بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 38 از 48
حدیث نمبر: 11725 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ، فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ، فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 18".
حدیث نمبر: 11726 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ" , قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مہمان کا اکرام کب تک ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین دن تک، اس کے بعد اگر وہ وہاں ٹھہرتا ہے تو وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11726]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11727 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور بعد میں اسے کسی دوسری چیز میں خیر نظر آئے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے ترک کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11727]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
الحكم: إسناده ضعيف، وهو إسناد الحديث رقم : 11717
حدیث نمبر: 11728 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ أَثْنَى عَلَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ سَبْعَةَ أَضْعَافٍ لَمْ يَعْمَلْهَا، وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ الْعَبْدَ أَثْنَى عَلَيْهِ مِنَ الشَّرِّ سَبْعَةَ أَضْعَافٍ لَمْ يَعْمَلْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب اللہ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس کی طرف خیر کر کے سات ایسے کام پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو شر کے سات ایسے کام اس کی طرف پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11728]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11729 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٍ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" قَالَ إِبْلِيسُ: أَيْ رَبِّ، لَا أَزَالُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ , قَالَ: فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11729]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11730 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ، وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ، وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ، حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمْ الْقَالَةُ، حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الْحَيَّ قَدْ وَجَدُوا عَلَيْكَ فِي أَنْفُسِهِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْفَيْءِ الَّذِي أَصَبْتَ، قَسَمْتَ فِي قَوْمِكَ، وَأَعْطَيْتَ عَطَايَا عِظَامًا فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ، وَلَمْ يَك فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ، قَالَ:" فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِكَ يَا سَعْدُ؟" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِي، وَمَا أَنَا؟ قَالَ:" فَاجْمَعْ لِي قَوْمَكَ فِي هَذِهِ الْحَظِيرَةِ" قَالَ: فَخَرَجَ سَعْدٌ، فَجَمَعَ النَّاسَ فِي تِلْكَ الْحَظِيرَةِ، قَالَ: فَجَاءَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَتَرَكَهُمْ، فَدَخَلُوا، وَجَاءَ آخَرُونَ فَرَدَّهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: قَدْ اجْتَمَعَ لَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنْكُمْ وَجِدَةٌ وَجَدْتُمُوهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ؟ وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ؟ وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ؟" , قَالُوا: بَلْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ , قَالَ:" أَلَا تُجِيبُونَنِي يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ"، قَالُوا: وَبِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ , قَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَصُدِّقْتُمْ، أَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَعَائِلًا فَأَغْنَيْنَاكَ، أَوَجَدْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا، تَأَلَّفْتُ بِهَا قَوْمًا لِيُسْلِمُوا، وَوَكَلْتُكُمْ إِلَى إِسْلَامِكُمْ؟ أَفَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رِحَالِكُمْ؟ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْأَنْصَارَ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ". قَالَ: فَبَكَى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ , وَقَالُوا: رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ قِسْمًا وَحَظًّا , ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَفَرَّقُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش اور دیگر قبائل عرب میں کچھ چیزیں تقسیم کیں، انصار کے حصے میں اس میں سے کچھ بھی نہ آیا، یہ چیز ان کے ذہن میں آئی اور کثرت سے یہ باتیں ہونے لگیں حتیٰ کہ ایک آدمی نے یہ بھی کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی قوم سے جا ملے ہیں، یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! انصار کا یہ قبیلہ آپ کے متعلق اپنے ذہن میں بوجھ کا شکار ہے کہ آپ نے اس مال غنیمت میں کیا طریقہ اختیار فرمایا: آپ نے اسے اپنی قوم میں تقسیم کردیا اور قبائل عرب کو بڑے بڑے عطیے دیئے اور انصار کا اس میں سے کچھ بھی حصہ نہ ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ سعد! اس معاملے میں تم کس طرف ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری کیا حیثیت ہے، میں تو اپنی قوم کا صرف ایک فرد ہوں اور اس کے علاوہ میں کیا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بارے میں اپنی قوم کو جمع کرو۔ چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے سب کو جمع کرلیا، کچھ مہاجرین بھی آئے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی جانے دیا چنانچہ وہ اندر چلے گئے، کچھ دیگر مہاجرین آئے تو انہوں نے روک دیا، الغرض! جب سب جمع ہوگئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انصار جمع ہوگئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اے گروہ انصار! یہ کیا باتیں ہیں جو مجھے تمہارے طرف سے پہنچ رہی ہیں کہ تمہیں کچھ ناراضگی ہے۔ کیا تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا: کیا تم مالی تنگدستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں غناء سے سرفراز فرمایا؟ تم ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے کہ اللہ نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈالی؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کا احسان اور مہربانی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ بخدا! اگر تم چاہو تو یہ کہہ سکتے ہو اور اس میں تم سچے ہوگے، آپ ہمارے پاس اس حال میں آئے تھے کہ آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے، ہم نے آپ کو امن دیا؟ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ گائے اور بکریاں لے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا، اے اللہ! انصار پر، ان کے بیٹوں پر اور ان کے پوتوں پر رحم فرما، اس پر وہ سب رونے لگے حتیٰ کہ ان کی ڈاڑھیاں ان کے آنسوؤں سے تر ہوگئیں اور وہ کہنے لگے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اپنے حصے اور تقسیم کے اعتبار سے راضی ہیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چلے گئے اور وہ لوگ بھی منتشر ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11730]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11731 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، ثُمَّ الظَّفَرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمأْجُوجُ، يَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96، فَيَغْشَوْنَ الْأَرْضَ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ، حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَبَسًا، حَتَّى إِنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهَرِ، فَيَقُولُ: قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا أَحَدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ، قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ: ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ مُخْتَضِبَةً دَمًا لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ، فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ، كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى لَا يُسْمَعُ لَهُمْ حِسًّا، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ فَيَنْظُرَ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ, قَالَ: فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِذَلِكَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِهِ، قَدْ أَظَنَّهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَنْزِلُ، فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلَا أَبْشِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ , فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ، فَمَا يَكُونُ لَهَا رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ، فَتَشْكَرُ عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا تَشْكَرُ عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَابَتْهُ قَطُّ".
حدیث نمبر: 11732 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ قَدْ احْتَرَقُوا، وَكَانُوا مِثْلَ الْحُمَمِ، فَلَا يَزَالُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَاءَ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حَمِيلَةِ السَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11732]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة و عنعنة أبى الزبير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة و عنعنة أبى الزبير
حدیث نمبر: 11733 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، سَهْمٍ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَوْمَ يَوْمَ عِيدٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ، إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عید کے دن کوئی روزہ نہیں ہے۔ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 1197، م : 827
الحكم: إسناده صحيح، خ : 1197، م : 827
حدیث نمبر: 11734 مسند احمد
قَالَ: وَوَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ لَهُ:" أَيْنَ تُرِيدُ؟" , قَالَ: أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَصَلَاةٌ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ" , يَعْنِي مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی شخص کو رخصت کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ تمہارا کہاں کے سفر کا ارادہ ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا ارادہ بیت المقدس کا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب "" مسجد حرام کو نکال کر "" باقی تمام مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار درجہ افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11734]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إسناد كسابقه
الحكم: إسناده صحيح إسناد كسابقه
حدیث نمبر: 11735 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْأَلُهُ، يَقُولُ: أَيْ عَبْدِي، رَأَيْتَ مُنْكَرًا فَلَمْ تُنْكِرْهُ، فَإِذَا لَقَّى اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ، قَالَ: يَا رَبِّ، وَثِقْتُ بِكَ، وَخِفْتُ النَّاسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم سے ہر چیز کا حساب ہوگا، حتیٰ کہ یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو اس سے رکا کیوں نہیں تھا؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا وہ کہہ دے گا کہ پروردگار! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11735]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11736 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، قَتَادَةُ ، عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا فِيمَنْ سَلَفَ، أَوْ قَالَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا: أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، قَالَ:" فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، قَالَ لِبَنِيهِ: أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَطُّ"، قَالَ: فَفَسَّرَهَا قَتَادَةُ: لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا،" وَإِنْ يَقْدِرْ اللَّهُ عَلَيْهِ يُعَذِّبْهُ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا، فَاسْحَقُونِي، أَوْ قَالَ فَاسْهَكُونِي، ثُمَّ إِذَا كَانَ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَذْرُونِي فِيهَا"، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ:" فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ"، قَالَ:" فَفَعَلُوا ذَلِكَ وَرَبِّي، فَلَمَّا مَاتَ أَحْرَقُوهُ، ثُمَّ سَحَقُوهُ، أَوْ سَهَكُوهُ، ثُمَّ ذَرُّوهُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ، قَالَ: فَقَالَ اللَّهُ لَهُ: كُنْ، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ قَائِمٌ، قَالَ اللَّهُ: أَيْ عَبْدِي، مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ؟ فَقَالَ: يَا رَبِّ مَخَافَتَكَ، أَوْ فَرَقًا مِنْكَ، قَالَ: فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا أَنْ رَحِمَهُ". قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَا أَبَا عُثْمَانَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ هَذَا مِنْ سَلْمَانَ غَيْرَ مَرَّةٍ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ: ثُمَّ أَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ، أَوْ كَمَا حَدَّثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا، جسے اللہ نے مال و اولاد سے خوب نواز رکھا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ میں تمہارا کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا لیکن تمہارے باپ نے کبھی کوئی نیکی کا کام نہیں کیا، اس لئے جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کو پیس لینا اور تیز آندھی والے دن سمندر میں بہا دینا اس نے ان سے اس پر وعدہ لیا، انہوں نے وعدہ کرلیا اور اس کے مرنے کے بعد وعدے پر عمل کیا، اللہ نے " کن " فرمایا تو وہ جیتا جاگتا کھڑا ہوگیا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، اللہ نے اسے یہ بدلہ دیا کہ اس کی مغفرت فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11736]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 6481، م : 2757
