بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 41 از 48
حدیث نمبر: 11785 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، شَرِيكٌ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11785]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد، ولضعف شريك النخعي
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد، ولضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 11786 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٍ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِمَقْمَعٍ مِنْ حَدِيدٍ، لَتَفَتَّتَ، ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ، وَلَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يُهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا، لَأَنْتَنَ أَهْلُ الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر پہاڑوں پر لوہے کا ایک گرز مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں اور اگر " غساق " (جہنم کے پانی) کا ایک ڈول زمین پر بہا دیا جائے تو ساری دنیا میں بدبو پھیل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11786]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، علته دراج ، فانه ضعيف فى روايته عن أبى الهيثم ، وابن لهيعة - وإن يكن سيئ الحفظ - متابع
الحكم: إسناده ضعيف ، علته دراج ، فانه ضعيف فى روايته عن أبى الهيثم ، وابن لهيعة - وإن يكن سيئ الحفظ - متابع
حدیث نمبر: 11787 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: نَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَتَيْنَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ، فَهَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ قَالَ: فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً، فَانْطَلَقَ مَعَهَا، فَرَقَاهُ، فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْهُ ثَلَاثِينَ شَاةً , قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ: وَأَسْقَوْنَا لَبَنًا , فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا قُلْنَا لَهُ: أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا رَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , قَالَ: فَقُلْتُ لَهُمْ: لَا تُحْدِثُوا فِيهَا شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا بِسَهْمِي مَعَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہمارے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ ہمارے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ اس کے ساتھ ایک آدمی چل پڑا، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ یہ اچھی طرح جھاڑ پھونک کرسکتا ہے، اس نے اس آدمی کے پاس جا کر اسے دم کردیا، وہ تندرست ہوگیا، ان لوگوں نے انہیں تیس بکریوں کا ایک ریوڑ پیش کیا اور ہمیں دودھ پلایا، جب وہ واپس آیا تو ہم نے ان سے کہا کہ کیا تم جھاڑ پھونک کرنا جانتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، میں نے تو اسے صرف سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے۔ میں نے اس سے کہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے کوئی نیا کام نہ کرو، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے؟ پھر فرمایا کہ بکریوں کو وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11787]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 5007، م : 2201
الحكم: إسناده صحيح، خ : 5007، م : 2201
حدیث نمبر: 11788 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَلَمْ يَجُزْ سُفْيَانُ أَبَاهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11788]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وله إسنادان ، أحدهما موصول من طريق حماد بن سلمة ، والآخر مرسل من طريق سفيان الثوري ، وهذا معنى قوله : "ولم يجز سفيان أباه" يعني لم يذكر أبا سعيد يحيي بن عمارة والد عمرو بن يحيي
الحكم: حديث صحيح ، وله إسنادان ، أحدهما موصول من طريق حماد بن سلمة ، والآخر مرسل من طريق سفيان الثوري ، وهذا معنى قوله : "ولم يجز سفيان أباه" يعني لم يذكر أبا سعيد يحيي بن عمارة والد عمرو بن يحيي
حدیث نمبر: 11789 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فِيمَا يَحْسَبُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11789]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، و شك حماد فى وصله لا يضر ، فقد رواه يزيد بن هارون من طريقه من غير شك فى الرواية السابقه برقم : 11788
الحكم: حديث صحيح ، و شك حماد فى وصله لا يضر ، فقد رواه يزيد بن هارون من طريقه من غير شك فى الرواية السابقه برقم : 11788
حدیث نمبر: 11790 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھے، اللہ اس دن کی برکت سے اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 2840، م : 1153
الحكم: إسناده صحيح، خ : 2840، م : 1153
حدیث نمبر: 11791 مسند احمد
يَزِيدُ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَطَلَبَهَا، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا، فَتَسَجَّى لِلْمَوْتِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةَ الرَّاحِلَةِ حِينَ بَرَكَتْ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَاحِلَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں، جنگل میں جس کی سواری گم ہوگئی ہو، وہ اسے تلاش کرتا پھرے لیکن اسے وہ کہیں نہ مل سکے اور وہ موت کے لئے کپڑا اوڑھ کر لیٹ جائے، اچانک اس کے کان میں اپنی سواری کی آواز پہنچے اور وہ اپنا چہرہ کھول کر دیکھے تو وہ اس کی اپنی سواری ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11791]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11792 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ، فَأَخَذَهَا، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ، قَالَ: أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ، تَنْزِعُ مِنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَقَالَ: يَا عَجَبِي، ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي كَلَامَ الْإِنْسِ؟ فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَثْرِبَ، يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ , قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ، فَزَوَاهَا إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ لِلرَّاعِي:" أَخْبِرْهُمْ" , فَأَخْبَرَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ، وَشِرَاكُ نَعْلِهِ، وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ کرلے گیا، چرواہا اس کی تلاش میں نکلا اور اسے بازیاب کرا لیا، وہ بھیڑیا اپنی دم کے بل بیٹھ کر کہنے لگا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ تم نے مجھ سے میرا رزق " جو اللہ نے مجھے دیا تھا " چھین لیا؟ وہ چرواہا کہنے لگا تعجب ہے کہ ایک بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ کر مجھ سے انسانوں کی طرح بات کر رہا ہے؟ وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں؟ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یثرب میں لوگوں کو ماضی کی خبریں بتا رہے ہیں، جب وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتا ہوا مدینہ منورہ واپس پہنچا تو اپنی بکریوں کو ایک کونے میں چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ گوش گذار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کردی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور چرواہے سے فرمایا کہ لوگوں کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرو، اس نے لوگوں کے سامنے سارا واقعہ بیان کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے باتیں نہ کرنے لگیں اور انسان سے اس کے کوڑے کا دستہ اور جوتے کا تسمہ باتیں نہ کرنے لگے اور ان کی ران اسے بتائے گی کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11792]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 11793 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، رَجُلٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَتَادَةَ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبُو مَسْلَمَةَ ، وَالْجُرَيْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِالْحَقِّ إِذَا شَهِدَهُ، أَوْ عَلِمَهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةَ ، فَقَالَ: مَا هَذَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِالْحَقِّ، إِذَا شَهِدَهُ، أَوْ عَلِمَهُ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَحَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ أَنْ رَكِبْتُ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَمَلَأْتُ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ، قَالَ شُعْبَةُ: حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ: قَتَادَةُ، وَأَبُو مَسْلَمَةَ ، وَالْجُرَيْرِيُّ ، وَرَجُلٌ آخَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ اس کے علم میں آجائے، یہ کہہ کر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا بخدا! ہم نے یہ حالات دیکھے لیکن ہم کھڑے نہ ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11793]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وله إسنادان ، الأول : يزيد بن هارون .................. عن رجل عن أبى سعيد ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن أبى سعيد والثاني : يزيد بن هارون عن شعبة ، عن قتادة ، عن ابي نضرة عن أبى سعيد ، وهذا إسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح ، وله إسنادان ، الأول : يزيد بن هارون .................. عن رجل عن أبى سعيد ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن أبى سعيد والثاني : يزيد بن هارون عن شعبة ، عن قتادة ، عن ابي نضرة عن أبى
حدیث نمبر: 11794 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، قَالَ يَزِيدُ: حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَهُمَا يُرْغِمَانِ الشَّيْطَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11794]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 571
الحكم: إسناده صحيح، م : 571
حدیث نمبر: 11795 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَدْرٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى . قَالَ أَبِي: وَأَبُو بَدْرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11795]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 672
الحكم: إسناده صحيح، م : 672
حدیث نمبر: 11796 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً، وَإِنَّ أَكْثَرَ ذَاكُمْ غَدْرًا أَمِيرُ الْعَامَّةِ" , فَمَا نَسِيتُ رَفْعَهُ بِهَا صَوْتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو؟ یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا اور سب سے بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11796]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11797 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، أَبِي عَلْقَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ،" أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابُوا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ، لَهُنَّ أَزْوَاجٌ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَكَانَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَفُّوا، وَتَأَثَّمُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ. قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24".
