بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 6 از 48
حدیث نمبر: 11085 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ، وَمَنْ كَتَبَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 3004 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 3004 .
حدیث نمبر: 11086 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي رِفَاعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" السَّحُورُ أَكْلُهُ بَرَكَةٌ، فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جُرْعَةً مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے، اس لئے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، کیوں کہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11086]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى رفاعة .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى رفاعة .
حدیث نمبر: 11087 مسند احمد
شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، هَمَّامٌ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے (قرآن کریم کے علاوہ) کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 3004 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 3004 .
حدیث نمبر: 11088 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ جَابِرٌ :" كُنَّا نَكْرَهُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11088]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر مابعده، والنهي عن الشرب قائما ثبت من النبى صلى الله عليه و آله وسلم فى مسلم: 2025 .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر مابعده، والنهي عن الشرب قائما ثبت من النبى صلى الله عليه وسلم فى مسلم: 2025 .
حدیث نمبر: 11089 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" زَجَرَ عَنْ ذَاكَ، وَزَجَرَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِبَوْلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرکے بیٹھنے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11089]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ، وانظر ما قبله .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ، وانظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11090 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَتَحَ خَوْخَةً لَهُ، وَعِنْدَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ حَيَّةٌ، فَأَمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِهَا، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَنْ يُؤْذِنَهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی کھڑکی کھولی، تو وہاں سے ایک سانپ نکل آیا، اس وقت وہاں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سانپ کو مارنے کا حکم دیا، اس پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ انہیں مارنے سے پہلے مطلع کردیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11090]
حکم دارالسلام
إسناده حسن فى الشواهد، هشام بن سعد وهو المدني،فيه ضعف
الحكم: إسناده حسن فى الشواهد، هشام بن سعد وهو المدني،فيه ضعف
حدیث نمبر: 11091 مسند احمد
شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَا أَجِدُ لَكُمْ رِزْقًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے، جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے اور میں تمہارے حق میں صبر سے زیادہ وسیع رزق نہیں پاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11091]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ:1469، م:1053 وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ:1469، م:1053 وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11092 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِيهِ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا هَذَا تَكْتُبُونَ؟"، فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَقَالَ:" أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟"، فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ، فَقَالَ:" أَكِتَابٌ غَيْرُ كِتَابِ اللَّهِ؟ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ وأخَلِّصُوهُ"، قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ، قُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم أَنَتَحَدَّثُ عَنْكَ؟، قَالَ:" نَعَمْ تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟، قَالَ:" نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تَحَدَّثُون عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے نکلنے والے الفاظ کو لکھ رہے تھے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھنے لگے یہ تم لوگ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کتاب اللہ کی موجودگی میں ایک اور کتاب؟ کتاب اللہ کو خالص رکھو (دوسری چیزیں اس میں خلط ملط نہ کرو) چنانچہ ہم نے اس وقت تک جتنا لکھا تھا، اس تمام کو ایک ٹیلے پر جمع کرکے اسے آگ لگادی، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث بیان کرسکتے ہیں یا نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! میری احادیث بیان کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے، پھر ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم بنی اسرائیل کے واقعات بھی ذکر کرسکتے ہیں؟ فرمایا ہاں! وہ بھی بیان کرسکتے ہو، اس میں بھی کوئی حرج نہیں، کیوں کہ تم ان کے متعلق جو بات بھی بیان کروگے، ان میں اس سے بھی زیادہ تعجب خیز چیزیں ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11092]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد العدوي .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد العدوي .
حدیث نمبر: 11093 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَاقِفًا بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ ثَنْدُوَتَيْهِ، وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11093]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي .
حدیث نمبر: 11094 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چادر میں لپٹنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5822، م: 1512 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5822، م: 1512 .
حدیث نمبر: 11095 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الصديق النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصديق النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا، أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک دیا جائے گا اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص پورا لیا جائے گا اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2440 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2440 .
حدیث نمبر: 11096 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، فِرَاسُ بْنُ يَحْيَى الْهَمْدَانِيُّ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا فِرَاسُ بْنُ يَحْيَى الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَقَدْ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ مَا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ، قَالَ لِأَهْلِهِ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُوا نِصْفِي فِي الْبَحْرِ وَنِصْفِي فِي الْبَرِّ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ وَالْبَحْرَ فَجَمَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک ایسا آدمی بھی داخل ہوگا جس نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا ہوگا، یہ وہ آدمی ہوگا جس نے اپنے مرض الموت میں اپنے اہل خانہ کو وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کو پیس لینا اور اس کا آدھاحصہ سمندر میں بہا دینا اور آدھاحصہ خشکی میں اڑا دینا، اللہ نے بر و بحر کو حکم دیا اور انہوں نے اس کے سارے اجزاء اکٹھے کر دئیے اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اسی پر اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11096]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ:3478، م:2757 وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: صحيح لغيره، خ:3478، م:2757 وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11097 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، يَحْيَى ، أَبِي نَضْرَةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَوْفِيِّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَتْرِ، فَقَالَ:" أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ"۔
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11097]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 754 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 754 .
حدیث نمبر: 11098 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2440 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2440 .
حدیث نمبر: 11099 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَرَوْحٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" افْتَخَرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ النَّارُ: يَا رَبِّ، يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُلُوكُ وَالْأَشْرَافُ، وَقَالَتْ الْجَنَّةُ: أَيْ رَبِّ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْفُقَرَاءُ وَالْمَسَاكِينُ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَيُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا، فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، قَالَ: وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعَ قَدَمَهُ عَلَيْهَا، فَتُزْوَى، فَتَقُولُ قَدْنِي قَدْنِي، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَيَبْقَى فِيهَا أَهْلُهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى، فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔ چنانچہ جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا، جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے، اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس، بس، بس اور جنت کے لئے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11099]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2847 .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2847 .
حدیث نمبر: 11100 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ، وَمِنْهُمْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ إِلَى أَرْنَبَتِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَدْ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ"، قَالَ عَفَّانُ: مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدْ اغْتُمِرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم میں اس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ٹخنوں تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ ناک کے بانسے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ سینے تک آگ میں دھنسے ہوں گے، بعض لوگ دوسرے عذاب کے ساتھ ساتھ پورے کے پورے آگ میں دھنسے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11100]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11101 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، سَعْدٍ أَبِي الْمُجَاهِدِ الطَّائِيِّ ، عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي الْمُجَاهِدِ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَقَى مُؤْمِنًا شَرْبَةً عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ، وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ كَسَا مُؤْمِنًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کی پیاس پانی کے ایک گھونٹ سے بجھائے، قیامت کے دن اللہ اسے رحیق مختوم سے پلائے گا، جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائیں گے اور جو مسلمان کسی مسلمان کو برہنگی کی حالت میں کپڑے پہنائے، اللہ اسے جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11101]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العوفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العوفي
حدیث نمبر: 11102 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ" ثَلَاثَةٌ مَنْ قَالَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا"، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ" وَالرَّابِعَةُ لَهَا مِنَ الْفَضْلِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ابوسعید! تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو انہیں کہہ لیا کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کیا چیزیں ہیں؟ فرمایا جو اللہ کو اپنا رب بنا کر، اسلام کو اپنا دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا رسول بنا کر خوش اور راضی ہو، پھر فرمایا ابوسعید! ایک چوتھی چیز بھی ہے جس کی فضیلت زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11102]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة .
حدیث نمبر: 11103 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ يَدْعُو هَكَذَا، وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میدانِ عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11103]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي .
حدیث نمبر: 11104 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو إِسْرَائِيلَ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُلَائِيَّ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُلَائِيَّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11104]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، دون قوله: فإنهما لن يفترقا حتى يردا على الحوض ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .
الحكم: حديث صحيح بشواهده، دون قوله: فإنهما لن يفترقا حتى يردا على الحوض ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .