بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 7 از 48
حدیث نمبر: 11105 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَحْلِبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1452، م: 1865 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1452، م: 1865 .
حدیث نمبر: 11106 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمن يَعْنِي ابْنَ الْأَصْبَهَانِيِّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمن يَعْنِي ابْنَ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهِ حَجَبُوهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے تین بچے آگے بھیج دے، وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11106]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 101، م: 2633، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم .
الحكم: حديث صحيح، خ: 101، م: 2633، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم .
حدیث نمبر: 11107 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَعْمَشِ ، سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ: مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا كَاهِنٌ، وَلَا مَنَّانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان پانچ سے کوئی آدمی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا، عادی شراب خور، جادو پر یقین رکھنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کاہن اور احسان جتانے والا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11107]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .
حدیث نمبر: 11108 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَلَسْتَ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" أَلَسْتَ تَمْنَحُ مِنْهَا؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" أَلَسْتَ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہجرت کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کسی کو ہدیہ کے طور پر بھی دے دیتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کیا تم ان کا دودھ اس دن دوہتے ہو جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لے جاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا پھر سات سمندر پار کر بھی عمل کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1452، م:1865
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1452، م:1865
حدیث نمبر: 11109 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَبَا النَّجِيبِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَحَدَّثَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا، فَارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَأَلْقَى خَاتَمَهُ وَجُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ أُذِنَ لَهُ، وَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْرَضْتَ عَنِّي قَبْلُ حِينَ جِئْتُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ، وَكَانَ قَدْ قَدِمَ بِحُلِيٍّ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ غَيْرُ مُغْنٍ عَنَّا شَيْئًا إِلَّا مَا أَغْنَتْ حِجَارَةُ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْذُرْنِي فِي أَصْحَابِكَ لَا يَظُنُّونَ أَنَّكَ سَخِطْتَ عَلَيَّ بِشَيْءٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَذَرَهُ وَأَخْبَرَ أَنَّ الَّذِي كَانَ مِنْهُ إِنَّمَا كَانَ لِخَاتَمِهِ الذَّهَبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نجران سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا اور اس سے کچھ بھی نہ پوچھا، وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس واپس چلا گیا اور اسے سارا واقعہ بتایا، اس نے کہا کہ ضرور تمہارا کوئی معاملہ ہے، تم دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جاتے ہوئے اپنی انگوٹھی اور اپنا جبہ " جو اس نے زیب تن کیا ہوا تھا " اتاردیا، اس مرتبہ جب اس نے اجازت چاہی تو اسے اجازت مل گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جواب بھی دیا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں جب پہلے آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے اعراض فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کی ایک چنگاری تھی، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر تو میں بہت سی چنگاریاں لے کر آیا ہوں، دراصل وہ بحرین سے بہت سا زیور لے کر آیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم وہ چیز لے کر آئے جس کا ہمیں صرف اتنا ہی فائدہ ہوسکتا ہے جتنا پتھریلے علاقے کے پتھروں سے، البتہ یہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے۔ پھر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! اپنے صحابہ کے سامنے میری طرف سے عذر داری کردیجئے تاکہ وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ آپ کسی وجہ سے مجھ سے ناراض ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس کی طرف سے عذر داری کرلی اور لوگوں کو دیا کہ اس کے ساتھ اعراض ان کی سونے کی انگوٹھی کی وجہ سے تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11109]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى النجيب .
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى النجيب .
حدیث نمبر: 11110 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ:" أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور پیچھے رہنے والے کے متعلق فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے پیچھے اس کے اہل خانہ اور مال و دولت کا اچھے طریقے سے خیال رکھتا ہے، اسے جہاد پر نکلنے والے کا نصف ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1896 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1896 .
حدیث نمبر: 11111 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنُ هُبَيْرَةَ ، حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ 12 أَبِي 12: لَيْسَ مَرْفُوعًا، قَالَ:" لَا يَصْلُحُ السَّلَفُ فِي الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ وَالسُّلْتِ حَتَّى يُفْرَكَ، وَلَا فِي الْعِنَبِ وَالزَّيْتُونِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ حَتَّى يُمَجِّجَ، وَلَا ذَهَبًا عَيْنًا بِوَرِقٍ دَيْنًا، وَلَا وَرِقًا دَيْنًا بِذَهَبٍ عَيْنًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گندم، جو اور بغیر چھلکے کے جو میں بیع سلم اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ چھل نہ جائیں، انگور اور زیتون وغیرہ میں اس وقت تک نہ کی جائے جب تک ان میں مٹھاس نہ آجائے، اسی طرح نقد سونے کی ادھار چاندی کے عوض یا ادھار چاندی کی نقد سونے کے عوض بیع نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11111]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن الهيعة .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن الهيعة .
