بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 8 از 48
حدیث نمبر: 11125 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، النُّعْمَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ، فَقَالَ:" مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟، قَالَ:" مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ مؤمن جو اپنی جان و مال سے راہ اللہ میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا وہ مؤمن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتاہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11125]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6494، م: 1888 النعمان الجزري وإن كان ضعيفا - قد توبع .
الحكم: حديث صحيح، خ: 6494، م: 1888 النعمان الجزري وإن كان ضعيفا - قد توبع .
حدیث نمبر: 11126 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، فُضَيْلٌ ، عَطِيَّةَ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُورَةُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى لَوْنٍ أَحْسَنَ مِنْ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ لُحُومِهَا وَدَمِهَا وَحُلَلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کے دن جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہو وں والا ہوگا، اس کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا، ان میں ہر ایک کی دو دو بیویاں ہونگی، ہر بیوی کے جسم پر ستر جوڑے ہوں گے جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت خون اور جوڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11126]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11127 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟"، قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟"، قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَذَلِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ"، قَالَ: فَيُقَالُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتْبَعْهُ، قَالَ:" فَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، وَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، وَيَتْبَعُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ الْأَوْثَانَ، وَالَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْأَصْنَامَ الْأَصْنَامَ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ"، قَالَ:" وَكُلُّ مَنْ كَانَ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَتَّى يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيَبْقَى الْمُؤْمِنُونَ وَمُنَافِقُوهُمْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِمْ وَبَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ"، وَقَلَّلَهُمْ بِيَدِهِ، قَالَ:" فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ: أَلَا تَتَّبِعُونَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ اللَّهَ، وَلَمْ نَرَ اللَّهَ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ إِلَّا وَقَعَ سَاجِدًا، وَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ رِيَاءً وَسُمْعَةً، إِلَّا وَقَعَ عَلَى قَفَاهُ، قَالَ:" ثُمَّ يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ وَالْأَنْبِيَاءُ بِنَاحِيتَيْهِ، قَوْلُهُمْ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَإِنَّهُ لَدَحْضُ مَزَلَّةٍ، وَإِنَّهُ لَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَدْ، قَالَ:" تَخْطَفُ النَّاسَ، وَحَسَكَةٌ تَنْبُتُ بِنَجْدٍ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ"، قَالَ: وَنَعَتَهَا لَهُمْ، قَالَ:" فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي لَأَوَّلَ مَنْ مَرَّ أَوْ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ"، قَالَ:" فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ مِثْلَ الْبَرْقِ، وَمِثْلَ الرِّيحِ، وَمِثْلَ أَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوشٌ مُكَلَّمٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ، فَإِذَا قَطَعُوهُ أَوْ فَإِذَا جَاوَزُوهُ فَمَا أَحَدُكُمْ فِي حَقٍّ يَعْلَمُ أَنَّهُ حَقٌّ لَهُ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً مِنْهُمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ سَقَطُوا فِي النَّارِ، يَقُولُونَ: أَيْ رَبِّ كُنَّا نَغْزُو جَمِيعًا وَنَحُجُّ جَمِيعًا وَنَعْتَمِرُ جَمِيعًا، فَبِمَ نَجَوْنَا الْيَوْمَ وَهَلَكُوا؟"، قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ زِنَةُ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، قَالَ:" فَيُخْرَجُونَ"، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ زِنَةُ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، قَالَ:" فَيُخْرَجُونَ"، قَالَ:" ثُمَّ يَقُولُ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ: فَأَخْرِجُوهُ، قَالَ:" فَيُخْرَجُونَ"، قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو سَعِيدٍ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَظُنُّهُ يَعْنِي قَوْلَهُ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ سورة الأنبياء آية 47، قَالَ:" فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ فَيُطْرَحُونَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَوَانِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبُّ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَا تَرَوْنَ مَا يَكُونُ مِنَ النَّبْتِ إِلَى الشَّمْسِ يَكُونُ أَخْضَرَ، وَمَا يَكُونُ إِلَى الظِّلِّ يَكُونُ أَصْفَرَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّكَ كُنْتَ قَدْ رَعَيْتَ الْغَنَمَ؟، قَالَ:" أَجَلْ قَدْ رَعَيْتُ الْغَنَمَ".
حدیث نمبر: 11128 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، فِرَاسُ بْنُ يَحْيَى الْهَمْدَانِيُّ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا فِرَاسُ بْنُ يَحْيَى الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَقَدْ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ مَا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ، قَالَ لِأَهْلِهِ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُوا نِصْفِي فِي الْبَحْرِ وَنِصْفِي فِي الْبَرِّ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ وَالْبَحْرَ فَجَمَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَغُفِرَ لَهُ لِذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک ایسا آدمی بھی داخل ہوگا جس نے کبھی کوئی نیک عمل نہ کیا ہوگا، یہ وہ آدمی ہوگا جس نے اپنے مرض الموت میں اپنے اہل خانہ کو وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ پیس لینا اور اس کا آدھا حصہ سمندر میں بہا دینا اور آدھی حصہ خشکی میں اڑا دینا، اللہ نے بر وبحر کو حکم دیا اور انہوں نے اس کے سارے اجزاء اکٹھے کردیئے اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے خوف کی وجہ سے، اسی پر اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11128]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 3478، م: 2757 وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: صحيح لغيره، خ: 3478، م: 2757 وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11129 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ: قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَى غِلَافِهِ، وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ، وَقَلْبٌ مُصْفَحٌ، فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصْفَحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ، فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقُرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ، فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دل چار طرح کے ہوتے ہیں، قلب اجرد یعنی خالی دل جس میں چراغ روشن ہوسکے، قلب اغلف یعنی جس پر پردے پڑے ہوئے ہوں، قلب منکوس یعنی الٹا دل اور قلب مصفح یعنی چٹیل میدان، قلب اجرد تو مسلمان کا دل ہوتا ہے جس کا چراغ اس کا نور ہوتا ہے قلب اغلف کافر کا دل ہوتا ہے قلب منکوس منافق کا دل ہوتا ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اس سے منکر ہوجاتا ہے اور قلب مصفح وہ دل ہوتا ہے جس میں ایمان بھی ہو اور نفاق بھی، اس میں ایمان کی مثال تو سبزی کی سی ہوتی ہے جو اچھے اور صاف پانی سے بڑھتی جاتی ہے اور نفاق کی مثال اس زخم کی سی ہوتی ہے جس میں پیپ اور خون بڑھتا جاتا ہے، اب دونوں میں سے جو چیز غالب آجائے، اسی کا اثر اس پر غالب آجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11129]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم، ولانقطاعه، أبو البختري لم يدرك أباسعيدالخدري .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم، ولانقطاعه، أبو البختري لم يدرك أباسعيدالخدري .
حدیث نمبر: 11130 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ ، مَطَرِ بْنِ طَهْمَانَ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ ، عَنْ مَطَرِ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، أَجْلَى أَقْنَى يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ قَبْلَهُ ظُلْمًا، يَكُونُ سَبْعَ سِنِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک کشادہ پیشانی اور ستواں ناک والا آدمی خلیفہ نہ بن جائے، وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی اور وہ سات سال تک رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11130]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: يكون سبع سنين، مطر الوراق- وإن كان فيه ضعف من جهة حفظه - متابع
الحكم: حديث صحيح دون قوله: يكون سبع سنين، مطر الوراق- وإن كان فيه ضعف من جهة حفظه - متابع
حدیث نمبر: 11131 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعِتْرَتِي كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُونِي بِمَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرا بلاوا آجائے گا اور میں اس پر لبیک کہوں گا، میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے ایک تو کتاب اللہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگی، یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں گی، اب تم دیکھ لو کہ ان دونوں میں میری نیابت کس طرح کرتے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11131]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده دون قوله: وإن اللطيف الخبير أخبرني . . . . وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح بشواهده دون قوله: وإن اللطيف الخبير أخبرني . . . . وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11132 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا، ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرَ، ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ، فَأَبْعَدَهُ، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟"، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" هَذَا الْإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ، وَهَذَا أَمَلُهُ، يَتَعَاطَى الْأَمَلَ، يَخْتَلِجُهُ دُونَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سامنے ایک لکڑی گاڑھی، دوسری اس کے قریب اور تیسری اس سے دور گاڑھی، پھر صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اور یہ اس کی امیدیں ہیں، جو درمیان سے نکل نکل کر اس تک پہنچتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11132]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 11133 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَلِيّ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا"، قَالُوا: إِذًا نُكْثِرُ؟، قَالَ: اللَّهُ أَكْثَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کوئی ایسی دعاء کرے جس میں گناہ یا قطع رحمی کا کوئی پہلو نہ ہو، اللہ اسے تین میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطاء فرماتے ہیں، یا تو فوراً ہی اس کی دعاء قبول کرلی جاتی ہے، یا آخرت کے لئے ذخیرہ کرلی جاتی ہے، یا اس سے اس جیسی کوئی تکلیف دور کردی جاتی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس طرح تو پھر ہم بہت کثرت کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اس سے بھی زیادہ کثرت والا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11133]
حکم دارالسلام
إسناده جيد كسابقه .
الحكم: إسناده جيد كسابقه .
حدیث نمبر: 11134 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، فُلَيْحٌ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَقَالَ" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ"، قَالَ:" فَاخْتَارَ ذَلِكَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللَّهِ"، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَعَجِبْنَا لِبُكَائِهِ أَنْ خَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خُيِّرَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَيَّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَوْ مَوَدَّتُهُ، لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور اپنے پاس آنے کے درمیان اختیار دیا، اس بندے نے اللہ کے پاس جانے کو ترجیح دی، یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رونے لگے، ہمیں ان کے رونے پر بڑا تعجب ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو محض ایک آدمی کے متعلق خبر دی ہے، اس میں رونے کی کیا بات ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ " بندے " سے مراد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور واضح ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی رفاقت اور مالی تعاون کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ احسانات مجھ پر ابوبکر کے ہیں، اگر میں اپنے رب کے علاوہ انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا، البتہ ان کے ساتھ اسلامی اخوت ومودت ہی بہت ہے اور ابوبکر کے دروازے کے علاوہ مسجد کھلنے والے دوسرے تمام دروازے بند کردیئے جائیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11134]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3654، م: 2382
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3654، م: 2382
حدیث نمبر: 11135 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه، وأنظر ما قبله .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه، وأنظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11136 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن كسابقه، خ: 3904 م: 2382، وانظر ما قبله .
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن كسابقه، خ: 3904 م: 2382، وانظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11137 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أُخْبِرَ أَبُو سَعِيدٍ بِجِنَازَةٍ، فَعَادَ تَخَلَّفَ، حَتَّى إِذَا أَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوا عَنْهُ فَقَامَ بَعْضُهُمْ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا، ثُمَّ تَنَحَّى وَجَلَسَ فِي مَجْلِسٍ وَاسِعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو کسی جنازے کی اطلاع دی گئی، جب وہ آئے تو لوگ اپنی اپنی جگہوں پر جم چکے تھے، انہیں دیکھ کر لوگوں نے اپنی جگہ سے ہٹنا شروع کردیا اور کچھ لوگ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تاکہ وہ ان کی جگہ پر بیٹھ جائیں، لیکن انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین مجلس وہ ہوتی ہے جو زیادہ کشادہ ہو، پھر دوسرے کونے میں کشادہ جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .
الحكم: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 11138 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ: إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ قَوْمَهُ، بَلَى وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِذَا جِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَقَالَ أَخُرُ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ"، قَالَ لَهُمْ:" أَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي، وَارْتَدَدْتُمْ الْقَهْقَرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچاسکے گی، اللہ کی قسم! میری قرابت داری دنیا و آخرت دونوں میں جڑی رہے گی اور لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، جب تم وہاں پہنچوں گے تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں اور دوسرا کہے گا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، میں انہیں جواب دوں گا کہ تہمارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11138]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة ابن أبى سعيد الخدري، ولاضطراب فى الإسناد .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة ابن أبى سعيد الخدري، ولاضطراب فى الإسناد .
حدیث نمبر: 11139 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11139]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله .
حدیث نمبر: 11140 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ، أَوْ غَابَ، فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَحِينَ رَكَعَ، وَحِينَ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَحِينَ سَجَدَ، وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا صَلَّى قِيلَ لَهُ قَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ، هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے تھے تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انہوں نے نماز شروع کرتے وقت رکوع میں جاتے وقت بلند آواز سے تکبیر کہی سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی، سجدہ سے سر اٹھا کر سجدہ میں جاتے وقت اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑے ہوتے وقت بھی بلند آواز سے تکبیر کہی اور اس طرح اپنی نماز مکمل کرلی، نماز کے بعد کسی شخص نے ان سے کہا کہ لوگوں میں آپ کی نماز پر اختلاف ہوگیا ہے، اس پر وہ منبر کے قریب کھڑے ہوئے اور فرمایا واللہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نمازیں اس سے مختلف ہوتی ہیں یا نہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11140]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .
حدیث نمبر: 11141 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد الخُدْري
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد الخُدْري ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ، وَلَا غَمٍّ وَلَا أَذًى، حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2573
الحكم: إسناده صحيح، م: 2573
حدیث نمبر: 11142 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو الْأَشْهَبِ الْعُطَارِدِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" ائْتَمُّوا بِي يَأْتَمُّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میری اقتداء کیا کرو بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیونکہ لوگ پیچھے ہوتے رہیں کے یہاں تک کہ اللہ انہیں پیچھے کردے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 438
الحكم: إسناده صحيح، م: 438
حدیث نمبر: 11143 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ حَفِظَهَا مِنَّا مَنْ حَفِظَهَا وَنَسِيَهَا مِنَّا مَنْ نَسِيَهَا، فَحَمِدَ اللَّهَ قَالَ عَفَّانُ: وَقَالَ حَمَّادٌ: وَأَكْثَرُ حِفْظِي أَنَّهُ قَالَ: بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى، مِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، أَلَا إِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ تُوقَدُ فِي جَوْفِ ابْنِ آدَمَ، أَلَا تَرَوْنَ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَالْأَرْضَ الْأَرْضَ، أَلَا إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الرِّضَا، وَشَرَّ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الرِّضَا، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ، وَسَرِيعَ الْغَضَبِ وَسَرِيعَ الْفَيْءِ، فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ خَيْرَ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ، وَشَرَّ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ، أَوْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ، فَإِنَّهَا بِهَا، أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، أَلَا وَأَكْبَرُ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِيرِ عَامَّةٍ، أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا عَلِمَهُ، أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ" فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ، قَالَ:" أَلَا إِنَّ مِثْلَ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل خطبہ ارشاد فرمایا جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا اما بعد! دنیا سرسبز و شاداب اور شریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو؟ یاد رکھو! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو! کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں، مؤمن ہو کر زندہ رہتے ہیں اور مؤمن ہو کر ہی مرجاتے ہیں، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر ہو کر زندگی گذار تے ہیں اور کافر ہو کر ہی مرجاتے ہیں، بعض ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں مؤمن ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور کافر ہو کر مرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور مؤمن ہو کر مرجاتے ہیں۔ یاد رکھو! غصہ ایک چنگاری ہے جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور رگوں کا پھول جانا ہی دیکھ لو، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے تو وہ زمین پر لیٹ جائے یاد رکھو! بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور وہ جلدی راضی ہوجائے اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور وہ دیر سے راضی ہو اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر ہی سے جائے یا جلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ یاد رکھو! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض اداء کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اسی انداز میں مطالبہ کرے اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو، یاد رکھو! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جبکہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو، یاد رکھو! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے، پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! دنیا کی جتنی عمر گزر گئی ہے، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت سے جو آج اسے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11143]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، وهو ابن جدعان .
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، وهو ابن جدعان .
حدیث نمبر: 11144 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فَمَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ" فَلَمْ يَأْمُرْ، وَلَمْ يَنْهَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کردیا گیا تھا، (کہیں یہ وہی نہ ہو) اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11144]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1951 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 1951 .