أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ: إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ قَوْمَهُ، بَلَى وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِذَا جِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَقَالَ أَخُرُ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ"، قَالَ لَهُمْ:" أَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي، وَارْتَدَدْتُمْ الْقَهْقَرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچاسکے گی، اللہ کی قسم! میری قرابت داری دنیا و آخرت دونوں میں جڑی رہے گی اور لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، جب تم وہاں پہنچوں گے تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں اور دوسرا کہے گا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، میں انہیں جواب دوں گا کہ تہمارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11138]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة ابن أبى سعيد الخدري، ولاضطراب فى الإسناد .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة ابن أبى سعيد الخدري، ولاضطراب فى الإسناد .