں، جب کہ نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف اور آخری دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف قیام فرماتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 452
الحكم: إسناده صحيح، م: 452
حدیث نمبر: 10987 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا قیامت کے دن جس کی زمین (قبر) سب سے پہلے کھلے گی اور یہ بات بھی بطور فخر کے نہیں اور میں ہی قیامت کے دن سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا اور یہ بات بھی میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10987]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 10988 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَتَى فَاحِشَةً، فَرَدَّهُ مِرَارًا، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَرَجَمْنَاهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ، ثُمَّ وَلَّيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ" سَقَطَتْ عَلَى أَبِي كَلِمَة.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے سے گناہ سرزد ہوجانے کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی مرتبہ انہیں لوٹانے کے بعد آخر میں انہیں رجم کردینے کا حکم دے دیا۔ ہم نے انہیں لے جا کر سنگسار کردیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آکر انہیں اس کی خبر بھی کردی، جب شام ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد وثناء کی اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا؟ (امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میرے والد صاحب سے حدیث کے آخری الفاظ چھوٹ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10988]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، هشيم - وإن عنعن- متابع، م: 1694
الحكم: حديث صحيح، هشيم - وإن عنعن- متابع، م: 1694
حدیث نمبر: 10989 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ بِهِ حَاجَةٌ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ: ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَاهُ وَهُوَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا فَوَجَدْنَا لَهُ أَعْطَيْنَاهُ"، قَالَ: فَذَهَبَ، وَلَمْ يَسأْلْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی کو ضرورت مندی نے آگھیرا، اس کے اہل خانہ نے اس سے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یہ سن کر وہ آدمی واپس چلا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ نہ مانگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1469، م:1053
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1469، م:1053
حدیث نمبر: 10990 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ:" الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ، وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ محرم کن چیزوں کو مار سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سانپ، بچھو، چوہا اور کوے کو پتھر مار سکتا ہے، قتل نہ کرے، باؤلا کتا، چیل اور دشمن درندہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10990]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي، وفيه لفظة منكرة،وهي قوله:((ويرمي الغراب ولا يقتله))،والصحيح أن المحرم يقتل الغراب ايضا،انظر رقم :4461
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي، وفيه لفظة منكرة،وهي قوله:((ويرمي الغراب ولا يقتله))،والصحيح أن المحرم يقتل الغراب ايضا،انظر رقم :4461
حدیث نمبر: 10991 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، أَخْبَرَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ، وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ، وَعَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1987
الحكم: إسناده صحيح، م: 1987
حدیث نمبر: 10992 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، أَبِيهِ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ، فَأَنْكَرَهَا، قَالَ:" أَنَّى لَكَ هَذَا؟"، فَقَالَ: اشتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتُم".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سامعاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2302 ، 2333،م:1594
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2302 ، 2333،م:1594
حدیث نمبر: 10993 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے قریب المرگ لوگوں کو " لا الہ الا اللہ " پڑھنے کی تلقین کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 916 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 916 .
حدیث نمبر: 10994 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذِهِ الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا، فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ، وَأَقِيمُوهَا، وَسُدُّوا الْفُرَجَ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمْ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِنَّ خَيْرَ الصُّفُوفِ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس سے اللہ گناہوں کو معاف فرمادے اور نیکیوں میں اضافہ فرمادے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو شخص بھی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرے، پھر مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرے تو فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے۔ جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو صفیں سیدھی کرلیا کرو، خالی جگہ کو پر کرلیا کرو، کیوں کہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ، کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو اور مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین پہلی صف ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10994]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات، عبدالله بن محمد بن عقيل سيئ الحفظ .
الحكم: حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات، عبدالله بن محمد بن عقيل سيئ الحفظ .
حدیث نمبر: 10995 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں پرکاہ سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دورباسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10995]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 10996 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، رُبَيْحُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ فَقَدْ بَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ؟، قَالَ:" نَعَمْ، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا"، قَالَ: فَضَرَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ، فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّيحِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے غزوہ خندق کے دن بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارے دل تو اچھل کر حلق میں آگئے ہیں، کوئی دعاء پڑھنے کے لئے ہو تو بتا دیجئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! یہ دعاء پڑھو کہ اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال اور ہمارے خوف کو امن سے تبدیل فرما، اس کے بعد اللہ نے دشمنوں پر آندھی کو مسلط کردیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10996]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وفيه سقط، فربيع: هو ابن عبدالرحمن بن أبى سعيد الخدري، يروي عن أبيه عن جده، وفي الباب فى الدعاء عن ابن عمر سلف مطولا، برقم:4785 بإسناد صحيح
الحكم: إسناده ضعيف، وفيه سقط، فربيع: هو ابن عبدالرحمن بن أبى سعيد الخدري، يروي عن أبيه عن جده، وفي الباب فى الدعاء عن ابن عمر سلف مطولا، برقم:4785 بإسناد صحيح
حدیث نمبر: 10997 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَسَنٍ الْحَارِثِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، مُعَاوِيَةُ أَوْ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَسَنٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا، قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ نَسِيتُ اسْمَهُ، وَلَكِنْ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ أَوْ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ يَعْرِفُ مَنْ يَحْمِلُهُ، وَمَنْ يُغَسِّلُهُ، وَمَنْ يُدَلِّيهِ فِي قَبْرِهِ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ أَبِي سَعِيدٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟، قَالَ: مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میت اپنے اٹھانے والوں، غسل دینے والوں اور قبر میں اتارنے والوں تک کو جانتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10997]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام راويه عن أبى سعيد .
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام راويه عن أبى سعيد .
حدیث نمبر: 10998 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ " أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں سورت فاتحہ اور " جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں " کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 10999 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ مَرْدَانُبَةَ ، ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَرْدَانُبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11000 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ، فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ، فَأَقْعَدَهُ، قَالَ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلُكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لَهُ: اسْكُنْ، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، فَيَقُولَ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ بِهِ هَذَا، وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ثُمَّ يَقْمَعُهُ قَمْعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ"، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هُبِلَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27.
حدیث نمبر: 11001 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَتْرُ بِلَيْلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وتر رات ہی کو پڑھے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:754 .
الحكم: إسناده صحيح، م:754 .
حدیث نمبر: 11002 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ، مِسْكٌ خَالِصٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 2928 .
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 2928 .
حدیث نمبر: 11003 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور منبر کا درمیانی فاصلہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر لگایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11004 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِنَّ وَاللَّهِ فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ، فَمَا يَقُولُ ذَاكَ، أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُخْرِجُ مَسْأَلَتَهُ مِنْ عِنْدِي يَتَأَبَّطُهَا" يَعْنِي تَكُونُ تَحْتَ إِبْطِهِ، يَعْنِي نَارًا، قَالَ: قَالَ: عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ؟، قَالَ:" فَمَا أَصْنَعُ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا ذَاكَ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے فلاں فلاں دو آدمیوں کو خوب تعریف کرتے ہوئے اور یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے انہیں دو دینار عطاء فرمائے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن بخدا! فلاں آدمی ایسا نہیں ہے، میں نے اسے دس سے لے کر سو تک دینار دئیے ہیں، وہ کیا کہتا ہے؟ یاد رکھو! تم میں سے جو آدمی میرے پاس سے اپنا سوال پورا کرکے نکلتا ہے وہ اپنی بغل میں آگ لے کر نکلتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ انہیں دیتے ہی کیوں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں کیا کروں؟ وہ اس کے علاوہ مانتے ہی نہیں اور اللہ میرے لئے بخل کو پسند نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .