مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَأْتِيكَ فِيهِ، فَوَاعَدَهُنَّ مِيعَادًا فَأَمَرَهُنَّ، وَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ:" مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ أَوْ اثْنَانِ: فَإِنَّهُ مَاتَ لِي اثْنَانِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْ اثْنَان".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کے پاس آسکیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ایک مقررہ وقت کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں، وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ اگر دوہوں تو کیا حکم ہے؟ کہ میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے . [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633
الحكم: إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633