بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 45 از 48
حدیث نمبر: 11865 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي، مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ، تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ؟ قَالَ: وَأُرِينَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، وَقَالَ:" أَنَّى هَذَا السَّائِلُ؟" وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، إِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ، أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ رَتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةً، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْيَتِيمَ، وَالْمِسْكِينَ، وَابْنَ السَّبِيلِ"، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّ الَّذِي يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ، كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، فَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پسینہ اور گھبراہٹ طاری ہوگئی، پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے اور موسم بہار میں اگنے والی خودرو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کر کے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھا لیتا ہے، چنانچہ مسلمان آدمی تو مسکین، یتیم اور مسافر کے حق میں بہت اچھا ہوتا ہے اور جو شخص ناحق اسے پالیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو اور وہ اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11865]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 921، 1465، م: 1052
الحكم: إسناده صحيح، خ: 921، 1465، م: 1052
حدیث نمبر: 11866 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11866]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2842، م: 1052 ، فليح ابن سليمان - وإن تكلم بعض الأئمة فى حفظه - متابع، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، خ: 2842، م: 1052 ، فليح ابن سليمان - وإن تكلم بعض الأئمة فى حفظه - متابع، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11867 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَرَوْحٌ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ . وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لَحْيَانَ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ، قَالَ رَوْحٌ: مِنْ هُذَيْلٍ، قَالَ:" لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور دونوں کو ثواب ملے گا، پھر فرمایا اے اللہ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطاء فرما اور اس برکت کو دو گ نافرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11867]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، م: 1347، 1896
الحكم: إسناداه صحيحان، م: 1347، 1896
حدیث نمبر: 11868 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، رَجُلٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ إِذَا رَأَى أَمْرَ اللَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالًا، فَلَا يَقُولُ بِهِ، فَيَلْقَى اللَّهَ وَقَدْ أَضَاعَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: مَا مَنَعَكَ؟ فَيَقُولُ خَشِيتُ النَّاسَ، فَيَقُولُ: أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے، کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار! میں لوگوں سے ڈرتا تھا اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11868]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لابهام الرجل الراوي عن أبى سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لابهام الرجل الراوي عن أبى سعيد
حدیث نمبر: 11869 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ، إِذَا عَلِمَهُ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى قَصَّرْنَا، وَإِنَّا لَنَبْلُغُ فِي الشَّرِّ، وقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم پر اتنی آزمائشیں آئیں کہ ہم اس میں کوتاہی کرنے لگے، البتہ شر کے کاموں میں ہم پہنچ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11870 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَانِ عَشَرَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَصَامَ صَائِمُونَ، وَأَفْطَرَ مُفْطِرُونَ، فَلَمْ يَعِبْ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ". قَالَ شُعْبَةُ: حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَةٌ أَحَدُهُمْ قَتَادَةُ، وَهَذَا حَدِيثُ قَتَادَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے سترہ یا اٹھارہ رمضان کو روانہ ہوئے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1116
الحكم: إسناده صحيح، م: 1116
حدیث نمبر: 11871 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَخِي انْطَلَقَ بَطْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْقِهِ عَسَلًا"، فَسَقَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ:" اسْقِهِ عَسَلًا"، فَقَالَ: قَدْ سَقَيْتُهُ، فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ اللَّهُ، وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ" , فَسَقَاهُ، فَبَرِئَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے جاکر شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے شہد پلاؤ، وہ جا کر دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے لیکن اس کی بیماری میں تو اور اضافہ ہوگیا ہے؟ چوتھی مرتبہ پھر فرمایا کہ اسے جاکر شہد پلاؤ اس مرتبہ وہ تندرست ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے سچ کہا، تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11871]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5716، م: 2217
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5716، م: 2217
حدیث نمبر: 11872 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ معناه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11872]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو مكرر سابقه
الحكم: إسناده صحيح، وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 11873 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سُلَيْمَانَ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، رَجُلٌ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سُلَيْمَانَ ، أَوْ أَبِي سُلَيْمَانَ. وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، وَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ، أَوْ حَوَاشٍ، مِنَ النَّاسِ، يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ، فَمَنْ أَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَا أَنَا مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ مِنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جن پر ایسے حاشیہ بردار افراد چھا جائیں گے جو ظلم و ستم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر تعاون کرے تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے کہ ان کے جھوٹ کی تصدیق یا ان کے ظلم پر تعاون نہ کرنا پڑے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11873]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل من قريش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل من قريش
حدیث نمبر: 11874 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، حَجَّاجٌ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، قَالَ حَجَّاجٌ : ابْنُ عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2320
الحكم: إسناده صحيح، م: 2320
حدیث نمبر: 11875 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ، إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2700
الحكم: إسناده صحيح، م: 2700
حدیث نمبر: 11876 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ خَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: تُرِكَ ذَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا، فَلْيُنْكِرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَاكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اس مجلس میں خضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11876]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 49
الحكم: إسناده صحيح، م: 49
حدیث نمبر: 11877 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حدثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ خَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ خَلَعُوا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ:" مَا بَالُكُمْ أَلْقَيْتُمْ نِعَالَكُمْ"، قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ، فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ أَذًى، فَأَلْقَيْتُهُمَا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلْيَنْظُرْ فِي نَعْلَيْهِ، فَإِنْ رَأَى فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ أَذًى، فَلْيَمْسَحْهُمَا، وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا". قَالَ أَبِي: لَمْ يَجِئْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانُ مَا كَانَ فِي النَّعْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی تو جوتیاں اتار دیں، لوگوں نے بھی اپنی جوتیاں اتار دیں، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں نے اپنی جوتیاں کیوں اتار دیں؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم نے آپ کو جوتی اتارتے ہوئے دیکھا اس لئے ہم نے بھی اتار دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تو جبرئیل امین آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میری جوتی میں کچھ گندگی لگی ہوئی ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے تو وہ پلٹ کر اپنی جوتیوں کو دیکھ لے، اگر ان میں کوئی گندگی لگی ہوئی نظر آئے تو انہیں زمین پر رگڑ دے، پھر ان ہی میں نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11877]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11878 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ:" إِنْ تَفْعَلُوا ذَلِكَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ نَسَمَةٌ قَضَى اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل (مادہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ نے جس جان کے دنیا میں آنے کا فیصلہ فرما لیا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11878]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا الإسناد خالف فيه إبراهيم بن سعد شعيب بن أبى حمزة ويونس بن يزيد ومن تابعهما ، فرواه عن عبيد الله بن عبدالله بن عتبة ، بدل أبن محيريز
الحكم: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا الإسناد خالف فيه إبراهيم بن سعد شعيب بن أبى حمزة ويونس بن يزيد ومن تابعهما ، فرواه عن عبيد الله بن عبدالله بن عتبة ، بدل أبن محيريز
حدیث نمبر: 11879 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا سَعِيدٍ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً، فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیوارِ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11879]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 410،411، م: 548
الحكم: إسناده صحيح، خ: 410،411، م: 548
حدیث نمبر: 11880 مسند احمد
سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، صَالِحٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولَانِ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً، فَحَكَّهَا بِهَا، ثُمَّ قَالَ:" لَا يَتَنَخَّمْ أَحَدٌ فِي الْقِبْلَةِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیوارِ مسجد میں تھوک یا ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کنکری سے صاف کردیا اور سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11880]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، صالح- وهو ابن أبى الأخضر - وإن كان ضعيفا - قد توبع ، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، صالح- وهو ابن أبى الأخضر - وإن كان ضعيفا - قد توبع ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11881 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، خُصَيْفٌ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَزْنًا بِوَزْنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو مرتبہ منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچی اور خریدی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11881]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11882 مسند احمد
ابْنُ فُضَيْلٍ ، سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صُهْبَانَ ، وَكَثِيرٌ النَّوَّاءُ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صُهْبَانَ ، وَكَثِيرٌ النَّوَّاءُ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ، كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ، أَلَا وَإِنَّ أَبا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11882]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، ابن فضيل والأعمش ثقتان ، وسالم بن إبي حفصةمختلف فيه ، وبقية رجال الإسناد ضعفاء
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، ابن فضيل والأعمش ثقتان ، وسالم بن إبي حفصةمختلف فيه ، وبقية رجال الإسناد ضعفاء
حدیث نمبر: 11883 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، لَيْثٌ ، شَهْرٍ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ شَهْرٍ ، قَالَ: لَقِينَا أَبَا سَعِيدٍ ، وَنَحْنُ نُرِيدُ الطُّورَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُشَدُّ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11883]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ليث بن أبى سليم، وشهر بن حوشب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ليث بن أبى سليم، وشهر بن حوشب
حدیث نمبر: 11884 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ:" لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا اور اللہ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11884]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، عمر بن عبيد لا يعرف سماعه من أبى إسحاق السبيعي، هل هو قبل الاختلاط أم بعده
الحكم: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، عمر بن عبيد لا يعرف سماعه من أبى إسحاق السبيعي، هل هو قبل الاختلاط أم بعده