حدیث نمبر: 11798 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حدثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: نِسَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11798]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11799 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : رَأَيْتُ رُؤْيَا وَأَنَا أَكْتُبُ سُورَةَ ص، قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُ السَّجْدَةَ، رَأَيْتُ الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِي انْقَلَبَ سَاجِدًا. قَالَ: فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ سورت ص لکھ رہے ہیں، جب آیت سجدہ پر پہنچے تو دیکھا کہ دوات، قلم اور ہر وہ چیز جو وہاں موجود تھی، سب سجدے میں گرگئے، بیدار ہو کر انہوں نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ اس میں سجدہ تلاوت کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11799]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، بكر المذني لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، بكر المذني لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11800 مسند احمد
رَوْحٌ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ:" فَمَنْ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو اور کون؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11800]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 3456، م : 2669
الحكم: إسناده صحيح، خ : 3456، م : 2669
حدیث نمبر: 11801 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ مُعَطَّلٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ صَفْوَانَ يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَيَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَلَا يُصَلِّي الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا تَقُولُ هَذِهِ؟" , قَالَ: أَمَّا قَوْلُهَا: يُفَطِّرُنِي، فَإِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ، وَقَدْ نَهَيْتُهَا أَنْ تَصُومَ , قَالَ: فَيَوْمَئِذٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصُومَ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا. قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا: إِنِّي أَضْرِبُهَا عَلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْ، فَتُعَطِّلُنِي , قَالَ:" لَوْ قَرَأَهَا النَّاسُ مَا ضَرَّكَ" , وَأَمَّا قَوْلُهَا: إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنِّي ثَقِيلُ الرَّأْسِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يُعْرَفُونَ بِذَاكَ، بِثِقَلِ الرُّءُوسِ، قَالَ:" فَإِذَا قُمْتَ فَصَلِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صفوان بن معطل کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت ہم لوگ یہیں تھے اور وہ کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج نکل آتا ہے، صفوان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس نے جو یہ کہا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ مجھے مارتا ہے تو یہ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتی ہے، میں نے اسے منع کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سورت تمام لوگوں کے لئے بھی کافی ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ میں اس کا روزہ ختم کروا دیتا ہوں تو یہ نفلی روزے رکھتی ہے، میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا، اسی دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور رہا اس کا یہ کہنا کہ میں فجر کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے تو ہمارے اہل خانہ کے حوالے سے یہ بات ہر جگہ مشہور ہے کہ ہم لوگ سورج نکلنے کے بعد ہی سو کر اٹھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم بیدار ہوا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11801]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، أبوبكر : وهو ابن عياش ثقه عابد إلا أنه لما كبر ساء حفظه ، وكتابه صحيح ، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح ، أبوبكر : وهو ابن عياش ثقه عابد إلا أنه لما كبر ساء حفظه ، وكتابه صحيح ، وهو متابع
حدیث نمبر: 11802 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، أَبِي الصِّدِّيقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُومُ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَكَانَ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَتَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَتَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ہم لوگ نماز ظہر اور عصر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، چنانچہ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پہلی دو رکعتوں میں تیس آیات کی تلاوت کے بقدر قیام فرماتے ہیں اور آخری دو رکعتوں میں اس کا نصف قیام فرماتے ہیں، جب کہ نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف اور آخری دو رکعتوں میں اس کا بھی نصف قیام فرماتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11802]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 452
الحكم: إسناده صحيح، م : 452
حدیث نمبر: 11803 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُو بِعَرَفَةَ هَكَذَا، يَعْنِي بِظَاهِرِ كَفِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11803]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
حدیث نمبر: 11804 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، بِشْرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11804]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي ، والاضطراب حمد بن سلمة فيه
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي ، والاضطراب حمد بن سلمة فيه