بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 36 از 48
حدیث نمبر: 11685 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ، قَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل (مادیہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اولاد کا ہونا تقدیر کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2542، م: 1438
حدیث نمبر: 11686 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْنَ النِّسَاءُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَبَ عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَعِدْنَا مَوْعِدًا، فَوَعَدَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ قَدَّمَتْ ثَلَاثًا مِنْ وَلَدِهَا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ"، قَالَتْ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ , قَالَ:" وَاثْنَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ایک وقت مقررہ کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633
الحكم: إسناده صحيح، خ: 101، م: 2633
حدیث نمبر: 11687 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي الصِّدِّيقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، حُمَيْدٌ ، بَكْرًا ، أَبِي رَافِعٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ رَجُلًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَقَدْ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَلَيْسَتْ لَهُ تَوْبَةٌ، قَالَ: فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ، فَكَمَّلَ مِئَةً، ثُمَّ إِنَّهُ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ قَتَلَ مِئَةَ نَفْسٍ، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ، اخْرُجْ مِنَ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ بِهَا إِلَى قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا، فَاعْبُدْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا، قَالَ: فَخَرَجَ وَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ، فَاخْتَصَمَ فِيهِ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ، قَالَ إِبْلِيسُ: إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطُّ , قَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ: إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا"، فَزَعَمَ حُمَيْدٌ أَنَّ بَكْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:" فَبَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا فَاخْتَصَمَا إِلَيْهِ"، رَجَعَ الْحَدِيثُ إِلَى حَدِيثِ قَتَادَةَ، قَالَ:" انْظُرُوا إِلَى أَيِّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ، فَأَلْحِقُوهُ بِهَا" , قَالَ قَتَادَةُ:" فَقَرَّبَ اللَّهُ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ، وَبَاعَدَ عَنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ، فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے، اس کے بعد (توبہ کرنے کے ارادہ سے) یہ دریافت کرنے نکلا کہ (روئے زمین پر) سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے بتایا فلاں شخص بڑا عالم ہے، یہ شخص اس کے پاس گیا اور دریافت کیا کہ میں نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا ہے، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ عالم نے کہا نہیں، اس نے عالم کو بھی قتل کردیا اس طرح سو کی تعداد پوری ہوگئی اور پھر لوگوں سے دریافت کرنے لگا کہ اب سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک آدمی کا پتہ دیا یہ اس کے پاس گیا اور اس سے اپنا مدعا کہا عالم نے کہا ہاں اس میں کون سی رکاوٹ ہے، اس گندے علاقے سے نکل کر فلاں گاؤں میں جاؤ (وہاں تمہاری توبہ قبول ہوگی) اور وہاں اپنے رب کی عبادت کرو، یہ شخص اس گاؤں کی طرف چل دیا لیکن راستہ میں ہی موت کا وقت آگیا۔ مجبوراً یہ شخص سینہ کے بل اس گاؤں کی طرف گھسٹتا رہا اب رحمت اور عذاب کے فرشتوں نے اس شخص کی نجات اور عذاب کے متعلق باہم اختلاف کیا، شیطان نے آکر کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے ایک لمحے کے لئے بھی کبھی میری نافرمانی نہیں کی تھی اور رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے نکلا تھا، (اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا اور) اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں بستیوں میں سے یہ شخص جس بستی کے زیادہ قریب ہوا اسے اس میں ہی شمار کرلو، راوی کہتے ہیں کہ قبل ازیں وہ اپنی موت کا وقت قریب دیکھ کر نیک گاؤں کے قریب ہوگیا تھا لہٰذا فرشتوں نے اسے ان ہی میں شمار کرلیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3470، م: 2766
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3470، م: 2766
حدیث نمبر: 11688 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، أَنَّهُمْ أَصَابُوا سَبَايَا، فَأَرَادُوا أَنْ يَسْتَمْتِعُوا بِهِنَّ، وَلَا يَحْمِلْنَ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمیں قیدی ملے، ہمیں عورتوں کی خواہش تھی اور تنہائی ہم پر بڑی شاق تھی اور چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، قیامت تک جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11688]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7409، م: 1438
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7409، م: 1438
حدیث نمبر: 11689 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمَّ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنَّهُ إِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ وِتْرًا، صَارَتْ شَفْعًا، وَإِنْ كَانَتْ شَفْعًا كَانَ ذَلِكَ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11689]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 571
الحكم: إسناده صحيح، م: 571
حدیث نمبر: 11690 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ، كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات ولے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11690]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11691 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" أَصَبْنَا نِسَاءً مِنْ سَبْيِ أَوْطَاسٍ، وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ، فَكَرِهْنَا أَنْ نَقَعَ عَلَيْهِنَّ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 قَالَ: فَاسْتَحْلَلْنَا بِهَا فُرُوجَهُنَّ.
حدیث نمبر: 11692 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبْغَضَنَّ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11692]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 88
الحكم: إسناده صحيح، م: 88
حدیث نمبر: 11693 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِيهِ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11693]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3344،4667، م: 1064
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3344،4667، م: 1064
حدیث نمبر: 11694 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ مَرْزُوقٍ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ غَسْلِ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَكْفِيكَ ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَكُفٍّ , ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ، ثُمّ قَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ , قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا، اس نے کہا کہ میرے سر پر بال بہت زیادہ ہیں؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال تم سے بھی زیادہ اور معطر تھے، (لیکن پھر بھی وہ تین مرتبہ ہی جسم پر پانی بہاتے تھے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11694]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11695 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِيهِ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ، بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ , قَالُوا: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا , قَالَ:" إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ" , قَالَ: فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، مَحْلُوقٌ، قَالَ: فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اتَّقِ اللَّهَ , قَالَ:" فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ، يَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي" , قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَمَنَعَهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا دباغت دی ہوئی کھال میں لپیٹ کر " جس کی مٹی خراب نہ ہوئی تھی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل چار آدمیوں میں تقسیم کردیا، بعض صحابہ رضی اللہ عنہ اور انصار وغیرہ کو اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ میں تو آسمان والے کا امین ہوں، میرے پاس صبح شام آسمانی خبریں آتی ہیں، اتنی دیر میں گہری آنکھوں، سرخ رخساروں، کشادہ پیشانی، گھنی ڈاڑھی، تہبند خوب اوپر کیا ہوا اور سر منڈایا ہوا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ کا خوف کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا بدنصیب! کیا اہل زمین میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار میں ہی نہیں ہوں۔ پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن مار دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ بہت سے نمازی ایسے بھی ہیں جو اپنی زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کرتا پھروں یا ان کے پیٹ چاک کرتا پھروں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک نظر دیکھا جو پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا اور فرمایا یاد رکھو! اسی شخص کی نسل میں ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پالیا تو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11695]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3344،4667، م: 1064
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3344،4667، م: 1064
حدیث نمبر: 11696 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدْ الْتَقَمَ الصُّورَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ، يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں ناز و نعم کی زندگی کیسے گزار سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور اپنے منہ سے لگا رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کانوں کو متوجہ کیا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11696]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي ولاضطرابه فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي ولاضطرابه فيه
حدیث نمبر: 11697 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا ثَمَرٍ صَدَقَةٌ، حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے کم گندم یا کھجور میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ وسق سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11697]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1405، م: 979
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1405، م: 979
حدیث نمبر: 11698 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا نُؤَدِّي صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ جَاءَتْ السَّمْرَاءُ، فَرَأَى أَنَّ مُدًّا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمیشہ ایک صاع کھجور یا جو، پنیر یا کشمش صدقہ فطر کے طور پر دی جاتی تھی۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں گندم آگئی اور ان کی رائے یہ ہوئی کہ اس کا ایک مد دو کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11698]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1505,1508، م: 985
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1505,1508، م: 985
حدیث نمبر: 11699 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، زُبَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرَ اللَّهِ فِيهِ مَقَالًا، فَلَا يَقُولُ فِيهِ، فَيُقَالُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكُونَ قُلْتَ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: مَخَافَةُ النَّاسِ , فَيَقُولُ: إِيَّايَ أَحَقُّ أَنْ تَخَافَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھے کہ اس پر اللہ کی رضاء کے لئے کوئی بات کہنے کا حق ہو لیکن وہ اسے کہہ نہ سکے۔ کیوں کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ تجھے یہ بات کہنے سے کس چیز نے روکا تھا؟ بندہ کہے گا کہ پروردگار! میں لوگوں سے ڈرتا تھا، اللہ فرمائے گا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11699]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد، بينهما رجل مبهم كما فى الرواية رقم : 11868
الحكم: إسناده ضعيف، أبو البختري لم يسمع من أبى سعيد، بينهما رجل مبهم كما فى الرواية رقم : 11868
حدیث نمبر: 11700 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، نَافِعٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، لَا يَشِفُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، لَا يَشِفُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11701 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَطَاءٍ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ أَوْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وعَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي التَّطَوُّعِ، حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ، يُومِئُ إِيمَاءً، وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَالصَّوَابُ عَطِيَّةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی طرف بھی ہوتا اور یہ نماز اشارے سے پڑھتے تھے اور سجدہ، رکوع کی نسبت زیادہ جھکتا ہوا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11701]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذان إسنادان ضعيفان لضعف ابن أبى ليلي و عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح، وهذان إسنادان ضعيفان لضعف ابن أبى ليلي و عطية العوفي
حدیث نمبر: 11702 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11702]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 11703 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ، لَا يَشْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11703]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلي و عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلي و عطية العوفي
حدیث نمبر: 11704 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ؟ قَالَ: فَخَرَجَ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَرْجِعْ، فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وَتْرٍ، وَإِنِّي أُنْسِيتُهَا، وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ". قَالَ: وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: قَزَعَةً، سَمَّى الْغَيْمَ بِاسْمٍ فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ، وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ، فَأُمْطِرْنَا، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْنَبَتِهِ، تَصْدِيقًا لِرُؤْيَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ باغ میں چل کر باتیں نہ کریں، وہ چل پڑے، میں نے ان سے عرض کیا کہ شب قدر کے حوالے سے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ مجھے بھی بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے کا اعتکاف فرمایا: ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، حضرت جبرائیل ان کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ جس چیز کو تلاش کررہے ہیں وہ آگے ہے۔ (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور اس میں بھی یہی ہوا) جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا جو شخص معتکف تھا وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں ہی رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس وقت آسمان پر دور دور تک بادل نہیں تھے، اچانک بادل آئے، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خواب کی تصدیق تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11704]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 813، م: 1167
الحكم: إسناده صحيح، خ: 813، م: 1167