بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 11 از 48
حدیث نمبر: 11185 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ أَنْ يُمْسِكَهَا بِيَدِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ واحِدٌ مِنْهَا، فَرَأَى نُخَامَاتٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَتَّهُنَّ بِهِ حَتَّى أَنْقَاهُنَّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ:" أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى أَوْ عَنْ يَسَارِهِ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا" وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، وَتَفَلَ يَحْيَى فِي ثَوْبِهِ، وَدَلَكَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کی ٹہنی کو بہت پسند فرماتے تھے اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس چھڑی سے صاف کردیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی سامنے سے آکر اس کے چہرے پر تھوک دے؟ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کے سامنے ہوتا ہے اور اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے، لہٰذا سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے، بلکہ بائیں پاؤں کے نیچے یا بائیں جانب تھوکے۔ اور اگر بہت جلدی ہو تو اس طرح کر کے مل لے، راوی نے اپنے کپڑے پر تھوک کر اسے مل کر دکھایا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11185]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ:414، م:548
الحكم: إسناده قوي، خ:414، م:548
حدیث نمبر: 11186 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنَّهَا تَدُورُ مِنَ السَّنَةِ، فَمَشَيْنَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ رَجَعَ، وَرَجَعْنَا مَعَهُ، وَأُرِيَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيَهَا، فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، فَأُرَانِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمَنْ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوَتْرِ مِنْهَا" وَهَاجَتْ عَلَيْنَا السَّمَاءُ آخِرَ تِلْكَ الْعَشِيَّةِ، وَكَانَ نِصْفُ الْمَسْجِدِ عَرِيشًا مِنْ جَرِيدٍ، فَوَكَفَ، فَوَالَّذِي هُوَ أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَرَأَيْتُهُ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَإِنَّ جَبْهَتَهُ وَأَرْنَبَةَ أَنْفِهِ لَفِي الْمَاءِ وَالطِّينِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا: ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور اس ذات کی قسم جس نے انہیں عزت بخشی اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اکیسویں شب کو نماز مغرب پڑھائی تو ان کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11186]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 218، 227، م: 1167 .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 218، 227، م: 1167 .
حدیث نمبر: 11187 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَقُولُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: قَالَ أَبِي : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى، فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ، قَالَ:" هُوَ هَذَا مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتَ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالرحمن بن ابی سعد رضی اللہ عنہ کا میرے پاس سے گذر ہوا، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنے والد صاحب سے اس مسجد کے متعلق کیا سنا ہے؟ جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میرے والد صاحب نے فرمایا تھا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کنکریوں سے مٹھی بھری اور انہیں زمین پر مار کر فرمایا وہ مدینہ منورہ کی یہ مسجد نبوی ہے، میں نے یہ حدیث سن کر عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی آپ کے والد صاحب کو اسی طرح ذکر کرتے ہوئے سنا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1398 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1398 .
حدیث نمبر: 11188 مسند احمد
يَحْيَى ، أُسَامَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ مِنْ مَرَضٍ، وَلَا وَصَبٍ، وَلَا حَزَنٍ، حَتَّى الْهَمَّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11188]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 2573
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 2573
حدیث نمبر: 11189 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي طَعَامِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے کھانے میں مکھی پڑجائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے اچھی طرح اس میں ڈبو دے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11189]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 11190 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٌ ، وَشُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَشُعْبَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 672 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 672 .
حدیث نمبر: 11191 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ،" فَصَامَ صَائِمُونَ، وَأَفْطَرَ آخَرُونَ، وَلَمْ يَعِبْ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1116 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1116 .
حدیث نمبر: 11192 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَكُونُ أُمَرَاءُ تَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ، أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، يَظْلِمُونَ، وَيَكْذِبُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جن پر ایسے حاشیہ بردار افراد چھا جائیں گے جو ظلم و ستم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر تعاون کرے تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے کہ ان کے جھوٹ کی تصدیق یا ان کے ظلم پر تعاون نہ کرنا پڑے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11192]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سليمان بن أبى سليمان .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سليمان بن أبى سليمان .
حدیث نمبر: 11193 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ِسَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح قال أحمد شاكر، م:2928
الحكم: إسناده صحيح قال أحمد شاكر، م:2928
حدیث نمبر: 11194 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ انتہائی سفید اور خالص مشک کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11194]
حدیث نمبر: 11195 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا، فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:1310، م:959
الحكم: إسناده صحيح، خ:1310، م:959
حدیث نمبر: 11196 مسند احمد
يَحْيَى ، عَوْفٍ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ، فَيَتَمَرَّقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:4351، م:1064
الحكم: إسناده صحيح، خ:4351، م:1064
حدیث نمبر: 11197 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عِيَاضٌ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَدَعَاهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَدَعَاهُ، فَأَمَرَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" تَصَدَّقُوا" فَفَعَلُوا، فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا، ثُمَّ قَالَ:" تَصَدَّقُوا" فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَانْتَهَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ قَالَ:" انْظُرُوا إِلَى هَذَا فَإِنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَدَعَوْتُهُ، فَرَجَوْتُ أَنْ تُعْطُوا لَهُ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، وَتَكْسُوهُ، فَلَمْ تَفْعَلُوا، فَقُلْتُ: تَصَدَّقُوا، فَتَصَدَّقُوا، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوا، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، خُذْ ثَوْبَكَ" وَانْتَهَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں داخل ہوا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کردو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، پھر یکے بعد دیگرے دو آدمی اور آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی یہی حکم دیا، پھر لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی، لوگ صدقات دینے لگے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان صدقات میں سے دو کپڑے لے کر اس آنے والے کو دے دئیے اور فرمایا کہ لوگو! صدقہ دو، اس پر اس آدمی نے ایک کپڑا صدقات میں ڈال دیا، اس کی اس حرکت پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی یہ حرکت ناگوار گذری، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، یہ مسجد میں پراگندہ حالت میں آیا تھا، میں نے اسے بلایا، مجھے امید تھی کہ تم اسے کچھ دے کر اس پر صدقہ کرو گے اور اسے صاف کپڑے پہناؤ دوگے، لیکن تم نے ایسا نہ کیا، پھر میں نے تم سے صراحۃً صدقہ کرنے کے لئے کہا، تم نے صدقہ کیا اور میں نے اس میں سے دو کپڑے اسے دے دئیے، پھر دوبارہ صدقہ کی ترغیب دی تو اس نے ان میں سے ایک کپڑا اس میں ڈال دیا، یہ اپنا کپڑالے لو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ڈانٹ کر فرمایا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11197]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 11198 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَوَاتِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ، فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ، وَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الظُّهْرَ، فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ، فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا".
حدیث نمبر: 11199 مسند احمد
أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ،، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِيهِ، قَالَ:" وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةَ الْخَوْفِ" فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا سورة البقرة آية 239.
حدیث نمبر: 11200 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: يُعْرَضُ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ، قَالَ: فَيَمُرُّ النَّاسُ مِثْلَ الْبَرْقِ، وَآخَرُونَ مِثْلَ الرِّيحِ، وَآخَرُونَ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجِدِّ، وَآخَرُونَ يَسْعَوْنَ سَعْيًا، وَآخَرُونَ يَمْشُونَ مَشْيًا، وَآخَرُونَ يَحْبُونَ حَبْوًا، وَآخَرُونَ يَزْحَفُونَ زَحْفًا، فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَلَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ، وَأَمَّا نَاسٌ فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبِهِمْ فَيُحْرَقُونَ، فَيَكُونُونَ فَحْمًا، ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ فِي الشَّفَاعَةِ، فَيُوجَدُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ، فَيُقْذَفُونَ عَلَى نَهَرٍ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ؟"، فَقَالَ:" وَعَلَى النَّارِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ، فَتَخْرُجُ أَوْ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ النَّارِ، فَيَكُونُ عَلَى شَفَتِهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، اصْرِفْ وَجْهِي عَنْهَا، قَالَ: فَيَقُولُ: وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، قَالَ: فَيَرَى شَجَرَةً، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرَتِهَا، قَالَ: فَيَقُولُ: وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، قَالَ: فَيَرَى شَجَرَةً أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا، فَيَقُولُ: وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، قَالَ: فَيَرَى الثَّالِثَةَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ، أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرَتِهَا، قَالَ: وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، قَالَ: فَيَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ أَصْوَاتَهُمْ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ" قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا:" فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا"، وَقَالَ الْآخَرُ:" يُدْخَلُ الْجَنَّةَ فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو جہنم کے پل پر لایا جائے گا جہاں آنکڑے، کانٹے اور اچکنے والی چیزیں ہوں گی، کچھ لوگ تو اس پر سے بجلی کی طرح گذر جائیں گے، کچھ ہوا کی طرح، کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، کچھ دوڑتے ہوئے، کچھ چلتے ہوئے، کچھ گھسیٹتے ہوئے اور کچھ اپنی سرین کے بل چلتے ہوئے گذریں گے، باقی جہنمی تو وہ اس میں زندہ ہوں گے نہ مردہ، البتہ کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا جائے گا اور وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دیں گے اور انہیں گروہ در گروہ جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر میں غوطہ دیا جائے گا اور وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کیچڑ میں دانہ اگ آتا ہے، اس کی مثال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " صبغاء " سے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزید فرمایا کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے، جہنم سے ایک آدمی نکل کر ان کے کنارے پہنچے گا اور کہے گا کہ پروردگار! میرا رخ جہنم سے پھیر دے، اللہ تعالیٰ اس سے یہ عہد و پیمان لے گا کہ تو اس کے بعد مجھ سے مزید کچھ نہ مانگے گا، اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے ایک کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور دوسرے کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنامزید دیا جائے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4581 ، 6574، 7438 ، م: 185
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4581 ، 6574، 7438 ، م: 185
حدیث نمبر: 11201 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ"، فَذَكَرَهُ قَالَ:" بِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ"، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةٌ تَنْبُتُ فِي الْغُثَاءِ؟"، وَقَالَ:" وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، انظر ماقبله
حدیث نمبر: 11202 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّفَاعَةَ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ، وَكَلَالِيبُ، تَخْطَفُ النَّاسَ، وَبِجَنْبَتَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ، سَلِّمْ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، انظر ماقبله
حدیث نمبر: 11203 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، أَيُّوبُ بْنُ حَبِيبٍ ، أَبِي الْمُثَنَّى ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ، فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ؟"، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، قَالَ:" أَبِنْهُ عَنْكَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ"، قَالَ: أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ، قَالَ:" فَأَهْرِقْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالمثنیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11204 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُجَالِدٍ ، أَبُو الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ، قَالَ:" اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ، فَإِنْ قَدَّرَ اللَّهُ شَيْئًا كَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عزل کے متعلق فرمایا تم جو مرضی کرتے رہو، اللہ نے تقدیر میں جو کچھ لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11204]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438،وهذا إسناد حسن فى الشواهد،مجالد بن سعيد-وإن كان فيه كلام-متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438،وهذا إسناد حسن فى الشواهد،مجالد بن سعيد-وإن كان فيه كلام-متابع