بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11780
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11780
حدیث نمبر: 11780 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو أَحْمَدَ ، مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ ، عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، مُعْتَمًّا بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ، مُرْخٍ طَرَفَهَا مِنْ خَلْفِهِ، مُصْفَرَّ اللِّحْيَةِ، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَرَدَّنِي، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ، فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ:" لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ، فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي، فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ هَاتَيْنِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا، وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ، فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ، فَلْيَفْعَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے عطاء بن یزید لیثی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں، انہوں نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا اور اس کا ایک کنارہ پیچھے لٹکا ہوا تھا اور ان کی ڈاڑھی زرد ہو رہی تھی۔ میں ان کے آگے سے گذرنے لگا تو انہوں نے مجھے روک دیا، پھر نماز کے بعد کہنے لگے کہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن نماز فجر پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے، نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرأت میں التباس ہوگیا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم دیکھ سکتے تو میں نے ہاتھ بڑھا کر ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور میں نے اس کا گلا گھونٹنا شروع کردیا تھا، حتیٰ کہ اس کے منہ سے نکلنے والے تھوک کی ٹھنڈک مجھے اپنی ان دو انگلیوں،" انگوٹھا اور ساتھ والی انگلی " کے درمیان محسوس ہونے لگی، اگر میرے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعاء نہ ہوتی تو وہ اس مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے، اس لئے تم میں سے جس شخص میں اس چیز کی طاقت ہو کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11780]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (11779) باب پر واپس اگلی حدیث (11781) →