يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: فَقَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ نِصْفَ النَّهَارِ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي ذَلِكَ"، قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا تُضَارُّونَ، يَقُولُ: لَا تُمَارُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے رب کی زیارت ضرور کرو گے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا واقعی ہم اپنے رب کی زیارت کرسکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نصف النہار کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، فرمایا کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری محسوس کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں، فرمایا اسی طرح پروردگار کو دیکھنے میں بھی تمہیں کوئی دشواری نہ ہوگی، الاّیہ کہ تم چاند سورج کو دیکھنے میں دشواری محسوس کرنے لگو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11120]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 4581، م: 183
الحكم: صحيح، خ: 4581، م: 183