سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرًا ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے گی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کیا تم میں صحابی کا صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے گی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی اور کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں صحابی کے صحابی کا صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11041]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2897، م: 2532 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2897، م: 2532 .