يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُنَّا نُؤْذِنُهُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا، فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ، وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ , قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ، فَيَشُقَّ عَلَيْهِ , قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ , قَالَ: فَكُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّاهُ بِهِ، فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، وَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ، انْتَظَرَ شُهُودَهُ، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ , قَالَ: فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ، وَلَا نُشْخِصَهُ وَلَا نُعَنِّيَهُ، قَالَ: فَفَعَلْنَا ذَلِكَ، فَكَانَ الْأَمْرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم قریب المرگ لوگوں کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لاتے، اس کے لئے استغفار فرماتے اور اس کے مرنے تکوی ہیں بیٹھے رہتے جس میں بعض اوقات بہت زیادہ دیر بھی ہوجاتی تھی، جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشقت ہوتی، بالآخر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے آسانی اسی میں ہے کہ کسی کے مرنے سے پہلے ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع نہ کریں، چنانچہ اس کے بعد ہم نے یہ معمول اپنالیا کہ جب ہم میں سے کوئی شخص فوت ہوجاتا تب ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے اہل خانہ کے پاس آکر اس کے لئے استغفار کرتے اور اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے، پھر اگر رکنا مناسب سمجھتے تو رک جاتے ورنہ واپس چلے جاتے۔ کچھ عرصے تک ہم اس دوسرے معمول پر عمل کرتے رہے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے آسانی اس میں ہے کہ ہم جنازے کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر کے پاس لے جائیں اور اس کی تشخیص و تعیین نہ کریں، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا اور اب تک ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11628]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر