بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 17 از 48
حدیث نمبر: 11305 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ:" لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ، وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی صعصعہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل سے محبت کرتے ہو اس لئے تم اپنی بکریوں یا جنگل میں جب بھی اذان دیا کرو تو اونچی آواز سے دیا کرو، کیوں کہ جو چیز بھی خواہ وہ جن و انس ہو یا پتھر اذان کی آواز سنتی ہے۔ وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی یہ بات میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11305]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 609
الحكم: إسناده صحيح، خ: 609
حدیث نمبر: 11306 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا مِنَ السَّحَرِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے دوسرے کو ساری رات سورت اخلاص کو بار بار پڑھتے ہوئے سنا تو صبح کے وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی، اس کا خیال یہ تھا کہ یہ بہت تھوڑی چیز ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11306]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5013
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5013
حدیث نمبر: 11307 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، قَزَعَةُ ، أَبَا سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزَعَةُ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ، قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ، فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ الزَّكَاةِ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي أَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا؟ فِي مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَفِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ، قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ"، فَكَانَتْ رُخْصَةً، فَمِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ مُصَبِّحُ، عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا"، فَكَانَتْ عَزِيمَةً، فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قزعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے، جب لوگ چھٹ گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ لوگ آپ سے جو سوالات کررہے تھے، میں آپ سے وہ سوال نہیں کروں گا، میں آپ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں ہے، بالآخر حیل و حجت اور تکرار کے بعد انہوں نے فرمایا کہ جس وقت ظہر کی نماز کھڑی ہوتی، ہم میں سے کوئی شخص بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، گھر آکر وضو کرتا اور پھر مسجد واپس آتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہی ہوتے تھے۔ پھر میں نے ان سے زکوٰۃ کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نسبت کر کے یا نسبت کئے بغیر) فرمایا کہ دو سو درہم پر پانچ درہم واجب ہیں اور چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری واجب ہے، جب ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو دو سو تک اس میں دو بکریاں واجب ہوں گی، پھر اگر ایک بھی زیادہ ہوجائے تو تین سو تک تین بکریاں ہوں گی، پھر ہر سو پر ایک بکری واجب ہوگی، اسی طرح پانچ اونٹوں پر ایک بکری واجب ہوگی، دس میں دو، پندرہ میں تین، بیس میں چار اور پچیس سے پینتیس تک ایک بنت مخاض ٣٦ سے ٤٥ تک ایک بنت لبون، ٤٦ سے ٦٠ تک ایک حقہ، ٦١ سے ٧٥ تک ایک جذعہ، ٧٦ سے ٩٠ تک دو بنت لبون، ٩١ سے ١٢٠ تک دو حقے ہوں واجب ہوں گے، اس کے بعد ہر پچاس میں ایک حقہ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون واجب ہوگی۔ پھر میں نے ان سے روزے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روزے کی حالت میں مکہ مکرمہ کا سفر کیا، ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور اس حال میں روزہ ختم کردینا زیادہ قوت کا باعث ہوگا، یہ رخصت تھی، جس پر ہم میں سے بعض نے اپنا روزہ برقرار رکھا اور بعض نے ختم کرلیا، پھر جب ہم نے اگلا پڑاؤ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اب تم دشمن کے سامنے آگئے ہو اور اس حال میں روزہ ختم کردینا زیادہ قوت کا باعث ہوگا اس لئے روزہ ختم کردو، یہ عزیمت تھی، اس لئے ہم نے روزہ ختم کردیا، پھر فرمایا کہ اس کے بعد ایک مرتبہ سفر میں ہم نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساتھ حالت روزہ میں بھی دیکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11307]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1120
الحكم: إسناده صحيح، م: 1120
حدیث نمبر: 11308 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زُهَيْرٌ ، شَرِيكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وجوب غسل آب حیات کے خروج پر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11308]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 180، م: 343 وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 180، م: 343 وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11309 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ:" فَأَمَّا إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟، قَالَ:" غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کرلیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11309]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6229، م:2121
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6229، م:2121
حدیث نمبر: 11310 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَخْرُجْ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ، كَاشِفَانِ عَوْرَتَهُمَا، يَتَحَدَّثَانِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے دو آدمی آپس میں اس طرح باتیں کرتے ہوئے نہ نکلیں کہ وہ استنجاء کر رہے ہوں اور ان کی شرمگاہیں نظر آرہی ہوں، کیوں کہ اللہ اس طرح کرنے سے ناراض ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11310]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 11311 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مشک سب سے عمدہ خوشبو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11311]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2252
الحكم: إسناده صحيح، م: 2252
حدیث نمبر: 11312 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، فُضَيْلٌ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ لَا يَتْرُكُهَا، وَيَتْرُكُهَا حَتَّى نَقُولَ لَا يُصَلِّيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات چاشت کی نماز اس تسلسل سے پڑھتے تھے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے چھوڑتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب آپ یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11312]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف عطية العوفي
