بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11092
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11092
حدیث نمبر: 11092 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِيهِ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا هَذَا تَكْتُبُونَ؟"، فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَقَالَ:" أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟"، فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ، فَقَالَ:" أَكِتَابٌ غَيْرُ كِتَابِ اللَّهِ؟ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ وأخَلِّصُوهُ"، قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ، قُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم أَنَتَحَدَّثُ عَنْكَ؟، قَالَ:" نَعَمْ تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟، قَالَ:" نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تَحَدَّثُون عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے نکلنے والے الفاظ کو لکھ رہے تھے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھنے لگے یہ تم لوگ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کتاب اللہ کی موجودگی میں ایک اور کتاب؟ کتاب اللہ کو خالص رکھو (دوسری چیزیں اس میں خلط ملط نہ کرو) چنانچہ ہم نے اس وقت تک جتنا لکھا تھا، اس تمام کو ایک ٹیلے پر جمع کرکے اسے آگ لگادی، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث بیان کرسکتے ہیں یا نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! میری احادیث بیان کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے، پھر ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم بنی اسرائیل کے واقعات بھی ذکر کرسکتے ہیں؟ فرمایا ہاں! وہ بھی بیان کرسکتے ہو، اس میں بھی کوئی حرج نہیں، کیوں کہ تم ان کے متعلق جو بات بھی بیان کروگے، ان میں اس سے بھی زیادہ تعجب خیز چیزیں ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11092]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد العدوي .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد العدوي .
← پچھلی حدیث (11091) باب پر واپس اگلی حدیث (11093) →