الحكم: إسناده صحيح، خ : 6481، م : 2757
حدیث نمبر: 11737 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَرْبَعَةُ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11737]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م : 1996، ولا يضر جهالة الرواة الذين يحدث عنهم قتادة، لأنهم جمع
الحكم: حديث صحيح، م : 1996، ولا يضر جهالة الرواة الذين يحدث عنهم قتادة، لأنهم جمع
حدیث نمبر: 11738 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قُسَيْمٍ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ قُسَيْمٍ مَوْلَى عُمَارَةَ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَمَسْجِدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11738]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ : 1197، وهذا إسناد ضعيف لجهالة قسيم مولي عمارة
الحكم: حديث صحيح، خ : 1197، وهذا إسناد ضعيف لجهالة قسيم مولي عمارة
حدیث نمبر: 11739 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا، رَجُلٌ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ، مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى أَرْنَبَتِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدْ اغْتَمَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم میں اس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ٹخنوں تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ناک کے بانسے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ سینے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ پورے کے پورے آگ میں دھنسے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11740 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" افْتَخَرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ النَّارُ: أَيْ رَبِّ، يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُلُوكُ وَالْعُظَمَاءُ وَالْأَشْرَافُ , وَقَالَتْ الْجَنَّةُ: أَيْ رَبِّ، يَدْخُلُنِي الْفُقَرَاءُ وَالضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مِنْ أَشَاءُ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَيُلْقَى فِيهَا أَهْلُهَا، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتُزْوَى، وَتَقُولُ: قَدْنِي قَدْنِي , وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَتَبْقَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْقَى، ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا بِمَا يَشَاءُ"، وقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ: وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَتَبْقَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْقَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔ چنانچہ جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا، جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے، اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس، بس، بس اور جنت کے لئے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11740]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م : 2847
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م : 2847
حدیث نمبر: 11741 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حُمَيْدٌ ، بَكْرٌ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرٌ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ ص، فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى سَجْدَتِهَا، قَالَ: رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ، وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا، قَالَ: فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ سورت ص لکھ رہے ہیں جب آیت سجدہ پر پہنچے تو دیکھا کہ دوات، قلم اور ہر وہ چیز جو وہاں موجود تھی، سب سجدے میں گرگئے، بیدار ہو کر انہوں نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ اس میں سجدہ تلاوت کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11741]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، بكر المزني لم يسمع من أبى سعيد الخدري
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، بكر المزني لم يسمع من أبى سعيد الخدري
حدیث نمبر: 11742 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11742]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11743 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ قَرَظَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَرَظَةَ يُحَدِّث، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قُلْتُ: سَمِعَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: اشْتَرَيْتُ أُضْحِيَّةً، فَجَاءَ الذِّئْبُ، فَأَكَلَ مِنْ ذَنَبِهَا، أَوْ أَكَلَ ذَنَبَهَا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے قربانی کے لئے ایک مینڈھا خریدا، اتفاق سے ایک بھیڑیا آیا اور اس کے سرین کا حصہ نوچ کر کھا گیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا (کہ اس کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11743]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، وجهالة محمد بن قرظة الأنصاري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، وجهالة محمد بن قرظة الأنصاري
حدیث نمبر: 11744 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، قَالَ: حدثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَنْتَ تَخْلُقُهُ؟ أَنْتَ تَرْزُقُهُ؟ أَقِرَّهُ قَرَارَهُ، أَوْ مَقَرَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے؟ کیا تم اسے رزق دو گے؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11744]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، حسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، حسن البصري لم يسمع من أبى سعيد