بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 16 از 48
حدیث نمبر: 11285 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ، قَالَ:" لَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ، لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي، تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" قَالُوا: فَهَلْ مِنْ عَلَامَةٍ يُعْرَفُونَ بِهَا، قَالَ:" فِيهِمْ رَجُلٌ ذُو يُدَيَّةٍ أَوْ ثُدَيَّةٍ مُحَلِّقِي رُءُوسِهِمْ" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَحَدَّثَنِي عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَلِيَ قَتْلَهُمْ، قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ بَعْدَمَا كَبِرَ، وَيَدَاهُ تَرْتَعِشُ، يَقُولُ: قِتَالُهُمْ أَحَلُّ عِنْدِي مِنْ قِتَالِ عِدَّتِهِمْ مِنَ التُّرْكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی بات پر بڑی پختہ قسم کھاتے تو یوں کہتے " لا والذی نفس ابی القاسم بیدہ " ایک مرتبہ یہی قسم کھا کر فرمایا میری امت میں ایک ایسی قوم ضرور ظاہر ہوگی جن کے اعمال کے سامنے تم اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، صحابہ پوچھا کہ ان کی کوئی علامت بھی ہے جس سے انہیں پہچانا جاسکے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان میں ایک آدمی ہوگا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی کا نشان ہوگا اور ان لوگوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے بھی زیادہ صحابہ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تہہ تیغ کیا تھا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے بڑھاپے میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا تھا جب ان کے ہاتھوں پر بھی رعشہ طاری تھا، وہ فرما رہے تھے کہ میرے نزدیک اتنی تعداد میں ترکوں کو قتل کرنے سے ان لوگوں کو قتل کرنا زیادہ حلال تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11285]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لجهالة عاصم بن شميخ، سيأتي بإسناد صحيح برقم: 11537
الحكم: إسناده ضعيف، لجهالة عاصم بن شميخ، سيأتي بإسناد صحيح برقم: 11537
حدیث نمبر: 11286 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى مُتَعَلِّقًا بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَجُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ، أَوْ أَفَاقَ قَبْلِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دیا کرو، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور مجھے افاقہ ہوگا، تو میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرشِ الہٰی کے پائے پکڑے کھڑے ہیں، اب مجھے معلوم نہیں کہ طور پر پہاڑ کی بےہوشی کو ان کا بدلہ قرار دیا دے دیا گیا یا انہیں مجھ سے پہلے ہوش آگیا ہوگا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3398، م: 2374
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3398، م: 2374
حدیث نمبر: 11287 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَيْهِمَا:" مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ، وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11287]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2700
الحكم: إسناده صحيح، م: 2700
حدیث نمبر: 11288 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَتْ الْيَهُودُ: الْعَزْلُ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، قَالَ أَبِي: وَكَانَ فِي كِتَابِنَا أَبُو رِفَاعَةَ بْنُ مُطِيعٍ، فَغَيَّرَهُ وَكِيعٌ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَتْ يَهُودُ، إِنَّ اللَّهَ لَوْ أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا، لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی کہا کرتے تھے عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11288]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى مطيع بن رفاعة ، ويقال أبو رفاعة، وعلي بن المبارك رواية الكوفيين عنه، عن يحيى بن أبى كثير ضعيفة، وهذا منها، ووكيع متابع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى مطيع بن رفاعة ، ويقال أبو رفاعة، وعلي بن المبارك رواية الكوفيين عنه، عن يحيى بن أبى كثير ضعيفة، وهذا منها، ووكيع متابع
حدیث نمبر: 11289 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فِطْرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِهِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ"، قَالَ: فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ:" لَا، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ"، وَعَلِيٌّ يَخْصِفُ نَعْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں، اس پر حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، اس سے مراد جوتی گانٹھنے والا ہے اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جوتی گانٹھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11289]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11290 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، غير ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَالَ غير يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ وَهُوَ أَبُو الْهَيْثَمِ، وَكَانَ فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . وعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَا تُخْلِفْنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ، أَوْ قَالَ: لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا، میں بھی ایک انسان ہوں، اے اللہ! میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا کوڑا مارا ہو یا گالی اور لعنت ملامت کی ہو، اسے اس شخص کے لئے باعثِ تزکیہ و رحمت بنادے اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11290]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11291 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا؟ قَالَ:" سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ عِنْدَ صَلَاتِهِمْ، وَصَوْمَهُ عِنْدَ صَوْمِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِي رُصَافِهِ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِي قِدْحَتِهِ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى، هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرقہ حروریہ کا بھی کوئی تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے جو دین میں تعمق کی راہ اختیار کرلیں گے، ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو، ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن یہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11291]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 6931، م: 1064
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 6931، م: 1064
حدیث نمبر: 11292 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ:" تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ کچھ پیچھے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم آگے بڑھ کر میری اقتداء کیا کرو، بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیوں کہ لوگ مسلسل پیچھے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں قیامت کے دن پیچھے کردے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11292]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:438
الحكم: إسناده صحيح، م:438
حدیث نمبر: 11293 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ يَصْرِفُ رَاحِلَتَهُ فِي نَوَاحِي الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ" حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی سواری کو لوگوں کے آگے پیچھے چکر لگوا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد سواری ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس ایک بھی سواری نہ ہو اور جس شخص کے پاس زائد ہو توشہ ہو، وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس بالکل ہی نہ ہو، حتیٰ کہ ہم سمجھنے لگے کہ کسی زائد چیز میں ہمارا کوئی حق ہی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11293]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1728
الحكم: إسناده صحيح، م: 1728
حدیث نمبر: 11294 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَزَعَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا، فَأَعْجَبْنَنِي، وَأَيْنَقْنَنِي، قَالَ عَفَّانُ: وَآنَقْنَنِي:" نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى عَنْ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ، يَوْمِ النَّحْرِ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَمَسْجِدِي هَذَا". قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ أَنْبَأَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چار چیزیں سنی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اپنے محرم، شوہر کے بغیر کرے، اور نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے تیاری نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11294]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
حدیث نمبر: 11295 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْل، ثُمَّ يَنْزِلُ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ؟"، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے؟ کون ہے جو توبہ کرے؟ ایک آدمی نے پوچھا یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے؟ تو فرمایا ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 758
الحكم: إسناده صحيح، م: 758
حدیث نمبر: 11296 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَأْتِيكَ فِيهِ، فَوَاعَدَهُنَّ مِيعَادًا فَأَمَرَهُنَّ، وَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ:" مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ أَوْ اثْنَانِ: فَإِنَّهُ مَاتَ لِي اثْنَانِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْ اثْنَان".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کے پاس آسکیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ایک مقررہ وقت کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں، وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ اگر دوہوں تو کیا حکم ہے؟ کہ میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے . [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633
الحكم: إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633
حدیث نمبر: 11297 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، ابْنَ الْوَدَّاكِ ، حَجَّاجٌ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْوَدَّاكِ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، يَقُولُ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَشْرَبْ خَمْرًا، إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ فَنُهِزَ بِالْأَيْدِي، وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ،" وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَنَهَى عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، يَعْنِي أَنْ يُخْلَطَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن وداک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جب حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمادیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11297]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1987
الحكم: إسناده صحيح، م:1987
حدیث نمبر: 11298 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَسُئِلَ عَنِ الثَّلَاثَةِ يَجْتَمِعُونَ فَتَحْضُرُهُمْ الصَّلَاةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11298]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 672 محمد بن جعفر - وإن سمع من أبى سعيد بعد الاختلاط -متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 672 محمد بن جعفر - وإن سمع من أبى سعيد بعد الاختلاط -متابع
حدیث نمبر: 11299 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11299]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
الحكم: إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
حدیث نمبر: 11300 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبْغُضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11300]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 77
الحكم: إسناده صحيح، م: 77
حدیث نمبر: 11301 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى ، أَبُو سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى لَحْيَانَ بْنِ هُذَيْلٍ، قَالَ:" لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا، وَاجْعَلْ الْبَرَكَةَ بَرَكَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دو میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور دونوں کو ثواب ملے گا۔ پھر فرمایا: اے اللہ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطاء فرما اور اس برکت کو دو گ نافرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11301]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1374 ، 1896
الحكم: إسناده صحيح، م: 1374 ، 1896
حدیث نمبر: 11302 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَلِيٌّ ، يَحْيَى ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَتْرِ، فَقَالَ:" أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11302]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 754
الحكم: إسناده صحيح، م: 754
حدیث نمبر: 11303 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ عِنْدَ اسْتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا جس سے اس کی شناخت ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11303]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1738
الحكم: إسناده صحيح، م: 1738
حدیث نمبر: 11304 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي سِنَانٍ ، أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَمَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً وَحُطَّتْ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً، وَمَنْ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ كُتِبَ أَوْ كُتِبَتْ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً، وَحُطَّ أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چار قسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں، سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر " جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، جو شخص اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہے، اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العالمین کہے، اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11304]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح