بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 9 از 48
حدیث نمبر: 11145 مسند احمد
يَزِيدُ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ عُمَرُ، فَرَجَعَ، فَلَقِيَهُ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ رَجَعْتَ؟، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَلْيَرْجِعْ"، قَالَ: لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ، فَأَتَى مَجْلِسَ قَوْمِهِ، فَنَاشَدَهُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَقُلْتُ أَنَا مَعَكَ، فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ، فَخَلَّا سَبِيلَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس آنے کا حکم دیا تھا، انہوں نے ان کے پاس جا کر تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی لیکن انہیں اجازت نہیں ملی اور وہ واپس آگئے، بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیا بات ہے تم واپس کیوں چلے گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو اس پر کوئی گواہ پیش کرو، ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنی قوم کی ایک مجلس میں آئے اور انہیں اللہ کا واسطہ دیا تو میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں، چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا اور جا کر اس بات کی شہادت دے دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6245، م: 2153 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6245، م: 2153 .
حدیث نمبر: 11146 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ، قَالَ:" اسْقِهِ عَسَلًا"، قَالَ: فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، قَالَ:" اسْقِهِ عَسَلًا"، قَالَ: فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ:" اسْقِهِ عَسَلًا"، قَالَ: فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ:" اسْقِهِ عَسَلًا"، قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ: فَسَقَاهُ، فَبَرَأَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّابِعَةِ:" صَدَقَ اللَّهُ، وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے جا کر شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ چوتھی مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جا کر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھائی نے جھوٹ بولا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11146]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5684، م: 2217 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5684، م: 2217 .
حدیث نمبر: 11147 مسند احمد
حَسَينٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الصِّدِّيقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَينٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحَدَّثَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْنُ أَخِي قَدْ عَرِبَ بَطْنُهُ، فَقَالَ:" اسْقِ ابْنَ أَخِيكَ عَسَلًا"، قَالَ: فَسَقَاهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ:" اسْقِ ابْنَ أَخِيكَ عَسَلًا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَقَ، وَكَذَبَ بَطْنُ ابْنِ أَخِيكَ"، قَالَ: فَسَقَاهُ فَعَافَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بھتیجے کو دست لگ گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جاکر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھتیجے کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله .
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله .
حدیث نمبر: 11148 مسند احمد
يَزِيدُ ، زَكَرِيَّا ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَدْ أَعْطَى اللَّهُ كُلَّ نَبِيٍّ عَطِيَّةً، فَكُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا، وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي لَيَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْعُصْبَةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلثَّلَاثَةِ وَلِلرَّجُلَيْنِ وَلِلرَّجُلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو ایک عطیہ کی پیشکش ہوئی اور ہر نبی نے اسے دنیا ہی میں وصول کرلیا، میں نے اپنا عطیہ اپنی امت کی سفارش کے لئے چھوڑ دیا ہے اور میری امت میں سے بھی ایک آدمی لوگوں کی جماعتوں میں سفارش کرے گا اور وہ اس کی برکت سے جنت میں داخل ہوں گے، کوئی پورے قبیلے کی سفارش کرے گا کوئی دس آدمیوں کی، کوئی تین آدمی کی، کوئی دو آدمیوں کی اور کوئی ایک آدمی کی سفارش کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11148]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي .
حدیث نمبر: 11149 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَحْرَمَ وَأَصْحَابُهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ، وَأَبِي قَتَادَةَ، فَاسْتَغْفَرَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا، وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہ نے اور " سوائے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے " احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حلق کرانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور قصر کرانے والوں کے لئے ایک مرتبہ مغفرت کی دعاء فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11149]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى إبراهيم الأشهلي الأنصاري .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى إبراهيم الأشهلي الأنصاري .
حدیث نمبر: 11150 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: خَطَبَ مَرْوَانُ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: تَرَى ذَلِكَ يَا أَبَا فُلَانٍ، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 49 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 49 .
حدیث نمبر: 11151 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ لَا يُرِيدُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِخْرَاجَهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ، وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ يُرِيدُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِخْرَاجَهُمْ يُمِيتُهُمْ فِيهَا إِمَاتَةً حَتَّى يَصِيرُوا فَحْمًا، ثُمَّ يُخْرَجُونَ ضَبَائِرَ فَيُلْقَوْنَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، أَوْ يُرَشُّ عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے دے گا، یہاں تک کہ وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے یہاں تک وہ گروہ در گروہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور انہیں جنت کی نہروں میں غوطہ دیا جائے گا تو ویسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11151]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4581، م: 185 الجريري- وإن اختلط، و سماع يزيد منه بعد اختلاطه - متابع .
الحكم: حديث صحيح، خ: 4581، م: 185 الجريري- وإن اختلط، و سماع يزيد منه بعد اختلاطه - متابع .
حدیث نمبر: 11152 مسند احمد
يَزِيدُ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَشَيَّعَهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَلَمْ يُشَيِّعْهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے اور قبر تک ساتھ جائے، اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھے، قبر تک نہ جائے اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11152]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11153 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي نَعَامَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ، فَلْيَقْلِبْ نَعْلَهُ، فَلْيَنْظُرْ فِيهَا، فَإِنْ رَأَى بِهَا خَبَثًا فَلْيُمِسَّهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی تو جوتیاں اتار دیں، لوگوں نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں نے اپنی جوتیاں کیوں اتار دیں؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم نے آپ کو جوتی اتارتے ہوئے دیکھا اس لئے ہم نے بھی اتار دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تو جبرائیل آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میری جوتی میں کچھ گندگی لگی ہوئی ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے تو وہ پلٹ کر اپنی جوتیوں کو دیکھ لے، اگر ان میں کوئی گندگی لگی ہوئی نظر آئے تو انہیں زمین پر رگڑ دے، پھر ان ہی میں نماز پڑھ لے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11154 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةُ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، هَمَّامٌ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، أَبِي رَافِعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي:" أَنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟، قَالَ: بَعْدَ قَتْلِ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ نَفْسًا؟، قَالَ: فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ بِهِ، فَأَكْمَلَ بِهِ مِائَةً، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟، فَقَالَ: وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ، اخْرُجْ مِنَ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا، فَاعْبُدْ رَبَّكَ فِيهَا، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ، فَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ فِي الطَّرِيقِ، قَالَ: فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، قَالَ: فَقَالَ: إِبْلِيسُ أَنَا أَوْلَى بِهِ، إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطُّ، قَالَ: فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ: إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا"، قَالَ هَمَّامٌ ، فَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَلَكًا فَاخْتَصَمُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ قَتَادَةَ، قَالَ: فَقَالَ: انْظُرُوا أَيُّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيْهِ فَأَلْحِقُوهُ بِأَهْلِهَا، قَالَ قَتَادَةُ: فَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ:" لَمَّا عَرَفَ الْمَوْتَ احْتَفَزَ بِنَفْسِهِ، فَقَرَّبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ، وَبَاعَدَ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ، فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِ الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہوتا ہے، یہ بات بھی میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے محفوظ کی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے، اس کے بعد (توبہ کرنے کے ارادہ سے) یہ دریافت کرنے نکلا کہ (روئے زمین پر) سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے بتایا فلاں شخص بڑا عالم ہے، یہ شخص اس کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ میں نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا ہے، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ عالم نے کہا نہیں، اس نے عالم کو بھی قتل کردیا اس طرح سو کی تعداد پوری ہوگئی اور پھر لوگوں سے دریافت کرنے لگا کہ اب سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک آدمی کا پتہ دیا یہ اس کے پاس گیا اور اس سے اپنا مدعا کہا عالم نے کہا ہاں اس میں کون سی رکاوٹ ہے، اس گندے علاقے سے نکل کر فلاں گاؤں میں جاؤ (وہاں تمہاری توبہ قبول ہوگی) اور وہاں اپنے رب کی عبادت کرو، یہ شخص اس گاؤں کی طرف چل دیا لیکن راستہ میں ہی موت کا وقت آگیا۔ مجبوراً یہ شخص سینہ کے بل اس گاؤں کی طرف گھسٹتا رہا اب رحمت اور عذاب کے فرشتوں نے اس شخص کی نجات اور عذاب کے متعلق باہم اختلاف کیا، شیطان نے آکر کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے ایک لمحے کے لئے بھی کبھی میری نافرمانی نہیں کی تھی اور رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کرکے نکلا تھا، (اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا اور) اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں بستیوں میں سے یہ شخص جس بستی کے زیادہ قریب ہوا اسے اس میں ہی شمار کرلو، راوی کہتے ہیں کہ قبل ازیں وہ اپنی موت کا وقت قریب دیکھ کر نیک گاؤں کے قریب ہوگیا تھا لہٰذا فرشتوں نے اسے ان ہی میں شمار کرلیا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11154]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3470، م: 2766
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3470، م: 2766
حدیث نمبر: 11155 مسند احمد
يَزِيدُ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ لَا يُصَلِّيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات چاشت کی نماز اس تسلسل سے پڑھتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے چھوڑتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں پڑھیں گے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11155]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11156 مسند احمد
يَزِيدُ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقُلْتُ لِفُضَيْلٍ: رَفَعَهُ؟ قَالَ: أَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ، قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَبِحَقِّ مَمْشَايَ، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً، خَرَجْتُ اتِّقَاءَ سَخَطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُنْقِذَنِي مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ، وَأَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جو شخص نماز کے لئے نکلتے وقت یہ کلمات کہہ لے " اے اللہ! میں آپ سے اس حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جو سائلین کا آپ پر بنتا ہے اور میرے چلنے کا حق ہے، کہ میں غرور و فخر اور دکھاوے اور ریاکاری کے لئے نہیں نکلا، میں آپ کی ناراضگی سے ڈر کر اور آپ کی رضامندی کی طلب کے لئے نکلا ہوں، میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنم سے بچا لیجئے اور میرے گناہوں کو معاف فرما دیجئے، کیوں کہ آپ کے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا " تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ستر ہزار فرشتوں کو مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اللہ اس کی طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے، تاآنکہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہوجائے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11156]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه، وقد روي موقوفا وهو أشبه .
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه، وقد روي موقوفا وهو أشبه .
حدیث نمبر: 11157 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُكَلِّمُكَ؟ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟"، وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ حَبَطًا، أَلَمْ تَرَ إِلَى آكِلَةِ الْخَضِرَةِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا وَاسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ رَتَعَتْ، وَإِنَّ الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ" أَوْ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّ الَّذِي أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، فَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ ہم سے فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، ہم سمجھ گئے کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے چنانچہ ہم نے اس آدمی سے کہا کیا بات ہے؟ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کر رہے ہو اور وہ تم سے بات نہیں کر رہے؟ پھر جب وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا پسینہ پونچھنے لگے اور فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے اور موسم بہار میں اگنے والی خود رو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کرکے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھا لیتا ہے، چنانچہ مسلمان آدمی تو مسکین، یتیم اور مسافر کے حق میں بہت اچھا ہوتا ہے اور جو شخص ناحق اسے پالیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو اور وہ اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11157]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 921، 1465، م: 1052
الحكم: إسناده صحيح، خ: 921، 1465، م: 1052
حدیث نمبر: 11158 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا إِلَّا الْقُرْآنَ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11158]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 3004 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 3004 .
حدیث نمبر: 11159 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعِي إِبِلٍ فَنَادِ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ، ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَاحْلُبْ وَاشْرَبْ مِنْ غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ، وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ فَنَادِ: يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ، ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَكُلْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَصَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی اونٹ کے پاس سے گزرے اور اس کا دودھ پینا چاہے تو اونٹ کے مالک کو تین مرتبہ آواز دے لے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے۔ اسی طرح جب تم میں سے کوئی شخص کسی باغ میں جائے اور کھانا کھانے لگے تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کر بلائے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلا ہی کھا لے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہمانی تین دن ہے پس جو (تین دن سے) زائد ہو وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11159]
حکم دارالسلام
حديث حسن، يزيد بن هارون سمع من الجريري بعد الاختلاط .
الحكم: حديث حسن، يزيد بن هارون سمع من الجريري بعد الاختلاط .
حدیث نمبر: 11160 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمَرَرْنَا بِنَهَرٍ فِيهِ مَاءٌ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، وَالْقَوْمُ صِيَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْرَبُوا" فَلَمْ يَشْرَبْ أَحَدٌ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرِبَ الْقَوْمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گذر ایک نہر پر ہوا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، لوگوں کا اس وقت روزہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانی پی لو، لیکن روزے کی وجہ سے کسی نے نہیں پیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کر خود پانی پی لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر سب ہی نے پانی پی لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11160]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، يزيد بن هارون - وإن سمع من الجريري بعد الاختلاط - توبع .
الحكم: حديث صحيح، يزيد بن هارون - وإن سمع من الجريري بعد الاختلاط - توبع .
حدیث نمبر: 11161 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عَاصِمٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا أَتَى الرَّجُلُ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 308 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 308 .
حدیث نمبر: 11162 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ لَهُ:" لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ"، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ عَلَيْكَ الْوُضُوءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک انصاری صحابی کی طرف سے ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، وہ آئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی فراغت پانے پر مجبور کردیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب اس طرح کی کیفیت میں جلدی ہو تو صرف وضو کرلیا کرو، غسل نہ کیا کرو۔ (بلکہ بعد میں اطمینان سے وضو کرو) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11162]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 180، م: 345 وهذا الحديث منسوخ بقوله: إذا جاوز الختان الختان، فقد وجب الغسل، انظر:25037
الحكم: إسناده صحيح، خ: 180، م: 345 وهذا الحديث منسوخ بقوله: إذا جاوز الختان الختان، فقد وجب الغسل، انظر:25037
حدیث نمبر: 11163 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، زَيْدًا أَبَا الْحَوَارِيِّ ، أَبَا الصِّدِّيقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدًا أَبَا الْحَوَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ فِي أُمَّتِي خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا"، زَيْدٌ الشَّاكُّ قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ؟، قَالَ:" سِنِينَ"، ثُمَّ قَالَ:" يُرْسِلُ السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا، وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا، وَيَكُونُ الْمَالُ كُدُوسًا"، قَالَ:" يَجِيءُ الرَّجُلُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي"، قَالَ:" فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عجیب و غریب واقعات نہ پیش آنے لگیں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں مہدی آئے گا جو پانچ سات یا نو سال رہے گا، اس زمانے میں اللہ تعالیٰ آسمان سے خوب بارش برسائے گا، زمین کوئی نباتات اپنے اندر ذخیرہ کرکے نہیں رکھے گی اور مالی فراوانی ہوجائے گی، حتیٰ کہ ایک آدمی مہدی کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی! مجھے دو، مجھے کچھ عطاء کرو، تو وہ اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا ڈال دیں گے جتنا وہ اٹھاسکے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11163]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف زيد بن أبى الحواري، وهو ابن الحواري العمي .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف زيد بن أبى الحواري، وهو ابن الحواري العمي .
حدیث نمبر: 11164 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، أَبَا الصِّدِّيقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ام ولد (لونڈی) کو بیچ دیا کرتے تھے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11164]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه .