بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 44 از 48
حدیث نمبر: 11845 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو إِسْرَائِيلَ إِسْمَاعِيلُ الْمُلَائِيُّ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ إِسْمَاعِيلُ الْمُلَائِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: وُجِدَ قَتِيلٌ بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ، أَوْ مَيِّتٌ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُرِعَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ إِلَى أَيِّهِمَا كَانَ أَقْرَبَ؟ فَوُجِدَ أَقْرَبَ إِلَى أَحَدِهِمَا بِشِبْرٍ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَهُ عَلَى الَّذِي كَانَ أَقْرَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک آدمی کو مقتول پایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر دونوں بستیوں کی مسافت کی پیمائش کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ بالشت اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں میں سے قریب کی بستی میں اسے بھجوا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11845]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً لضعف أبى إسرائيل الملائي ، وعطية العوفي
الحكم: إسناده ضعيف جداً لضعف أبى إسرائيل الملائي ، وعطية العوفي
حدیث نمبر: 11846 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، لَيْثٌ ، عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخَدْرِيُّ ، قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخَدْرِيُّ . وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ مَسْجِدِي هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، ایک آدمی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور دوسرے آدمی کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد میری مسجد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11846]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1398، سعيد بن أبى سعيد وإن اختلف فى تعيينه - متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 1398، سعيد بن أبى سعيد وإن اختلف فى تعيينه - متابع
حدیث نمبر: 11847 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابَهُ، حَلَّقُوا رُؤُوسَهُمْ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَأَبِي قَتَادَةَ،" فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہ نے اور " سوائے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے " احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حلق کرانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور قصر کرانے والوں کے لئے ایک مرتبہ مغفرت کی دعاء فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11847]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى إبراهيم الأنصاري
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى إبراهيم الأنصاري
حدیث نمبر: 11848 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، أَبَا إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيَّ ، أَبَا سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، أَنَّ أَبَا إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَ: إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ , قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11848]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف كسابقه ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11849 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11849]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1987
الحكم: إسناده صحيح، م: 1987
حدیث نمبر: 11850 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَا: حدثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَأَنْ يُخْلَطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کدو، مٹکے، کھوکھلی لکڑی اور لک کے برتن میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11850]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1987
الحكم: إسناده صحيح، م: 1987
حدیث نمبر: 11851 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَأَنْ يُخْلَطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کدو، مٹکے، کھوکھلی لکڑی اور لک کے برتن میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11851]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1987، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد الخدري، وهو مكرر سابقه
الحكم: صحيح لغيره، م: 1987، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من أبى سعيد الخدري، وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 11852 مسند احمد
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ. وَقَالَ: «انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ»
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وهو مكرر سابقه
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 11853 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، فِيهِمْ الْأَشَجُّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى، وَلَمْ يَذْكُرْ:" إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء، نقیر اور مزفت سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اپنے مشکیزے میں نبیذ بنا لیا کرو اور اس کا منہ بند کردیا کرو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم لوگ دور دراز سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11854 مسند احمد
رَوْحٌ ، الْمُثَنَّى الْقَصِيرُ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى الْقَصِيرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمَةِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنتم، دباء، نقیر میں پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1996
الحكم: إسناده صحيح، م: 1996
حدیث نمبر: 11855 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ النَّارِ، قَدْ احْتَرَقُوا وَكَانُوا مِثْلَ الْحُمَمِ، ثُمَّ لَا يَزَالُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَاءَ، حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْغُثَاءِ فِي السَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ کی طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11855]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4581، م: 185، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو الزبير المكي لم يسمع من أبى سعيد
الحكم: حديث صحيح، خ: 4581، م: 185، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو الزبير المكي لم يسمع من أبى سعيد
حدیث نمبر: 11856 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، أَبَا سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى ، أخبرنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ النَّارِ"، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11856]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ابن لهيعة وعنعنة أبى الزبير، وأنظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ابن لهيعة وعنعنة أبى الزبير، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 11857 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَخْرُجُ ضِبَارَةٌ مِنَ النَّارِ، قَدْ كَانُوا فَحْمًا، قَالَ: فَيُقَالُ: بُثُّوهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَرُشُّوا عَلَيْهِمْ مِنَ الْمَاءِ، قَالَ: فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ" , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّكَ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب جہنم سے ایک قوم نکلے گی، جو جل کر کوئلہ کی طرح ہوچکی ہوگی، اہل جنت ان پر مسلسل پانی ڈالتے رہیں گے یہاں تک وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں کوڑا کرکٹ اگ آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11857]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4581، م: 185
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4581، م: 185
حدیث نمبر: 11858 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ، فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ : أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ" الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، أَوْ صُورَةٌ". شَكَّ إِسْحَاقُ لَا يَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رافع بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن ابی طلحہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے ان کے گھر میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ہم سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں یا مورتیاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11859 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبِي ، سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ:" أَنَّهُ يَبْلُغُ الْعَرَقُ مِنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِلَى شَحْمَتِهِ، وَقَالَ الْآخَرُ: يُلْجِمُهُ، فَخَطَّ ابْنُ عُمَرَ، وَأَشَارَ أَبُو عَاصِمٍ بِإِصْبَعِهِ مِنْ أَسْفَلِ شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ إِلَى فِيهِ، فَقَالَ: مَا أَرَى ذَاكَ إِلَّا سَوَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن عمیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو خوب پسینہ آئے گا، ان میں سے ایک نے فرمایا " کان کی لو تک " اور دوسرے نے بتایا کہ " اس کے منہ میں وہ پسینہ لگام کی طرح ہوگا " پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کان کی لو کے نیچے سے منہ تک ایک لکیر کھینچ کر فرمایا میں تو اس حصے کو برابر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11859]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11860 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ الْمُؤَذِّنَ"، وَقَالَ مَالِكٌ: الْمُنَادِيَ،" فَقُولُوا مِثْلَمَا يَقُولُ"، زَادَ مَالِكٌ: الْمُؤَذِّنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11861 مسند احمد
مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، خَالِدٍ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ: انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ، فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ، فَجَاءَنَا، فَقَعَدَ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسرٍ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ، لَبِنَتَيْنِ، قَالَ: فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، وَيَقُولُ:" يَا عَمَّارُ، أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ"، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، وَيَقُولُ:" وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ". قَالَ: فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ: أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنَ الْفِتَنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے اور اپنے بیٹے علی سے فرمایا کہ تم دونوں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے حدیث کی سماعت کرو، ہم دونوں چلے گئے، اس وقت وہ اپنے ایک باغ میں تھے، ہمیں دیکھ کر انہوں نے اپنی چادر پکڑ لی اور ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے اور احادیث بیان کرنے لگے، اسی دوران چلتے چلتے تعمیر مسجد کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا عمار! تم اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا کر لاتے؟ انہوں نے کہا کہ میں ثواب کی نیت سے کر رہا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ! افسوس کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا تم انہیں جنت کی طرف اور وہ تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہوں گے، اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں ہر طرح کے فتنوں سے رحمان کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11861]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محبوب بن الحسن هو محمد بن الحسن بن هلال بن أبى زينب، فيه لين وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، محبوب بن الحسن هو محمد بن الحسن بن هلال بن أبى زينب، فيه لين وقد توبع
حدیث نمبر: 11862 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ الشَّيْءَ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2320
الحكم: إسناده صحيح، م: 2320
حدیث نمبر: 11863 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ، قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى صَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَقَالَ:" إِنِّي السَّاعَةَ لَقَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ"، فَلَمْ يَفْطَنْ لَهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ، إِلَّا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا، وَأَنْفُسِنَا، وَأَوْلَادِنَا، قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ، فَمَا رُؤِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے مرض الوفات میں سر پر پٹی باندھ کر باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے، میں بھی حاضر ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس وقت میں حوض کوثر پر کھڑا ہوں، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور اپنے پاس آنے کے درمیان اختیار دیا، اس بندے نے اللہ کے پاس جانے کو ترجیح دی، ساری قوم میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا یہ بات کوئی نہ سمجھ سکا اور وہ کہنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ہم اپنی جان، مال اور اولاد آپ پر نچھاور کردیں گے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے اترے اور دوبارہ کبھی اس پر نظر نہ آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11864 مسند احمد
صَفْوَانُ ، أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَرَجُلًا مِنْ بَنِي خُدْرَةَ امْتَرَيَا فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، فَقَالَ الْعَوْفِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ، وَقَالَ الْخُدْرِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" هُوَ مَسْجِدِي هَذَا، وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو خدرہ اور بنو عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا، جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی، عمروی کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور خدری کی مسجد نبوی کے متعلق تھی، وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا اس سے مراد میری مسجد ہے اور مسجد قباء میں خیر کثیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11864]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1398
الحكم: إسناده صحيح، م: 1398