بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 3 از 48
حدیث نمبر: 11025 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ، ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ:" لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبلہ مسجد میں تھوک یا ناپاک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 414، م: 548 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 414، م: 548 .
حدیث نمبر: 11026 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ" اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کرکے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5625، م: 2023 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5625، م: 2023 .
حدیث نمبر: 11027 مسند احمد
سُفْيَانُ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً، وَقَالَ مَرَّةً: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ هُوَ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 858، م: 846 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 858، م: 846 .
حدیث نمبر: 11028 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ شَيْئًا؟، قَالَ: نَعَمْ بعلمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ هُوَ فِي النَّارِ" يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ازار کے متعلق پوچھا کہ آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی ارشاد سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں! یاد رکھو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11029 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبُو مُوسَى
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنْ حِلَقِ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ، فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ 63 أَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ، وقد قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ"، فَقَالَ: لَتَجِيئَنَّ بِبَيِّنَةٍ عَلَى الَّذِي تَقُولُ: وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى مَذْعُورًا أَوْ قَالَ: فَزِعًا، فَقَالَ: أَسْتَشْهِدُكُمْ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ، فَقُمْتُ مَعَهُ، وَشَهِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ انصار کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے پاس حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس آنے کا حکم دیا تھا، میں نے ان کے پاس جا کر تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی اور میں واپس آگیا، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے، اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ یا تو اس پر کوئی گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا، میں آپ میں سے کسی کو گواہ بنانے کے لئے آیا ہوں، اس پر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس معاملے میں تو آپ کے ساتھ ہم میں سے سب سے چھوٹی عمر کا لڑکا بھی جاسکتا ہے، میں ان لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا اس لئے میں ان کے ساتھ چلا گیا اور جا کر اس بات کی شہادت دے دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واقعی یہ فرمایا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11029]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6245، م: 2153 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6245، م: 2153 .
حدیث نمبر: 11030 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً، فَذَكَرَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11030]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1405،م:979
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1405،م:979
حدیث نمبر: 11031 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ أَبِي صَعْصَعَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي صَعْصَعَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قاَلَ لِي أَبُو سَعِيدٍ ، وَكَانَ فِي حُجْرَةٍ فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ، وَلَا حَجَرٌ" وقَالَ مَرَّةً: يَا بُنَيَّ، إِذَا كُنْتَ فِي الْبَرَارِيِّ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ، وَلَا حَجَرٌ وَلَا شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ"، قَال أَبِي: وَسُفْيَانُ مُخْطِئٌ فِي اسْمِهِ، وَالصَّوَابُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی صعصعہ رحمہ اللہ اپنے والد سے " جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے " نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا بیٹا! جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو چیز بھی " خواہ وہ جن و انس ہو، یا پتھر " اذان کی آواز سنتی ہے وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11031]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:609
الحكم: إسناده صحيح، خ:609
حدیث نمبر: 11032 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچالے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11032]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:3600
الحكم: إسناده صحيح، خ:3600
حدیث نمبر: 11033 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ضَمْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ أَبِي: قُلْتُ سُفْيَانُ سَمِعَهُ؟ قَالَ: زَعَمَ،" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11033]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1197،م:827
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1197،م:827
حدیث نمبر: 11034 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، وابن أبي لبيد ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وابن أبي لبيد ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ، مَرَّ بِنَا وَنَحْنُ نَنْقُلُ مَتَاعَنَا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مُعْتَكِفًا فَلْيَكُنْ فِي مُعْتَكَفِهِ، إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَنُسِّيتُهَا، وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، وَعَرِيشُ الْمَسْجِدِ جَرِيدٌ" فَهَاجَتْ السَّمَاءُ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ عَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا: ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11034]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2040، م: 1167 وله ثلاثة أسانيد: أولها حسن، والثاني والثالث صحيحان
الحكم: حديث صحيح، خ: 2040، م: 1167 وله ثلاثة أسانيد: أولها حسن، والثاني والثالث صحيحان
حدیث نمبر: 11035 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ، وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، قَالَ: وَغَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ، فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟"، فَقَالَ: هَا أَنَا وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، وَلَكِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَكَانَ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةُ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا، وَاسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ". قال عبد الله: قال أبي: قَالَ سُفْيَانُ 63 وَكَانَ الْأَعْمَشُ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پسینہ اور گھبراہٹ طاری ہوگئی، پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے اور موسم بہار میں اگنے والی خود رو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کرکے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھالیتا ہے، اسی طرح جو شخص مال حاصل کرے اس کے حق کے ساتھ، تو اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو ناحق اسے پالیتا ہے، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11035]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 921، 1465، م: 1052 .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 921، 1465، م: 1052 .
حدیث نمبر: 11036 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ"، قَالَ سُفْيَانُ: أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے، پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11036]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 308 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 308 .
حدیث نمبر: 11037 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٍ ، يَحْيَى ، هِلَالٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث موقوف) قَالَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ،" يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ خَبْطًا، وَإِنَّمَا هُوَ حَبَطًا".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 921، 1465، م: 1052 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 921، 1465، م: 1052 .
حدیث نمبر: 11038 مسند احمد
سُفْيَانَ ، عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) سَمِعْت سُفْيَانَ قَالَ:" وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ"، وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں اپنا نائب بنایا ہے، اب وہ دیکھے گا کہ تم کس قسم کے اعمال سر انجام دیتے ہو، یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11038]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1738 على بن زيد قد توبع .
الحكم: حديث صحيح، م: 1738 على بن زيد قد توبع .
حدیث نمبر: 11039 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُطَرِّفٍ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدْ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ، يَنْظُرُ مَتَى يُؤْمَرُ"، قَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: قُولُوا:" حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں ناز و نعم کی زندگی کیسے گزار سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور اپنے منہ سے لگا رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کانوں کو متوجہ کیا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے، مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا کہنا چاہئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو " حسبنا اللہ ونعم الوکیل علیٰ اللہ توکلنا " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11039]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، ولاضطرابه فيه .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، ولاضطرابه فيه .
حدیث نمبر: 11040 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدًٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدًٍ رِوَايَة، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَنَهَى" عَنْ صِيَامِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْر". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَنَهَى" عَنْ صَلَاتَيْنِ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور نمازعصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11040]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد فيه عبدالملك بن عميراللخمي قد تغير حفظه لكبر سنه .
الحكم: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد فيه عبدالملك بن عميراللخمي قد تغير حفظه لكبر سنه .
حدیث نمبر: 11041 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرًا ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے گی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کیا تم میں صحابی کا صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے گی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی اور کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں صحابی کے صحابی کا صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11041]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2897، م: 2532 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2897، م: 2532 .
حدیث نمبر: 11042 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرًا ، عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ عَمْرًا ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي مَنْ عَتَّابٌ؟،" لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنِ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ بِهِ كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ سات سال تک لوگوں سے بارش کو روکے رکھے، تو جب وہ بارش برسائے گا، اس وقت بھی لوگوں کا ایک گروہ ناشکری کرتے ہوئے یہی کہے گا کہ مجدح کے ستارے کی تاثیر سے ہم پر بارش ہوئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11042]
حکم دارالسلام
حديث حسن ، عتاب بن حنين روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقال الحافظ فى التقريب: مقبول .
الحكم: حديث حسن ، عتاب بن حنين روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقال الحافظ فى التقريب: مقبول .
حدیث نمبر: 11043 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ پیر کے دن قباء کی طرف گئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11043]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 180، م: 343 .
الحكم: إسناده قوي، خ: 180، م: 343 .
حدیث نمبر: 11044 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک اوقیہ چاندی کی قیمت اپنے پاس ہونے کے باوجود کسی سے سوال کرتا ہے، وہ الحاف (لپٹ کر سوال کرنا) کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11044]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .