بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 26 از 48
حدیث نمبر: 11485 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ ، وَكَانَ بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ، شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مِثْلَهُ , وزاد فيه:" فَيَنْدَمُ، فَيَأْتِي بِهِ السَّادِنَ، فَيَقُولُ لَهُ: لَا نَقْبَلُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ".
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11486 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ مَوْلَى بَنِي عِتْر، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ" , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا أَنْتَ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ" , وَقَالَ بِيَدِهِ فَوْقَ رَأْسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اللہ کی مہربانی کے بغیر جنت میں نہیں جاسکے گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ بھی نہیں؟ فرمایا میں بھی نہیں، الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11486]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، وله شاهد من حديث أبى هريرة عند البخاري: 6463، ومسلم: 2816
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، وله شاهد من حديث أبى هريرة عند البخاري: 6463، ومسلم: 2816
حدیث نمبر: 11487 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَمَا كَانَ إِلَى الْكَعْبِ فَلَا بَأْسَ، وَمَا تَحْتَ الْكَعْبِ فَفِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11487]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد توبع
حدیث نمبر: 11488 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، سُوَيْدُ بْنُ نَجِيحٍ ، يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَجِيحٍ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: إِنَّ مِنَّا رِجَالًا هُمْ أَقْرَؤُنَا لِلْقُرْآنِ، وَأَكْثَرُنَا صَلَاةً، وَأَوْصَلُنَا لِلرَّحِمِ، وَأَكْثَرُنَا صَوْمًا، خَرَجُوا عَلَيْنَا بِأَسْيَافِهِمْ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید الفقیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہم میں کچھ آدمی تھے جو ہم سب سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرتے، سب سے زیادہ نماز پڑھتے، صلہ رحمی کرتے اور روزے رکھتے تھے، لیکن اب وہ ہمارے سامنے تلواریں سونت کر آگئے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11488]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4351، م: 1064
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4351، م: 1064
حدیث نمبر: 11489 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ" يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ، وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی اور اس پر سجدہ کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11489]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:519
الحكم: إسناده صحيح، م:519
حدیث نمبر: 11490 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فِي الْحَرِّ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ" , هَكَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ: مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو) نماز ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11490]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 538
الحكم: إسناده صحيح، خ: 538
حدیث نمبر: 11491 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَكَ الْمُثْرُونَ"، قَالُوا: إِلَّا مَنْ؟ قَالَ:" هَلَكَ الْمُثْرُونَ"، قَالُوا: إِلَّا مَنْ؟ قَالَ:" هَلَكَ الْمُثْرُونَ"، قَالَ: حَتَّى خِفْنَا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ , قَالَ:" إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسیعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے، ہم ڈر گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11491]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11492 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَخْرَجَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ، وَأَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَكُ يُخْرَجُ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , قَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رک تھا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 49
الحكم: إسناده صحيح، م: 49
حدیث نمبر: 11493 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ" يُصَلِّي مُتَوَشِّحًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلّو دونوں کندھوں پر ڈال کر نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 519
الحكم: إسناده صحيح، م: 519
حدیث نمبر: 11494 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ: بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَأْثُرُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّرْفِ، فَأَخَذَ يَدِي، فَذَهَبْتُ أَنَا وَهُوَ وَالرَّجُلُ، فَقَالَ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ تَأْثُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّرْفِ؟ فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُفَضِّلُوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خریدو فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2177، م:1584
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2177، م:1584
حدیث نمبر: 11495 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُجَالِدٍ ، أَبُو الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَنِينِ النَّاقَةِ وَالْبَقَرَةِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتُمْ فَكُلُوهُ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی اونٹنی یا گائے کا بچہ اس کے پیٹ میں ہی مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری طبیعت چاہے تو اسے کھا سکتے ہو کیونکہ اس کی ماں کا ذبح ہونا دراصل اس کا ذبح ہونا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11495]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 11496 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 538
الحكم: إسناده صحيح، خ: 538
حدیث نمبر: 11497 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبَا صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو) نمازِ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 538، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 538، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11498 مسند احمد
يَحْيَى ، التَّيْمِيِّ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ , أَوْ شَهِدَهُ , أَوْ سَمِعَهُ". فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ , وقَالَ أَبُو نَضْرَةَ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب ودبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کاش! میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11499 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، يَحْيَى ، عِيَاضٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِيَاضٍ , أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: أَحَدُنَا يُصَلِّي لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ أَتَاهُ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ، إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ، أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11499]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري
حدیث نمبر: 11500 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11501 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، عبد الرزاق ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى ، عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبَا سَعِيدٍ
حَدَّثَنَاه يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ . وحدثناه عبد الرزاق , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذان الإسنادان ضعيفان لجهالة عياض بن هلال الأنصاري، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذان الإسنادان ضعيفان لجهالة عياض بن هلال الأنصاري، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11502 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبُو رِفَاعَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رِفَاعَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ , قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِي أَمَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، وَإِنَّ اليهود تَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى؟ قَالَ:" كَذَبَتْ يهود، لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ، لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَرُدَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری ایک باندی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں، میں وہی چاہتا ہوں کہ جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11502]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى رفاعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى رفاعة
حدیث نمبر: 11503 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ:" أَنْتَ تَخْلُقُهُ، أَنْتَ تَرْزُقُهُ، أَقِرَّهُ قَرَارَهُ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ الْقَدَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے؟ کیا تم اسے رزق دو گے؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11503]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11504 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ . وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح