أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، نَافِعٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، لَا يَشِفُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، لَا يَشِفُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584