بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 25 از 48
حدیث نمبر: 11465 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَحَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: أخبرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ، حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِهَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَا، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25، قَالَ:" فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَقَامَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَصَلَّاهَا، وَأَحْسَنَ صَلَاتَهَا، كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ، فَصَلَّاهَا، وَأَحْسَنَ صَلَاتَهَا، كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ". قَالَ: وَذَلِكُمْ قَبْلَ أَنْ يُنْزِلَ اللَّهُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا سورة البقرة آية 239.
حدیث نمبر: 11466 مسند احمد
رَوْحٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَا وَاللَّهِ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى، الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11466]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11467 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَهْلَ عِلِّيِّينَ لَيَرَاهُمْ مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا" , قال أبو عبد الرحمن: سمعت أبى يقول: سمعت سفيان بن عيينة يقول في حديث النبي صلي الله عليه وسلم: يقول: وأنعما، وقال: وأهلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں ناز و نعم میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11467]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11468 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَنَسِيَ كَمْ صَلَّى، أَوْ قَالَ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ إِلَّا مَا سَمِعَهُ بِأُذُنِهِ، أَوْ وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11468]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري
حدیث نمبر: 11469 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكَ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً، أَوْ قَمِيصًا، أَوْ رِدَاءً، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ، وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ، وَمِنْ شَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو پہلے اس کا نام رکھتے مثلاً قمیص یا عمامہ، پھر یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ لباس پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے، اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11469]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، سعيد الجريري قد اختلط، وسماع عبدالله ابن المبارك منه بعد اختلاطه
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، سعيد الجريري قد اختلط، وسماع عبدالله ابن المبارك منه بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 11470 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ الْهَادِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ:" لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11470]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3885، م: 210
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3885، م: 210
حدیث نمبر: 11471 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان میں سفر پر جاتے تھے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا (مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11471]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1116 ,علي بن عاصم الواسطي- وإن يكن ضعيفا- قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1116 ,علي بن عاصم الواسطي- وإن يكن ضعيفا- قد توبع
حدیث نمبر: 11472 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَبُو أَحْمَدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ قَتَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ بِالْكُوفَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَتَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، فَكُنْتُ فِيهِمْ، فَأَتَيْنَا عَلَى قَرْيَةٍ، فَاسْتَطْعَمْنَا أَهْلَهَا، فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا شَيْئًا، فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، فِيكُمْ رَجُلٌ يَرْقِي؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مَلِكُ الْقَرْيَةِ يَمُوتُ , قَالَ: فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ، فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَرَدَّدْتُهَا عَلَيْهِ مِرَارًا فَعُوفِيَ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِطَعَامٍ وَبِغَنَمٍ تُسَاقُ , فَقَالَ أَصْحَابِي: لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ، لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسُقْنَا الْغَنَمَ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْنَاهُ، فَقَالَ:" كُلْ، وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ، وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟" , قَالَ: قُلْتُ: أُلْقِيَ فِي رُوْعِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دستہ روانہ فرمایا: میں بھی جس میں شامل تھا، ہم ایک بستی میں پہنچے اور اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا، تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے گروہ عرب! کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ میں نے اس سے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ ہماری بستی کا سردار مرجائے گا، ہم اس کے ساتھ چلے گئے اور میں نے کئی مرتبہ سورت فاتحہ پڑھ کر اسے دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا، انہوں نے ہمارے پاس کھانا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لئے بکریاں بھیجیں، میرے ساتھیوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی، لہٰذا ہم اسے اس وقت تک نہیں لیں گے جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس نہ پہنچ جائیں، چنانچہ ہم نے بکریاں ہانکتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو، میں نے عرض کردیا کہ میرے دل میں یوں ہی آگیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11472]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2776، م: 2201 وهذا إسناد فيه عبدالرحمن بن نعمان الانصاري فيه كلام
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2776، م: 2201 وهذا إسناد فيه عبدالرحمن بن نعمان الانصاري فيه كلام
حدیث نمبر: 11473 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتْشٍ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْيَشْكُرِيِّ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتْشٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ، قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ثُمَّ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثًا , ثُمَّ يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ , ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا , ثُمَّ يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرتے تو سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک کہہ کر تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے، پھر یوں کہتے اعوذبا اللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر دوبارہ یوں کہتے اعوذبا اللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11473]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف، جعفر بن سليمان الضبعي تفرد بهذا الحديث، وهو مختلف فيه، وعلي بن على الشكري مختلف فيه كذلك، وقد انفرد بهذا الحديث
الحكم: إسناد ضعيف، جعفر بن سليمان الضبعي تفرد بهذا الحديث، وهو مختلف فيه، وعلي بن على الشكري مختلف فيه كذلك، وقد انفرد بهذا الحديث
حدیث نمبر: 11474 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، جَعْفَرٌ ، الْمُعَلَّى الْقُرْدُوسِيِّ ، الْحَسَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنِ الْمُعَلَّى الْقُرْدُوسِيِّ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ، فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ، وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ، أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، کیوں کہ حق بات کہنے سے یا اہم بات ذکر کرنے سے موت قریب نہیں آجاتی اور رزق دور نہیں ہوجاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11474]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: فانه لا يقرب من اجل، ولا يباعد من رزق ان يقول بحق او يذ كر بعظيم. وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن الحسن الصنعاني، ولانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: حديث صحيح دون قوله: فانه لا يقرب من اجل، ولا يباعد من رزق ان يقول بحق او يذ كر بعظيم. وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن الحسن الصنعاني، ولانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11475 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ ، هِشَامٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، وَقَالَ يَزِيدُ تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں، ہم اس میں سے دو صاع کھجوریں مثلاً ایک صاع کے بدلے میں دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو صاع ایک صاع کے بدلے دینا صحیح نہیں، اسی طرح دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے میں اور دو درہم ایک درہم کے بدلے میں دینا بھی صحیح نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11475]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2080، م: 1595
حدیث نمبر: 11476 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1301، م: 959
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1301، م: 959
حدیث نمبر: 11477 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو رِفَاعَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رِفَاعَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ لِي وَلِيدَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، وَأَنَا أُرِيدُ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ، وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، وَإِنَّ اليهود تَزْعُمُ أَنَّ الْمَوْءُودَةَ الصُّغْرَى الْعَزْلُ، فَقَالَ:" كَذَبَتْ يهود، إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهُ، لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری ایک باندی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں، میں وہی چاہتا ہوں جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11477]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال بن ابي رفاعة، سلف الكلام عنه فى رواية 11288، واسمه هناك أبو مطيع بن رفاعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال بن ابي رفاعة، سلف الكلام عنه فى رواية 11288، واسمه هناك أبو مطيع بن رفاعة
حدیث نمبر: 11478 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، عِيَاضٌ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عِيَاضٌ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقَالَ: إِنَّ أَحَدَنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فِي صَلَاتِكَ، فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ، إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ، أَوْ سَمِعَ صَوْتًا بِأُذُنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11478]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري
حدیث نمبر: 11479 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ ، أَبُو الْجَوْزَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ غَيْرَ مَرَّةٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، وَأَقَلُّ، قَالَ: ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّةً أُخْرَى، وَالشَّيْخُ حَيٌّ، فَأَتَيْتُهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ:" وَزْنًا بِوَزْنٍ , قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّكَ قَدْ أَفْتَيْتَنِي اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ، فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي بِهِ مُنْذُ أَفْتَيْتَنِي , فَقَالَ: إِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَنْ رَأْيِي، وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَرَكْتُ رَأْيِي إِلَى حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کمی بیشی کے ساتھ لیکن نقد سونے چاندی کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دو کے بدلے میں ایک یا کمی بیشی کے ساتھ نقد ہو تو کوئی حرج نہیں، کچھ عرصے کے بعد مجھے دوبارہ حج کی سعادت نصیب ہوئی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت تک حیات تھے، میں نے ان سے دوبارہ وہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نقد کے ساتھ دونوں کا وزن بھی برابر ہو، میں نے ان سے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے مجھے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی جائز ہے اور میں تو اس وقت سے لوگوں کو بھی یہی مسئلہ بتارہا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ یہ میری رائے تھی، بعد میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی تو میں نے حدیث کے سامنے اپنی رائے کو ترک کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11479]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11480 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، نَافِعٍ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ بِحَدِيثٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الصَّرْفِ , قَالَ: فَقَدِمَ أَبُو سَعِيدٍ فَنَزَلَ هَذِهِ الدَّارَ، فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ بِيَدِي وَيَدِ الرَّجُلِ، حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا سَعِيدٍ فَقَامَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُنِي هَذَا عَنْكَ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : نَعَمْ، بَصُرَ عَيْنِي، وَسَمِعَ أُذُنِي , وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ، فَمَا نَسِيتُ قَوْلَهُ بِإِصْبَعَيْهِ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، أَلَا لَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ، وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خریدو فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس گھر میں آگئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11480]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11481 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ أَبِي: وحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11481]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، م: 672
الحكم: إسناداه صحيحان، م: 672
حدیث نمبر: 11482 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُمْ" خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلُوا رُفَقَاءَ، رُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ، وَرُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ، قَالَ: فَنَزَلْتُ فِي رُفْقَةِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ مَعَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَنَزَلْنَا بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ، وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ حَامِلٌ، فَقَالَ لَهَا الْأَعْرَابِيُّ: أَيَسُرُّكِ أَنْ تَلِدِي غُلَامًا؟ إِنْ أَعْطَيْتِنِي شَاةً وَلَدْتِ غُلَامًا، فَأَعْطَتْهُ شَاةً وَسَجَعَ لَهَا أَسَاجِيعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاةَ، فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ، قَالَ رَجُلٌ: أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ فَأَخْبَرَهُمْ، قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ مُتَبَرِّيًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَيِّئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر روانہ ہوئے اور جب پڑاؤ کیا تو مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے، میں اس ٹولی میں چلا گیا جہاں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی آدمی بھی تھا، ہم لوگ دیہاتیوں کے جس گھر میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں ایک عورت " امید " سے تھی، اس دیہاتی نے اس خاتون سے کہا کہ کیا تمہاری خواہش ہے کہ تمہارے یہاں بیٹا پیدا ہو؟ اگر تم مجھے ایک بکری دو تو تمہارے یہاں بیٹا پیدا ہوگا، اس عورت نے اسے ایک بکری دے دی اور اس دیہاتی نے ایک وزن کے کئی ہم قافیہ الفاظ اس کے سامنے (منتر کے طور پر) پڑھے اور پھر بکری ذبح کرلی۔ جب لوگ کھانے کے لئے دستر خوان پر بیٹھے تو ایک آدمی نے لوگوں سے کہا کیا آپ کو معلوم بھی ہے کہ یہ بکری کیسی ہے؟ پھر اس نے لوگوں نے سارا واقعہ سنایا تو میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے حلق میں انگلیاں ڈال کر قے کر رہے ہیں اور اسے باہر نکال رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11483 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَزَعَةُ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي قَزَعَةُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَعْجَبَنِي، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، وَكَانَ فِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: آَنْتَ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، قَالَ: فَأُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعُ؟ نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ زَوْجِهَا، أَوْ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا صِيَامَ فِي يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَمِعْتُهُ يَقُول:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ: صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قزعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو وہ مجھے اچھی لگی، میں نے ان کے قریب جا کر ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ اس پر وہ شدید ناراض ہوئے اور کہنے لگے کیا میں کوئی ایسی حدیث بیان کروں گا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نہ سنی ہو؟ ہاں! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر یا محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو دن یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ نہ رکھا جائے۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو نمازوں یعنی نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل نہ پڑھے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11483]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
حدیث نمبر: 11484 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْمِعْوَلِيُّ ، الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ الْمِعْوَلِيُّ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي، عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ، وَزَلَازِلَ، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، وَيَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ، وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ غِنًى، فَلَا يَحْتَاجُ أَحَدٌ إِلَى أَحَدٍ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: مَنْ لَهُ فِي الْمَالِ حَاجَةٌ؟ قَالَ: فَيَقُومُ رَجُلٌ، فَيَقُولُ: أَنَا , فَيُقَالُ لَهُ: إِيتِ السَّادِنَ يَعْنِي الْخَازِنَ، فَقُلْ لَهُ: قَالَ لَكَ الْمَهْدِيُّ: أَعْطِنِي , قَالَ: فَيَأْتِي السَّادِنَ فَيَقُولُ لَهُ: فَيُقَالُ لَهُ: احْتَثِي، فَيَحْتَثِي، فَإِذَا أَحْرَزَهُ قَالَ: كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ نَفْسًا أَوَ عَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ، قَالَ: فَيَمْكُثُ سَبْعَ سِنِينَ، أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ، أَوْ تِسْعَ سِنِينَ، ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ أَوْ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں مہدی کی خوشخبری سناتا ہوں جو میری امت میں اس وقت تک ظاہر نہ ہوگا جب اختلافات اور زلزلے بکثرت ہوں گے اور وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہوگی، اس سے آسمان والے بھی خوش ہوں گے اور زمین والے بھی اور اس کے زمانے میں اللہ امت محمدیہ کے دلوں کو غناء سے بھر دے گا اور کوئی کسی کا محتاج نہ رہے گا، حتیٰ کہ وہ ایک منادی کو حکم دے گا اور وہ نداء لگاتا پھرے گا کہ جسے مال کی ضرورت ہو وہ ہمارے پاس آجائے، تو صرف ایک آدمی اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ مجھے ضرورت ہے، وہ اس سے کہے گا کہ تم خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ مجھے مال عطاء کرو، خزانچی حسب حکم اس سے کہے گا کہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اٹھالو، جب وہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر باندھ لے گا تو اسے شرم آئے گی اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ میں تو امت محمدیہ میں سب سے زیادہ بھوکا نکلا، کیا میرے پاس اتنا نہیں تھا جو لوگوں کے پاس تھا۔ (یہ سوچ کر وہ سارا مال واپس لوٹا دے گا، لیکن وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ ہم لوگ دے کر واپس نہیں لیتے) سات، یا آٹھ، یا نو سال تک یہی صورت حال رہے گی، اس کے بعد زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11484]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال العلاء بن بشير المزني، وجهالة المعلي بن زياد القردوسي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال العلاء بن بشير المزني، وجهالة المعلي بن زياد القردوسي