الحكم: إسناده ضعيف الضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11313 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَمْتَلِئَ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا"، قَالَ:" ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا قِسْطًا وَعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک وہ ظلم و جور سے بھر نہ جائے، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا، وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے قبل ازیں وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11313]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11314 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک آدمی امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 672
الحكم: إسناده صحيح، م: 672
حدیث نمبر: 11315 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فِي الْفِطْرِ، فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ، فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَيَقُول:" تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَكَانَ أَكْثَرَ مَا يَتَصَدَّقُ مِنَ النَّاسِ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّيْءِ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْبَعْثِ ذَكَرَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ انْصَرَفَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عیدگاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیان فرما دیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11315]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 889
الحكم: إسناده صحيح، م: 889
حدیث نمبر: 11316 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، دَاوُدُ
حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ ، فَذَكَرَهُ، قَالَ: وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ، وَإِلَّا انْصَرَفَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11316]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11317 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ"، قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے پھل خریدے، لیکن اس میں اسے نقصان ہوگیا اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی، لوگوں نے اسے صدقات دے دئیے، لیکن وہ اتنے نہ ہوسکے جن سے اس کے قرضے ادا ہوسکتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ جو مل رہا ہے وہ لے لو، اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1556
الحكم: إسناده صحيح، م: 1556
حدیث نمبر: 11318 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ، فَقَالَ فِيمَا يُحَدِّثُنَا قَالَ:" يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ، أَوْ مِنْ خَيْرِهِمْ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُول: حِينَ يَحْيَا وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي الْآنَ، قَالَ: فَيُرِيدُ قَتْلَهُ الثَّانِيَةَ، فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کے حوالے سے ہمارے سامنے ایک طویل حدیث بیان فرمائی، اس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن اس پر مدینہ منورہ کی کسی نقب سے بھی اندر داخل ہونا ممنوع ہوگا، اس دن اس کی طرف ایک آدمی نکل کر جائے گا جو تمام لوگوں میں سب سے بہترین ہوگا اور وہ کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں اسے قتل کر کے دوبارہ زندہ کروں تو کیا تمہیں اس معاملے میں کوئی شک رہے گا؟ لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اسے قتل کرکے دوبارہ زندہ کردے گا، وہ آدمی کہے گا بخدا! مجھے تیرے معاملے میں اب سے پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی، دجال غضب ناک ہو کر اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے یہ قدرت نہیں دی جائے گی . [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11318]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1882، م: 2938
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1882، م: 2938
حدیث نمبر: 11319 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، أَبِي الْخَطَّابِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ، إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے نہ بتاؤں؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو لیکن اس سے کچھ اثر قبول نہ کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11319]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الخطاب المصري
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الخطاب المصري
حدیث نمبر: 11320 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالُ بْنُ عِيَاضٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ عِيَاضٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَبَّهَ عَلَى أَحَدِكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، فَقَالَ: أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ فِي نَفْسِهِ كَذَبْتَ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا بِأُذُنَيْهِ أَوْ يَجِدَ رِيحًا، بِأَنْفِهِ وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان میں اس کی آواز سن لیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11320]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال
حدیث نمبر: 11321 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِيَاضٍ ، أَبَا سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11321]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري ، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض بن هلال الأنصاري ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11322 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَوْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ مَعْمَرٌ شَكَّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟، قَالَ:" ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَعْبُدُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہ اللہ میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا وہ مومن جو کسی بھی محلے میں الگ تھلگ رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11322]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6494، م: 1888 وشك معمر فى هذا الحديث لا يؤثر، فقد روي عنه من غير شك، والحديث هو حديث عطاء بن يزيد الليثي
الحكم: حديث صحيح، خ: 6494، م: 1888 وشك معمر فى هذا الحديث لا يؤثر، فقد روي عنه من غير شك، والحديث هو حديث عطاء بن يزيد الليثي
حدیث نمبر: 11323 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ اپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے، شیطان اس کے منہ میں داخل ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2995
الحكم: إسناده صحيح، م: 2995
حدیث نمبر: 11324 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:754
الحكم: إسناده صحيح، م:754