بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 27 از 48
حدیث نمبر: 11505 مسند احمد
يَحْيَى ، مُجَالِدٍ ، أَبُو الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَصُومُوا يَوْمَيْنِ، وَلَا تُصَلُّوا صَلَاتَيْنِ، وَلَا تَصُومُوا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى، وَلَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا، إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي، وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو دن کا روزہ اور دو موقع پر نماز نہ پڑھو، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کا روزہ نہ رکھو، نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نوافل نہ پڑھو۔ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11505]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
الحكم: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 11506 مسند احمد
يَحْيَى ، ووكيع ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٌ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ووكيع , عَنْ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ , قَالَ: كَانَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَرْوَانُ جَالِسَيْنِ، فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالَ مَرْوَانُ: اجْلِسْ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ :" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ" , فَقَامَ مَرْوَانُ، وَقَالَ وَكِيعٌ: مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ، فَقَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور مروان بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے کسی جنازے کا گذر ہوا، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے لیکن مروان کہنے لگا کہ بیٹھ جائیے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے جنازہ گذرا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے تھے، اس پر مروان کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11506]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، زكريا - وإن كان يدلس عن الشعبي- متابع بعبدالله بن أبى السفر فى الرواية السالفة برقم: 11437
الحكم: حديث صحيح، زكريا - وإن كان يدلس عن الشعبي- متابع بعبدالله بن أبى السفر فى الرواية السالفة برقم: 11437
حدیث نمبر: 11507 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ يُصَلِّي تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11507]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:889
الحكم: إسناده صحيح، م:889
حدیث نمبر: 11508 مسند احمد
يَحْيَى ، دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عِيَاضٌ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ"، قَالَ يَحْيَى: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، فَيَقُومُ قَائِمًا، فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ، وَيَقُولُ: تَصَدَّقُوا، فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: بِالْخَاتَمِ وَالْقُرْطِ وَالشَّيْءِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَضَعَ بَعْثًا، تَكَلَّمَ، وَإِلَّا انْصَرَفَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرما لیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیان فرما دیتے، ورنہ چلے جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11508]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11509 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَفَّانُ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11509]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2052
الحكم: إسناده صحيح، م: 2052
حدیث نمبر: 11510 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: ثَلَاثًا , فَقَالَ: إِنِّي كَثِيرُ الشَّعَرِ , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكْثَرَ شَعَرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا، اس نے کہا کہ میرے سر پر بال بہت زیادہ ہیں؟ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال تم سے بھی زیادہ اور معطر تھے، (لیکن پھر بھی وہ تین مرتبہ ہی جسم پر پانی بہاتے تھے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11510]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11511 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ:" تَقَدَّمُوا فَائْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ کچھ پیچھے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم آگے بڑھ کر میری اقتداء کیا کرو، بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیونکہ لوگ مسلسل پیچھے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں قیامت کے دن پیچھے کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11511]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:438
الحكم: إسناده صحيح، م:438
حدیث نمبر: 11512 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَمِّهِ ، مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَخَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى رَجُلًا جَالِسًا وَسَطَ الْمَسْجِدِ، مُشَبِّكًا بَيْنَ أَصَابِعِهِ، يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَفْطَنْ، قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ، مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی معیت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ مسجد کے درمیان میں ایک آدمی گوٹ مار کر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں اور اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اشارہ سے منع کیا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اشارہ نہ سمجھ سکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے آئے تو انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے کیونکہ یہ شیطانی حرکت ہے اور جو شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے مسجد سے نکلنے تک اس کا شمار نماز پڑھنے والوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11512]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبيدالله بن عبدالرحمن بن موهب، ولجهالة عبيد الله بن عبدالله ابن موهب ومولى أبى سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبيدالله بن عبدالرحمن بن موهب، ولجهالة عبيد الله بن عبدالله ابن موهب ومولى أبى سعيد
حدیث نمبر: 11513 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ، مَا لَمْ يَجِدْ رِيحًا بِأَنْفِهِ، أَوْ يَسْمَعْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّیہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11513]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري
حدیث نمبر: 11514 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ عِيدٍ قَبْلَ الصَّلَاةِ، مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ؟ فَقَالَ مَرْوَانُ: تُرِكَ مَا هُنَالِكَ أَبَا فُلَانٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا، فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11514]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 49
الحكم: إسناده صحيح، م: 49
حدیث نمبر: 11515 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ سَفَرَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا، إِلَّا مَعَ أَبِيهَا، أَوْ أَخِيهَا، أَوْ ابْنِهَا، أَوْ زَوْجِهَا، أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین یا زیادہ دن کا سفر اپنے باپ، بھائی، بیٹے، شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11515]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، م: 1340
الحكم: إسناداه صحيحان، م: 1340
حدیث نمبر: 11516 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11516]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3673، م: 2541
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3673، م: 2541
حدیث نمبر: 11517 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11518 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شُعْبَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 11519 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَلْيَجْعَلْ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے دونوں پہلو اپنے کندھوں پر ڈال لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11519]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 11520 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، حَيْوَةُ ، ابْنُ الْهَادِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ حَيْوَةُ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ:" لَعَلَّهُ أَنْ تَنْفَعَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3885، م: 210
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3885، م: 210
حدیث نمبر: 11521 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، حَيْوَةُ ، ابْنُ الْهَادِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ حَيْوَةُ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جماعت کے ساتھ نماز تنہا نماز پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11521]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 646
الحكم: إسناده صحيح، خ: 646
حدیث نمبر: 11522 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَكَوَّنُ بِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے سچا خواب دیکھا کیونکہ شیطان میری شباہت اختیار نہیں کرسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6997
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6997
حدیث نمبر: 11523 مسند احمد
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، ثُمَّ يَنَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر رات کو وہ " ناپاک " ہوجائیں تو پھر سونا چاہیں تو کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وضو کر کے سو جایا کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11523]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 308
الحكم: إسناده صحيح، م: 308
حدیث نمبر: 11524 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْطٍ ، عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْطٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، وَعَرَفَ حُدُودَهُ، وَتَحَفَّظَ مِمَّا كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ، كَفَّرَ مَا قَبْلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کو پہچانے اور جن چیزوں سے بچنا چاہیے ان سے بچے تو وہ اس کے گزشتہ سارے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11524]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن قريط، انفرد بالرواية عنه يحيى بن أيوب المصري، قال الحسيني فى الإكمال: مجهول، وذكره ابن حبان فى الثقات
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن قريط، انفرد بالرواية عنه يحيى بن أيوب المصري، قال الحسيني فى الإكمال: مجهول، وذكره ابن حبان فى الثقات