بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 40 از 48
حدیث نمبر: 11765 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُحَمَّدٌ ، سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَمَّتِهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى إِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثَةٍ: تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى مَالِهَا، وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى جَمَالِهَا، وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى دِينِهَا، فَخُذْ ذَاتَ الدِّينِ وَالْخُلُقِ، تَرِبَتْ يَمِينُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت سے شادی تین میں سے کسی ایک وجہ سے کی جاتی ہے، یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اس کے دین کی وجہ سے تم اس عورت سے شادی کرو جو دین و اخلاق والی ہو، تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11765]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11766 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ، إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ، فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى، فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ أُسَيْدٌ: فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَهُ فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي، فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي، إِذْ جَالَتْ فَرَسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ"، قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ"، فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ"، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ , وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا، فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ، فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ، كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ رَآهَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رات کے وقت اپنے اونٹوں کے باڑے میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، وہ جوں جوں پڑھتے جاتے، وہ مزید بدکتا جاتا، حضرت اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں وہ میرے بیٹے یحییٰ کو ہی نہ روند ڈالے، چنانچہ میں اس کی طرف گیا، اچانک مجھے اپنے سر کے اوپر ایک سائبان سا محسوس ہوا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں، وہ آسمان کی طرف بلند ہوا حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اگلے دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آج رات میں اپنے باڑے میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے، انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا لیکن اس کے بدکنے میں اور اضافہ ہوگیا، تین مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی فرمایا: آخر میں انہوں نے عرض کیا کہ چونکہ یحییٰ اس کے قریب تھا اس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اسے نہ روند ڈالے، چنانچہ میں اس کے پاس چلا گیا، میں نے اس وقت ایک سائبان دیکھا جس میں چراغ جیسی چیزیں تھیں، وہ سائبان آسمان کی طرف بلند ہوا یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح کو لوگ انہیں دیکھ لیتے اور کوئی چیز ان سے چھپ نہ سکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 5018، م : 796
الحكم: إسناده صحيح، خ : 5018، م : 796
حدیث نمبر: 11767 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٍ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ مُوسَى قَالَ: أَيْ رَبِّ، عَبْدُكَ الْمُؤْمِنُ تُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا! قَالَ: فَيُفْتَحُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا، قَالَ: يَا مُوسَى، هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ، فَقَالَ مُوسَى: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ، لَوْ كَانَ أَقْطَعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ يُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ، لَمْ يَرَ بُؤْسًا قَطُّ , قَالَ: ثُمَّ قَالَ مُوسَى: أَيْ رَبِّ، عَبْدُكَ الْكَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا! قَالَ: فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ , فَيُقَالُ: يَا مُوسَى، هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ , فَقَالَ مُوسَى: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ، لَوْ كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ كَأَنْ لَمْ يَرَ خَيْرًا قَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے بندہ مومن پر دنیا میں بڑی تکالیف آتی ہیں، اللہ نے انہیں جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا اور فرمایا کہ اے موسیٰ! یہ سب میں نے اسی کے لئے تیار کر رکھا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار! تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر کوئی آدمی اپنی پیدائش کے دن سے قیامت تک اپنے چہرے کے بل چلتا رہے اور اس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہوں لیکن اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو بھی وہ اس میں کچھ تکلیف محسوس نہ کرے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار! آپ کے کافر بندہ پر دنیا میں بڑی وسعت ہوتی ہے؟ اللہ نے انہیں جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا اور فرمایا کہ اے موسیٰ! یہ میں نے اس کے لئے تیار کر رکھا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار! تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر اسے اپنی پیدائش سے لے کر قیامت تک کے لئے دنیا دے دی جائے لیکن اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو اسے کوئی اچھائی نہ ملی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11767]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولضعف دراج فى روايته عن أبى الهيثم
حدیث نمبر: 11768 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وأبى أمامة بن سهل بن حنيف ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبى هريرة
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وأبى أمامة بن سهل بن حنيف , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وأبى هريرة ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَاكَ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، ثُمَّ رَكَعَ مَا شَاءَ أَنْ يَرْكَعَ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا"، قَالَ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ زِيَادَةٌ، إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے مسواک کرے، خوشبو لگائے، بشرطیکہ موجود بھی ہو اور اچھے کپڑے پہنے، پھر نکل کر مسجد میں آئے، لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے اور حسب منشا نوافل پڑھے، جب امام نکل آئے تو خاموشی اختیار کرے اور نماز سے فارغ ہونے تک کوئی بات نہ کرے تو یہ اس جمعہ اور پچھلے جمعہ کے درمیان کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اگلے تین دن بھی شامل کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا مقرر فرما رکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11768]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ : 858، م : 846
الحكم: إسناده حسن، خ : 858، م : 846
حدیث نمبر: 11769 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَيَكْتُبُونَ النَّاسَ مَنْ جَاءَ مِنَ النَّاسِ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُورًا، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاةً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَةً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ عُصْفُورًا، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَيْضَةً , قَالَ: فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، وَجَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ، طُوِيَتْ الصُّحُفُ، وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ، يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور درجہ بدرجہ آنے والوں کا ثواب لکھتے رہتے ہیں، کسی کا ثواب اونٹ صدقہ کرنے کے برابر، کسی کا گائے، کسی کا بکری، کسی کا مرغی، کسی کا چڑیا اور کسی کا انڈہ صدقہ کرنے کے برابر، پھر جب مؤذن اذان دے دیتا ہے اور امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو نامہ اعمال لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور فرشتے مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننے لگتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11769]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11770 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ، وَلَا نَصَبٍ، وَلَا سَقَمٍ، وَلَا حَزَنٍ، وَلَا أَذًى، حَتَّى الْهَمِّ يُهِمُّهُ، إِلَّا اللَّهُ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری، دکھ حتیٰ کہ وہ خیالات " جو اسے تنگ کرتے ہیں " پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11770]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن ، م : 2573
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن ، م : 2573
حدیث نمبر: 11771 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، وَمُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ طَعَامًا مُخْتَلِفًا، بَعْضُهُ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، قَالَ: فَذَهَبْنَا نَتَزَايَدُ بَيْنَنَا، فَمَنَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" نَبْتَاعَهُ، إِلَّا كَيْلًا بِكَيْلٍ، لَا زِيَادَةَ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ کھانے کی چیزیں تقسیم فرمائیں جن میں سے بعض دوسروں سے عمدہ تھیں، ہم آپس میں ایک دوسرے سے بولی لگانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا کہ صرف ناپ کر ہی بیع کی جائے، اس میں کچھ زیادتی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11771]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11772 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ حَدَّثَهُ مِثْلَ ذَلِكَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اسی مضمون کی ایک حدیث بیان کر رہے تھے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ملاقات کے لئے آئے اور کہنے لگے کہ اے ابوسعید! یہ کیا حدیث ہے جو آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سونا سونے کے بدلے برابر سرابر بیچو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 2176، م : 1584
الحكم: إسناده صحيح، خ : 2176، م : 1584
حدیث نمبر: 11773 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فِطْرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ، قَالَ: فَقُمْنَا مَعَهُ، فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا، فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَضَيْنَا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ، وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ" , فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ"، قَالَ: فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ، قَالَ: وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی اہلیہ محترمہ کے گھر سے تشریف لے آئے، ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل پڑے، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جوتی ٹوٹ گئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک کر جوتی سینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے چل پڑے، ہم بھی چلتے رہے، ایک جگہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے، ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جو قرآن کریم کی تاویل و تفسیر پر اسی طرح قتال کرے گا جیسے میں نے اس کی تنزیل پر قتال کیا ہے، یہ سن کر ہم جھانک جھانک کر دیکھنے لگے، اس وقت ہمارے درمیان حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جوتی سینے والا ہے، اس پر ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے گیئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے بھی یہ بات سن لی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11773]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11774 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، الْحَجَّاجِ بْنِ مَرْوَانَ الْكَلَاعِيِّ ، وَعَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ السُّلَمِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ مَرْوَانَ الْكَلَاعِيِّ ، وَعَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَقَالَ: أَوْصِنِي , فَقَالَ: سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَبْلِكَ:" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ، وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ، فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ، وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ، وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ، وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے، انہوں نے فرمایا کہ تم نے وہی درخواست کی جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کی تھی، میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ ہر چیز کی بنیاد ہے، جہاد کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ وہ آسمان تمہاری روح اور زمین تمہارا ذکر ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے بھی یہ بات سن لی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11774]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، عقيل بن مدرك السلمي لم يدرك أبا سعيد ، والحجاج بن مروان الكلاعي ليس بمشهور
الحكم: إسناده ضعيف ، عقيل بن مدرك السلمي لم يدرك أبا سعيد ، والحجاج بن مروان الكلاعي ليس بمشهور
حدیث نمبر: 11775 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، فِطْرٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، أَبِي ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ لِأُبَشِّرَهُ، قَالَ: فَلَمْ يَرْفَعْ بِهِ رَأْسًا، كَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11776 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَيَّادٍ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" , قَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا"، قَالَ: دُخٌّ , قَالَ:" اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابن صیاد کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے پلٹ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کیا آپ میرے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیرے لئے اپنے ذہن میں ایک بات سوچی ہے، بتا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا " دخ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دور ہو، تو اپنے مقام سے ہرگز آگے نہیں بڑھ سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11776]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، الوليد ابن عبدالله بن جميع الزهري الكوفي متكلم فيه
الحكم: حديث صحيح ، الوليد ابن عبدالله بن جميع الزهري الكوفي متكلم فيه
حدیث نمبر: 11777 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن و حسین رضی اللہ عنہ نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11777]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 11778 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ ، أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَكُنَّا نَعْزِلُ عَنْهُنَّ، نَلْتَمِسُ أَنْ نُفَادِيَهُنَّ مِنْ أَهْلِهِنَّ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: تَفْعَلُونَ هَذَا وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ائْتُوهُ فَسَلُوهُ، فَأَتَيْنَاهُ، أَوْ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، قَالَ:" مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا كَانَ" , وَمَرَرْنَا بِالْقُدُورِ، وَهِيَ تَغْلِي، فَقَالَ لَنَا:" مَا هَذَا اللَّحْمُ؟" , فَقُلْنَا: لَحْمُ حُمُرٍ، فَقَالَ لَنَا:" أَهْلِيَّةٍ أَوْ وَحْشِيَّةٍ؟" , فَقُلْنَا: بَلْ أَهْلِيَّةٍ , قَالَ: فَقَالَ لَنَا:" فَأكْفِئُوهَا"، قَالَ: فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ نَشْتَهِيهِ , قَالَ: وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُوكِي الْأَسْقِيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم ان سے عزل کرتے تھے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں بھی تم یہ کام کرتے ہو، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ پھر ہمارا گذر کچھ ہنڈیوں پر ہوا جو ابل رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ یہ کیا گوشت ہے؟ ہم نے عرض کیا گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا پالتو یا جنگلی؟ ہم نے عرض کیا پالتو گدھوں کا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ہانڈیاں الٹ دو، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا، حالانکہ ہمیں اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی اور کھانے کی طلب محسوس ہور ہی تھی۔ اور ہمیں مشکیزوں کا منہ بند رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11778]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن ، خ : 2542، م : 1438
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن ، خ : 2542، م : 1438
حدیث نمبر: 11779 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ:" قَوْمٌ يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ مُخْتَلِفَةٍ، يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 4351، م : 1064
الحكم: إسناده صحيح، خ : 4351، م : 1064
حدیث نمبر: 11780 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ ، عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، مُعْتَمًّا بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ، مُرْخٍ طَرَفَهَا مِنْ خَلْفِهِ، مُصْفَرَّ اللِّحْيَةِ، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَرَدَّنِي، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ، فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ:" لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ، فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي، فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ هَاتَيْنِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا، وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ، فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ، فَلْيَفْعَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے عطاء بن یزید لیثی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں، انہوں نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا اور اس کا ایک کنارہ پیچھے لٹکا ہوا تھا اور ان کی ڈاڑھی زرد ہو رہی تھی۔ میں ان کے آگے سے گذرنے لگا تو انہوں نے مجھے روک دیا، پھر نماز کے بعد کہنے لگے کہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن نماز فجر پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے، نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرأت میں التباس ہوگیا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم دیکھ سکتے تو میں نے ہاتھ بڑھا کر ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور میں نے اس کا گلا گھونٹنا شروع کردیا تھا، حتیٰ کہ اس کے منہ سے نکلنے والے تھوک کی ٹھنڈک مجھے اپنی ان دو انگلیوں،" انگوٹھا اور ساتھ والی انگلی " کے درمیان محسوس ہونے لگی، اگر میرے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعاء نہ ہوتی تو وہ اس مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے، اس لئے تم میں سے جس شخص میں اس چیز کی طاقت ہو کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11780]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 11781 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، الْأَعْمَشُ ، سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنِي مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ: مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا كَاهِنٌ، وَلَا مَنَّانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان پانچ میں سے کوئی آدمی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا، عادی شراب خور، جادو پر یقین رکھنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کاہن اور احسان جتانے والا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11781]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مندل بن على وعطية العوفي
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مندل بن على وعطية العوفي
حدیث نمبر: 11782 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحْ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا، كَانَتْ شَفْعًا لِصَلَاتِهِ"، قَالَ مُوسَى مَرَّةً:" فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا، شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامَ أَرْبَعٍ، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوں اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ یقین پر بناء کرلے اور اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس کی نماز طاق ہوگئی تو جفت ہوجائے گی اور اگر جفت ہوئی تو شیطان کی رسوائی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11782]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 571
الحكم: إسناده صحيح، م : 571
حدیث نمبر: 11783 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنِ لَهِيعَةَ ، مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَسِيلَةُ دَرَجَةٌ عِنْدَ اللَّهِ لَيْسَ فَوْقَهَا دَرَجَةٌ، فَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا " وسیلہ " اللہ کے یہاں ایک درجے کا نام ہے جس سے اوپر کوئی درجہ نہیں ہے، سو تم اللہ سے میرے لئے وسیلہ کی دعا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11783]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11784 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ الْأَرْضِ مَسْجِدٌ وَطَهُورٌ، إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ، سوائے قبرستان اور حمام کے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11784]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، محمد بن إسحاق - وإن عنعن - قد توبع
الحكم: حديث صحيح ، محمد بن إسحاق - وإن عنعن - قد توبع