حدیث نمبر: 11112 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول:" إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ حِينَئِذٍ، فَلْيُصَلِّ فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ، وَلْيَجْعَلْ فِي بَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ چکے اور اپنے گھر لوٹ آئے تو وہاں بھی دو رکعتیں پڑھ لے اور اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا حصہ رکھا کرے، کیوں کہ نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ گھر میں خیر نازل فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11112]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولعنعنة أبى الزبير .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ولعنعنة أبى الزبير .
حدیث نمبر: 11113 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَبَا الْهَيْثَمِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ بَيَاضَ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دورانِ سجدہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11113]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة .
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة .
حدیث نمبر: 11114 مسند احمد
مُوسَى هُوَ ابْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه مُوسَى هُوَ ابْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دورانِ سجدہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11114]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه .
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه .
حدیث نمبر: 11115 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَاتَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ يَقْرَأُ اللَّيْلَ كُلَّهُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ أَوْ ثُلُثَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورت اخلاص ہی پر ساری رات گذار دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، سورت اخلاص نصف یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11115]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، والمحفوظ الثابت الصحيح فى هذا الحديث وغيره: انها تعدل ثلث القرآن دون شك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، والمحفوظ الثابت الصحيح فى هذا الحديث وغيره: انها تعدل ثلث القرآن دون شك
حدیث نمبر: 11116 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيَجْعَلْ طَرَفَهُ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے دونوں پلو اپنے کندھوں پر ڈال لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11116]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهعية .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهعية .
حدیث نمبر: 11117 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" زَجَرَهُ عَنْ ذَلِكَ، وَزَجَرَهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِبَوْلٍ"، وَهَذَا يَتْلُو حَدِيثَ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ؟، فَقَالَ: كُنَّا نَكْرَهُ ذَاكَ، ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرکے بیٹھنے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔ ابوالزبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے پھر انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11117]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر:1188
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر:1188
حدیث نمبر: 11118 مسند احمد
بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ الْحَبَطِيُّ ، أَبُو رُؤْبَةَ شَدَّادُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَيْسِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ الْحَبَطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو رُؤْبَةَ شَدَّادُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِي كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ يُصَلِّي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ"، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ"، فَذَهَبَ عُمَرُ، فَرَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ الَّتِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: فَكَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ، قَالَ:" يَا عَلِيُّ، اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ"، قَالَ: فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ فَرَجَعَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَمْ يُرَهْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فُوقِهِ، فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرا فلاں جگہ سے گذر ہوا وہاں ایک آدمی بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ عمدہ کیفیت میں نماز پڑھ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے قتل کردو، حضرت صدیق اکبر چلے گئے لیکن جب اسے سابقہ حالت پر دیکھا تو اسے قتل کرنا ان پر بوجھ بن گیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم جا کر اسے قتل کردو، وہ گئے تو انہوں نے بھی اسے اسی حالت پر دیکھا جس میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا، چنانچہ ان پر بھی اسے قتل کرنا بوجھ بن گیا اور وہ بھی واپس آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! میں نے اسے اتنے خشوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ اسے قتل کرنا مجھے اچھا نہ لگا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ تم جا کر اسے قتل کردو، وہ گئے تو انہیں وہ آدمی کہیں نظر نہ آیا، انہوں نے واپس آکر عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے وہ آدمی نہیں ملا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اور اس کے ساتھی قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور پھر اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر اپنے ترکش میں واپس آجائے، تم اس بدترین مخلوق کو قتل کردینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11118]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى رؤبة شداد بن عمران القيسي، وفي متنه نكارة .
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى رؤبة شداد بن عمران القيسي، وفي متنه نكارة .
حدیث نمبر: 11119 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُطَرِّفٌ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي نَوْفٍ ، سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ ، ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي نَوْفٍ ، عَنِ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَوَضَّأُ مِنْهَا وَهِيَ يُلْقَى فِيهَا مَا يُلْقَى مِنَ النَّتْنِ! فَقَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیر بضاعہ کے پانی سے وضو فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس میں تو اتنی گندگی ڈالی جاتی ہے، پھر بھی آپ اس سے وضو فرما رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11119]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن أبى نوف وسليط بن أيوب
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن أبى نوف وسليط بن أيوب
حدیث نمبر: 11120 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: فَقَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ نِصْفَ النَّهَارِ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي ذَلِكَ"، قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا تُضَارُّونَ، يَقُولُ: لَا تُمَارُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے رب کی زیارت ضرور کرو گے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا واقعی ہم اپنے رب کی زیارت کرسکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نصف النہار کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، فرمایا کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، فرمایا اسی طرح پروردگار کو دیکھنے میں بھی تمہیں کوئی دشواری نہ ہوگی، الاّیہ کہ تم چاند سورج کو دیکھنے میں دشواری محسوس کرنے لگو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11120]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 4581، م: 183
الحكم: صحيح، خ: 4581، م: 183
حدیث نمبر: 11121 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّهَا الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ"، وَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ إِذَا سَجَدْتُنَّ، لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11121]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره دون قوله: يا معشر النساء.... فهو حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي .
الحكم: حديث صحيح لغيره دون قوله: يا معشر النساء.... فهو حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي .
حدیث نمبر: 11122 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَحُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ الْعِجْلِيُّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَحُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا؟" فَجَاءَ فُلَانٌ، فَقَالَ: أَنَا قَالَ:" أَمِطْ"، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" أَمِطْ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ، لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ، هَاكَ يَا عَلِيُّ"، فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدَكَ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا، قَالَ مُصْعَبٌ: بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ایک دن اپنے دست مبارک میں جھنڈا پکڑا اسے ہلایا اور فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے کون اسے پکڑے گا؟ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس کردیا، پھر دوسرا آیا، اسے بھی واپس کردیا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کو معزز کیا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو کبھی راہ فرار اختیار نہیں کرے گا، علی! آگے آؤ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ جھنڈا لے کر روانہ ہوئے، حتیٰ کہ اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر اور فدک کو فتح کروا دیا اور وہاں کی عجوہ کھجور اور قدید لے کر آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11122]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، عبدالله بن عصمة العجلي أبو علوان الحنفي تفرد بهذا الحديث، وهو ممن لا يحتمل تفرده .
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، عبدالله بن عصمة العجلي أبو علوان الحنفي تفرد بهذا الحديث، وهو ممن لا يحتمل تفرده .
حدیث نمبر: 11123 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ فُلَانًا، يَقُولُ: خَيْرًا ذَكَرَ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُ دِينَارَيْنِ، قَالَ:" لَكِنْ فُلَانٌ لَا يَقُولُ ذَلِكَ وَلَا يُثْنِي بِهِ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ الْعَشَرَةِ إِلَى الْمِائَةِ، أَوْ قَالَ إِلَى الْمِائَتَيْنِ، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَسْأَلُنِي الْمَسْأَلَةَ، فَأُعْطِيهَا إِيَّاهُ، فَيَخْرُجُ بِهَا مُتَأَبِّطُهَا وَمَا هِيَ لَهُمْ إِلَّا نَارٌ"، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلِمَ تُعْطِيهِمْ، قَالَ:" إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلُونِي، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے فلاں فلاں دو آدمیوں کو خوب تعریف کرتے ہوئے یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے انہیں دو دینار عطاء فرمائے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن بخدا! فلاں آدمی ایسا نہیں ہے، میں نے اسے دس سے لے کر سو تک دینار دئیے ہیں، وہ یہ کہتا ہے اور نہ تعریف کرتا ہے، یاد رکھو! تم میں سے جو آدمی میرے پاس سے اپنا سوال پورا کر کے نکلتا ہے وہ اپنی بغل میں آگ لے کر نکلتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ انہیں دیتے ہی کیوں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں کیا کروں؟ وہ اس کے علاوہ مانتے ہی نہیں اور اللہ میرے لئے بخل کو پسند نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11124 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11124]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، وانظر ما قبله .
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، وانظر ما قبله .