بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 33 از 48
حدیث نمبر: 11625 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَلْبَسُ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، وَإِنْ كَانَ لَهُ طِيبٌ مَسَّ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے اور یہ کہ وہ اس دن عمدہ کپڑے پہنے اور اگر موجود ہو تو خوشبو بھی لگائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11625]
حکم دارالسلام
حديث حسن، خ: 880، م: 846، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو بكر بن المنكدر لم يسمع أبا سعيد، بينهما عمرو بن سليم
الحكم: حديث حسن، خ: 880، م: 846، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو بكر بن المنكدر لم يسمع أبا سعيد، بينهما عمرو بن سليم
حدیث نمبر: 11626 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَمْرَةَ هِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ هِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَتْ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُفْتِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَصْلُحُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ لَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11626]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11627 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: أَرَدْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، وَعَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ مُحَدِّثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ أَوْ الْأَنْبِذَةِ، فَاشْرَبُوا، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گذرے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جارہا ہوں، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اے ابوسعید! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قربانی کا گوشت کھانے، کچھ مشروبات اور قبرستان جانے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا میں نے اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا اور ذخیرہ کرسکتے ہو کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کردی ہے، نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبی ذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو، لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بےہودہ بات نہ کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11627]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عمرو بن ثابت وأبيه عمرو
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عمرو بن ثابت وأبيه عمرو
حدیث نمبر: 11628 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُنَّا نُؤْذِنُهُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا، فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ، وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ , قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ، فَيَشُقَّ عَلَيْهِ , قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ , قَالَ: فَكُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّاهُ بِهِ، فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، وَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ، انْتَظَرَ شُهُودَهُ، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ , قَالَ: فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ، وَلَا نُشْخِصَهُ وَلَا نُعَنِّيَهُ، قَالَ: فَفَعَلْنَا ذَلِكَ، فَكَانَ الْأَمْرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم قریب المرگ لوگوں کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لاتے، اس کے لئے استغفار فرماتے اور اس کے مرنے تکوی ہیں بیٹھے رہتے جس میں بعض اوقات بہت زیادہ دیر بھی ہوجاتی تھی، جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشقت ہوتی، بالآخر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے آسانی اسی میں ہے کہ کسی کے مرنے سے پہلے ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع نہ کریں، چنانچہ اس کے بعد ہم نے یہ معمول اپنالیا کہ جب ہم میں سے کوئی شخص فوت ہوجاتا تب ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع کرتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے اہل خانہ کے پاس آکر اس کے لئے استغفار کرتے اور اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے، پھر اگر رکنا مناسب سمجھتے تو رک جاتے ورنہ واپس چلے جاتے۔ کچھ عرصے تک ہم اس دوسرے معمول پر عمل کرتے رہے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے آسانی اس میں ہے کہ ہم جنازے کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر کے پاس لے جائیں اور اس کی تشخیص و تعیین نہ کریں، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا اور اب تک ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11628]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 11629 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيٍّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ:" مَا تَرَى؟" , قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے ارد گرد سانپ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11629]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وانظر بنحوه فى مسلم برقم: 2925
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وانظر بنحوه فى مسلم برقم: 2925
حدیث نمبر: 11630 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنَاه مُؤَمَّلٌ ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11630]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وإسناده ضعيف كسابقه
الحكم: حديث حسن، وإسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11631 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا: حدثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاتَيْنِ، وَعَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ: عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْعِيدَيْنِ، وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ". قَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ: لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ شَيْءٌ. وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو وقت کی نماز، دو دن کے روزے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدین کے دن روزے سے اور ایک کپڑے میں لیٹنے سے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے کہ انسان کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11631]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11632 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عن لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: اللِّمَاسِ، وَالنِّبَاذِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور چھو کر یا کنکری پھینک کر خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11632]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2147، م: 1512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2147، م: 1512
حدیث نمبر: 11633 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي الْعَلَانِيَةِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَلَانِيَةِ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ"، قَالَ: قُلْتُ: فَالْجُفُّ، قَالَ: ذَاكَ أَشَرُّ وَأَشَرُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالعلانیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے، میں نے پوچھا کہ کھوکھلی لکڑی کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ تو اس سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11633]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، لكنه منسوخ، م: 1996
الحكم: إسناده صحيح، لكنه منسوخ، م: 1996
حدیث نمبر: 11634 مسند احمد
يَزِيدُ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ، فَلَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ؟". قَالَ: فَلَمْ يَأْمُرْ، وَلَمْ يَنْهَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے علاقے میں گوہ کی بڑی کثرت ہوتی ہے، اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک جماعت کو مسخ کردیا گیا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سا جانور ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11634]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1951
الحكم: إسناده صحيح، م: 1951
حدیث نمبر: 11635 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، سَوَاءٌ بِسَوَاءٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، مَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، الْآخِذُ وَالْمُعْطِي سَوَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11636 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ فِي وَادٍ أَوْ شِعْبٍ، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسرے راستے پر چل رہے ہو تو میں تمہارے راستے کو اختیار کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11636]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11637 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حدثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ، وَعَنْ صَلَاتَيْنِ، وَعَنْ نِكَاحَيْنِ، سَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے اور عورت اور اس کی خالہ یا عورت اور اس کی پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11637]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق
الحكم: حديث صحيح، خ: 1197، م: 827، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق
حدیث نمبر: 11638 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، (بیع مزابنہ سے مراد درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11638]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2186، م: 1546 وهذا إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2186، م: 1546 وهذا إسناده حسن
حدیث نمبر: 11639 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قال: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَزِّزٍ، عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا، أَوْ كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، أَذِنَ لِطَائِفَةٍ مِنَ الْجَيْشِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ يَعْنِي مُزَاحًا، وَكُنْتُ مِمَّنْ رَجَعَ مَعَهُ، فَنَزَلْنَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، قَالَ: وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ، أَوْ يَصْطَلُونَ , قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِلاَّ صَنَعْتُمُوهُ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي لَمَا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ , فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا، حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ، قَالَ: احْبِسُوا أَنْفُسَكُمْ، فَإِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر جس میں میں بھی شامل تھا، علقمہ بن مجزز رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ فرمایا: جب ہم اپنی منزل پر پہنچے یا راستے ہی میں تھے تو حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی درخواست پر انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جو بدری صحابی تھے اور ان کے مزاج میں حس مزاح بہت تھی، ان کا امیر مقرر کردیا، ان کے ساتھ واپس آنے والوں میں میں بھی تھا۔ راستے میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور لوگوں نے کھانا پکانے کے لئے یا سردی دور کرنے کے لئے آگ جلائی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہنے لگے کہ کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے کہا کہ میں تمہیں جو حکم دوں گا وہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، اس پر وہ کہنے لگے کہ میں تمہیں اپنے حق اور اطاعت کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کے لئے کمر کسنے لگے، جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو واقعی آگ میں چھلانگ لگا دیں گے تو انہوں نے کہا رک جاؤ، میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا، لوگوں نے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم کو کسی گناہ کے کام کا حکم دے اس کی اطاعت مت کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11639]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11640 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ غُلَامًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ذَاتَ يَوْمٍ بِتَمْرٍ رَيَّانَ، وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّى لَكَ هَذَا التَّمْرُ؟" , فَقَالَ: هَذَا صَاعٌ، اشْتَرَيْنَاهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ وَاشْتَرِ مِنْ أَيِّ تَمْرٍ شِئْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2302،2303، م: 1593
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2302،2303، م: 1593
حدیث نمبر: 11641 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" جُلِدَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ كُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں شراب نوشی کی سزا میں چالیس جوتے مارے جاتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جوتے کی جگہ کوڑے مقرر کردیئے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11641]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف زيد العمي، والمسعودي : وهو عبدالرحمن بن عبدالله بن عتبة قد اختلط، وسماع يزيد بن هارون منه بعد الاختلاط
الحكم: إسناده ضعيف لضعف زيد العمي، والمسعودي : وهو عبدالرحمن بن عبدالله بن عتبة قد اختلط، وسماع يزيد بن هارون منه بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 11642 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو النَّضْرِ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ يَزِيدُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ"، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أفواهها.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5625، م: 2033
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5625، م: 2033
حدیث نمبر: 11643 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حدثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ ، فَأَتَانَا بِزُبْدٍ وَكُتْلَةٍ، فَأُسْقِطَ ذُبَابٌ فِي الطَّعَامِ، فَجَعَلَ أَبُو سَلَمَةَ يَمْقُلُهُ بِأُصْبُعِهِ فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا خَالُ، مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْ الذُّبَابِ سُمٌّ، وَالْآخَرَ شِفَاءٌ، فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ، فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ، وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن خالد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا، وہ ہمارے لئے مکھن اور کھجوروں کا گچھا لے کر آئے، اچانک کھانے میں ایک مکھی گر پڑی، انہوں نے اپنی انگلی سے اسے ڈبو دیا، میں نے ان سے کہا کہ ماموں! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ہے کہ مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہوتی ہے، اس لئے کھانے میں مکھی پڑجائے تو اسے اچھی طرح اس میں ڈبو دو کیونکہ وہ زہر والے پر کو پہلے ڈالتی ہے اور شفاء والے پر کو پیچھے کرلیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11643]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11644 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَحَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: أخبرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ، حَتَّى ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى كُفِينَا، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25 , قَالَ:" فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، وَأَحْسَنَ كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ، فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ، ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ، فَصَلَّاهَا كَذَلِكَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ". قَالَ حَجَّاجٌ: فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا سورة البقرة آية 239..