بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 21 از 48
حدیث نمبر: 11385 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا مُشَبِّكٌ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَفْطِنْ الرَّجُلُ لِإِشَارَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَا يُشَبِّكَنَّ، فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی معیت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، مسجد کے درمیان میں ایک آدمی گوٹ مار کر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اشارہ سے منع کیا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اشارہ سمجھ نہ سکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں ہو تو انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے کیونکہ یہ شیطانی حرکت ہے اور جو شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے، مسجد سے نکلنے تک اس کا شمار نماز پڑھنے والوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11385]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على خطأ فيه، عبيدالله بن عبدالله بن موهب لا يعرف، وعبيد الله بن عبدالرحمن بن موهب ليس بالقوي، ومولى أبى لم نعرفه
الحكم: إسناده ضعيف على خطأ فيه، عبيدالله بن عبدالله بن موهب لا يعرف، وعبيد الله بن عبدالرحمن بن موهب ليس بالقوي، ومولى أبى لم نعرفه
حدیث نمبر: 11386 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ هَبَطَ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى، هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ مِنْ ذَنْبٍ، هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں؟۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11386]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبوعوانة اليشكري- وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - قد توبع
الحكم: حديث صحيح، أبوعوانة اليشكري- وإن سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط - قد توبع
حدیث نمبر: 11387 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْحَنَفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَرْكَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ:" مَنْ فَعَلَ هَذَا؟"، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَلِكَ أَمْ لَا؟، فَقَالَ:" اتَّقُوا خِدَاجَ الصَّلَاةِ إِذَا رَكَعَ الْإِمَامُ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رکوع سے قبل رکوع اور ان کے سر اٹھانے سے پہلے اپنا سر اٹھالیا، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ ایسا کس نے کیا ہے؟ اس شخص نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے ایسا کیا ہے، دراصل میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کو نامکمل کرنے سے بچو، جب امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11387]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أيوب بن جابر الحنفي اليمامي، وعبدالله بن عصمة العجلي أبو علوان الحنفي تفرد بهذا الحديث، وهو ممن لا يحتمل تفرده
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أيوب بن جابر الحنفي اليمامي، وعبدالله بن عصمة العجلي أبو علوان الحنفي تفرد بهذا الحديث، وهو ممن لا يحتمل تفرده
حدیث نمبر: 11388 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَفَّانُ ، الْحَجَّاجُ ، عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَفَّانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَقَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ الذِّئْبَ قَطَعَ ذَنَبَ شَاةٍ لِي فَأُضَحِّي بِهَا؟، قَالَ:" نَعَمْ"، وَقَالَ عَفَّانُ : عَنْ ذَنَبِ شَاةٍ لَهُ، فَقَطَعَهَا الذِّئْبُ، فَقَالَ أُضَحِّي بِهَا؟، قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے یا کسی اور نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایک بھیڑیا میری بکری کی دم کاٹ کر بھاگ گیا ہے، کیا میں اس کی قربانی کرسکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! کرسکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11388]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحجاج بن ارطاة، وعطية بن سعد العوفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحجاج بن ارطاة، وعطية بن سعد العوفي
حدیث نمبر: 11389 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح قاله أحمد شاكر، م: 2928
الحكم: إسناده صحيح قاله أحمد شاكر، م: 2928
حدیث نمبر: 11390 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: حَجَجْنَا، فَنَزَلْنَا تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَجَاءَ ابْنُ صَائِدٍ، فَنَزَلَ فِي نَاحِيَتِهَا، فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ مَا صَبَّ هَذَا عَلَيَّ! قَالَ: فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ وَمَا يَقُولُونَ لِي؟! يَقُولُونَ إِنِّي الدَّجَّالُ! أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الدَّجَّالُ لَا يُولَدُ لَهُ، وَلَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ، وَلَا مَكَّةَ"، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، وَقَالَ: قَدْ وُلِدَ لِي، وَقَدْ خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَكَأَنِّي رَقَقْتُ لَهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِمَكَانِهِ لَأَنَا، قَالَ قُلْتُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے حج کیا، ہم ایک درخت کے نیچے اترے، ابن صائد آیا اور اس نے بھی اس کے ایک کونے میں پڑاؤ ڈال لیا، میں نے " اناللہ " پڑھ کر سوچا کہ یہ کیا مصیبت میرے گلے پڑگئی ہے؟ اسی دوران وہ کہنے لگا کہ لوگ میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور مجھے دجال کہتے ہیں کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں نہیں جاسکے گا، اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی، میں نے کہا کیوں نہیں، اس نے کہا کہ پھر میرے یہاں تو اولاد بھی ہے اور میں مدینہ منورہ سے نکلا ہوں اور مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے، میرے دل میں اس کے لئے نرمی پیدا ہوگئی، لیکن وہ آخر میں کہنے لگا کہ اس کے باوجود میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اب کہاں ہے؟ یہ سن کر میں نے اس سے کہا کہ کم بخت! تو برباد ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11390]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2927
الحكم: إسناده صحيح، م: 2927
حدیث نمبر: 11391 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچالے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11391]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 19
الحكم: إسناده صحيح، خ: 19
حدیث نمبر: 11392 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارًا يَقُومُ اللَّيْلَ، ولَا يَقْرَأُ إِلَّا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ كَأَنَّهُ يُقَلِّلُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا ایک پڑوسی ہے، وہ ساری رات قیام کرتا ہے لیکن سورت اخلاص کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتا، اس کا خیال یہ تھا کہ یہ بہت تھوڑی چیز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11392]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5013
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5013
حدیث نمبر: 11393 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، وَالْخُزَاعِيُّ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَالْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ، ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: لَهُ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ، وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ:" لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ أَبُو: سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی صعصعہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل سے محبت کرتے ہو اس لئے تم اپنی بکریوں یا جنگل میں جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیونکہ جو چیز بھی " خواہ جن و انس ہو، یا پتھر " اذان کی آواز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی یہ بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11393]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 609
الحكم: إسناده صحيح، خ: 609
حدیث نمبر: 11394 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَليُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے گذرنے نہ دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
الحكم: إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
حدیث نمبر: 11395 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَبِيهِ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ الْوَتْرَ أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، أَوْ إِذَا أَصْبَحَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وتر پڑھے بغیر سو گیا یا بھول گیا، اسے چاہئے کہ جب یاد آجائے یا بیدار ہوجائے، تب پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11395]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالرحمن بن زيد بن أسلم- وإن يكن ضعيفا- متابع
الحكم: حديث صحيح، عبدالرحمن بن زيد بن أسلم- وإن يكن ضعيفا- متابع
حدیث نمبر: 11396 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِيهِ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" السُّحُورُ أَكْلَةٌ بَرَكَةٌ، فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے اس لئے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، کیونکہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11396]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد العدوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد العدوي
حدیث نمبر: 11397 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، عَنْ الْإِزَارِ، فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ: سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَلَا حَرَجَ أَوْ لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، فَمَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ، مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک باخبر آدمی سے سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے۔ پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا اور اللہ اس شخص پر نظر کرم نہیں فرمائے گا جو اپنا تہبند تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11397]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11398 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَحْسِبُهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی احسان جتانے والا، والدین کا نافرمان اور عادی شراب خور جنت میں نہیں جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11398]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد القرشي، و لانقطاعه ، مجاهد لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد القرشي، و لانقطاعه ، مجاهد لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11399 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَلَمْ يَقْرُوهُمْ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ، فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ؟، فَقَالُوا: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا، وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ، وَيَتْفُلُ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ، فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ، فَقَالُوا: لَا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَضَحِكَ، وَقَالَ:" مَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟! خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ (ایک سفر میں تھے، دورانِ سفر ان) کا گذر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا، اتفاقاً ان کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آکر کہنے لگے کہ کیا آپ میں کوئی جھاڑ پھونک جانتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ چونکہ تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی لہٰذا ہم یہ کام اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک تم اس کی اجرت مقرر نہیں کرتے، انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ مقرر کردیا، تو ایک آدمی نے اس آدمی کے پاس جا کر سورت فاتحہ پڑھ کر دم کردیا، وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں بکریوں کا ریوڑ پیش کیا لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا، تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ لیں، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی شامل کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11399]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5736، م: 2201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5736، م: 2201
حدیث نمبر: 11400 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا شَيْئًا فَوَجَدْنَاهُ أَعْطَيْنَاهُ إِيَّاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11400]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1469، م: 1053 وانظر مابعده
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1469، م: 1053 وانظر مابعده
حدیث نمبر: 11401 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا حَمْزَةَ ، هِلَالِ بْنِ حِصْنٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ هِلَالِ بْنِ حِصْنٍ ، قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ، قَالَ: فَحَدَّثَ أَنَّهُ أَصْبَحَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَدْ عَصَبَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَوْ أُمُّهُ: ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ، فَسَأَلَهُ، فَأَعْطَاهُ، وَأَتَاهُ فُلَانٌ، فَسَأَلَهُ، فَأَعْطَاهُ، فَقَالَ: قُلْتُ: حَتَّى أَلْتَمِسَ شَيْئًا، قَالَ: فَالْتَمَسْتُ، فَأَتَيْتُهُ، قَالَ حَجَّاجٌ: فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ اسْتَعَفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ اسْتَغْنَى يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا إِمَّا أَنْ نَبْذُلَ لَهُ، وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِيَهُ أَبُو حَمْزَةَ الشَّاكُّ، وَمَنْ يَسْتَعِفُّ عَنَّا أَوْ يَسْتَغْنِي أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّنْ يَسْأَلُنَا"، قَالَ: فَرَجَعْتُ، فَمَا سَأَلْتُهُ شَيْئًا، فَمَا زَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْزُقُنَا، حَتَّى مَا أَعْلَمُ فِي الْأَنْصَارِ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْثَرَ أَمْوَالًا مِنَّا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بلال بن حصن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا، ایک موقع پر ہم دونوں بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن جب صبح ہوئی تو انہوں نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا، ان کی بیوی یا والدہ نے ان سے کہا کہ فلاں فلاں آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر امداد کی درخواست کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دے دیا لہٰذا تم بھی جا کر ان سے درخواست کرو، میں نے کہا کہ میں پہلے تلاش کرلوں کہ میرے پاس جو کچھ ہے تو نہیں، تلاش کے بعد جب مجھے کچھ نہ ملا تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تے جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے، اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص ہم سے کچھ مانگے اور ہمارے پاس موجود بھی ہو تو ہم اسے دے دیں گے، یا پھر اس سے غمخواری کریں گے، یہ سن کر آدمی واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ نہ مانگا اس کے بعد اللہ نے ہمیں اتنا رزق عطاء فرمایا کہ اب میرے علم کے مطابق انصار میں ہم سے زیادہ مالدار گھرانہ کوئی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11401]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1469، م: 1053 هلال بن حصن وأبو حمزة لم يؤثر توثيقهما عن غير ابن حبان، وقد روي عن كل منهما اثنان، وأبو حمزة متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1469، م: 1053 هلال بن حصن وأبو حمزة لم يؤثر توثيقهما عن غير ابن حبان، وقد روي عن كل منهما اثنان، وأبو حمزة متابع
حدیث نمبر: 11402 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، أَبُو حَمْزَةَ ، هِلَالَ بْنَ حِصْنٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ حِصْنٍ أَخَا بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ دَارَ أَبِي سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11402]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 11403 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مِنْكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ عَلِمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خواہ اسے دیکھ لے یا مشاہدہ کرلے یا سن لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11403]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11404 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 3004
الحكم: إسناده صحيح، م: 3004