بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 39 از 48
حدیث نمبر: 11745 مسند احمد
مُحَمَّدُ ، شُعْبَةُ ، الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، رَجُلًا ، رَجُلٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ سورة فاطر آية 32، قَالَ:" هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ , وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ".
حدیث نمبر: 11746 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ، لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنَّهَا تُصِيبُ قَوْمًا بِذُنُوبِهِمْ، أَوْ خَطَايَاهُمْ، حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ، فَيُخْرَجُونَ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ، فَيُلْقَوْنَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، أَهْرِيقُوا عَلَيْهِمْ مِنَ الْمَاءِ، قَالَ: فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور وہ گروہ در گروہ وہاں سے نکلیں گے، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یا حیوان یا حیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11746]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 4581، م : 185
الحكم: إسناده صحيح، خ : 4581، م : 185
حدیث نمبر: 11747 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ، وَلَا فِي خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ، أَوْ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11747]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 1405، م : 979
الحكم: إسناده صحيح، خ : 1405، م : 979
حدیث نمبر: 11748 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مَوْلًى لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَوْلًى لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کنواری عورت سے بھی زیادہ " جو اپنے پردے میں ہو " باحیاء تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی چیز ناگوار محسوس ہوتی تو وہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے ہی پہچان لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 2320
الحكم: إسناده صحيح، م : 2320
حدیث نمبر: 11749 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا فِي جَيْشٍ مِنَ الْمَدِينَةِ، قِبَلَ هَذَا الْمَشْرِقِ، قَالَ: فَكَانَ فِي الْجَيْشِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ، وَكَانَ لَا يُسَايِرُهُ أَحَدٌ، وَلَا يُرَافِقُهُ، وَلَا يُؤَاكِلُهُ، وَلَا يُشَارِبُهُ، وَيُسَمُّونَهُ الدَّجَّالَ، فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ نَازِلٌ فِي مَنْزِلٍ لِي، إِذْ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ جَالِسًا، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، لَا يُسَايِرُنِي أَحَدٌ، وَلَا يُرَافِقُنِي أَحَدٌ، وَلَا يُشَارِبُنِي أَحَدٌ، وَلَا يُؤَاكِلُنِي أَحَدٌ، وَيَدْعُونِي الدَّجَّالَ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ"، وَإِنِّي وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يُولَدُ لَهُ"، وَقَدْ وُلِدَ لِي، فَوَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ بِي هَؤُلَاءِ النَّاسُ، أَنْ آخُذَ حَبْلًا، فَأَخْلُوَ، فَأَجْعَلَهُ فِي عُنُقِي، فَأَخْتَنِقَ، فَأَسْتَرِيحَ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّاسِ، وَاللَّهِ مَا أَنَا بِالدَّجَّالِ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ شِئْتَ، لَأَخْبَرْتُكَ بِاسْمِهِ، وَاسْمِ أَبِيهِ، وَاسْمِ أُمِّهِ، وَاسْمِ الْقَرْيَةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مشرق کی طرف سے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ منورہ سے واپس آرہے تھے، اس لشکر میں عبداللہ بن صیاد بھی شامل تھا، کوئی بھی اس سے بات چیت کرتا تھا اور نہ ہی اس کی رفاقت کے لئے تیار ہوتا تھا اور کوئی بھی اس کے ساتھ کھاتا پیتا نہ تھا، بلکہ سب ہی اسے " دجال " کہتے تھے، ایک دن میں کسی پڑاؤ کے موقع پر اپنے خیمے میں تھا کہ مجھے عبداللہ بن صیاد نے دیکھ لیا، وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا اے ابوسعید! آپ میرے ساتھ لوگوں کا رویہ نہیں دیکھتے؟ میرے ساتھ کوئی بھی بات چیت، رفاقت اور کھانے پینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور سب مجھے دجال کہہ کر پکارتے ہیں، جب کہ اے ابوسعید! آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا اور میں تو پیدا ہی مدینہ منورہ میں ہوا ہوں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ دجال کی کوئی اولاد نہ ہوگی جب کہ میری تو اولاد بھی ہے، بخدا! لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ ایک رسی لوں، تنہائی میں اسے اپنے گلے میں ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لوں اور ان لوگوں سے نجات پالوں، بخدا! میں دجال نہیں ہوں، لیکن اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کا، اس کے ماں باپ کا اور اس بستی کا نام بھی بتاسکتا ہوں جہاں سے وہ خروج کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11750 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ، فَتَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ، فَيَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11750]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 4351، م : 1064
الحكم: إسناده صحيح، خ : 4351، م : 1064
حدیث نمبر: 11751 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، زَكَرِيَّا ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11751]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11752 مسند احمد
عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، مُجَالِدٌ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبُو سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يده: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ : هَلْ يُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَكْثَرُ، مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي مِنْ أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ وَلَا تَخْفَى، كَأَنَّهَا نُخَامَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ، وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ، وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ، يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ، وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تُدْخُنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا خوارج دجال کے وجود کا اقرار کرتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں ہزار یا اس سے بھی زیادہ انبیاء کے آخر میں آیا ہوں، جو نبی متبوع بھی مبعوث ہوا اس نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایا ہے اور مجھے اس کے متعلق ایک ایسی چیز بتائی گئی ہے جو کسی کو نہیں بتائی گئی تھی، یاد رکھو! وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دائیں آنکھ تو کانی ہوگی اور تم پر یہ بات مخفی نہ رہے کہ وہ کسی چونے کی دیوار میں لگے ہوئے تھوک یا ناک کی ریزش کی طرح ہوگی اور بائیں آنکھ کسی روشن ستارے کی طرح ہوگی اور اس کے پاس ہر زبان بولنے کی صلاحیت ہوگی، نیز اس کے پاس سرسبز و شاداب جنت کا ایک عکس بھی ہوگا جس میں پانی بہتا ہوگا اور ایک نمونہ جہنم کا ہوگا جو کالی سیاہ اور دھوئیں دار ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11752]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 11753 مسند احمد
عَبْدُ الْمُتَعَالِ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، مُجَالِدٌ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: ذُكِرَ ابْنُ صَيَّادٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا كَلَّمَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ابن صیاد کا تذکرہ ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ جہاں سے گذر جاتا ہے ہر چیز اس سے بات کرنے لگتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11753]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11754 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُثْمَانَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ النَّارُ: فِيَّ الْجَبَّارُونَ، وَالْمُتَكَبِّرُونَ، وَقَالَتْ الْجَنَّةُ: فِيَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ، وَمَسَاكِينُهُمْ، قَالَ: فَقَضَى بَيْنَهُمَا إِنَّكِ الْجَنَّةُ رَحْمَتِي، أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَأَنَّكِ النَّارُ عَذَابِي، أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَلِكِلَاكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا، جنت کہنے لگی کہ پروردگار! میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے، میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے سے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ سے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11754]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 2847
الحكم: إسناده صحيح، م : 2847
حدیث نمبر: 11755 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُثْمَانَ ، جَرِيرٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْأَفْعَى، وَالْعَقْرَبَ، وَالْحِدَاءَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْفُوَيْسِقَةَ"، قُلْتُ: مَا الْفُوَيْسِقَةُ؟ قَالَ:" الْفَأْرَةُ" , قُلْتُ: وَمَا شَأْنُ الْفَأْرَةِ؟ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ، وَقَدْ أَخَذَتْ الْفَتِيلَةَ، فَصَعِدَتْ بِهَا إِلَى السَّقْفِ لِتُحَرِّقَ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا محرم سانپ، بچھو، چوہا، باؤلا کتا مار سکتا ہے (اس حدیث میں چوہے کے لئے " فویسقہ " کا لفظ آیا ہے لہٰذا) راوی کہتے ہیں کہ میں نے فویسقہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا چوہا، میں نے پوچھا کہ چوہے کا کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے تو ایک چوہا چراغ کا فیتہ لے کر چھت پر چڑھ گیا تاکہ اسے آگ لگا دوں (اس وقت سے اسے فویسقہ کہا جانے لگا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11755]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
حدیث نمبر: 11756 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُثْمَانَ ، جَرِيرٌ ، يَزِيدَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ تمام خواتین جنت کی " سوائے حضرت مریم کے " سردار ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11756]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
حدیث نمبر: 11757 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُثْمَانَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وسمعته أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ، وَظُهُورٍ مِنَ الْفِتَنِ، رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السَّفَّاحُ، فَيَكُونُ إِعْطَاؤُهُ الْمَالَ حَثْيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اختتام زمانہ اور فتنوں کے دور میں ایک آدمی نکلے گا جسے لوگ " سفاح " کہتے ہوں گے وہ بھر بھر کر لوگوں کو مال و دولت دیا کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11757]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11758 مسند احمد
عُثْمَانُ ، عُثْمَانَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَلَغَ بَنُو آلِ فُلَانٍ ثَلَاثِينَ رَجُلًا، اتَّخَذُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا، وَدِينَ اللَّهِ دَخَلًا، وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب فلاں شخص کی نسل میں تیس بیٹے پیدا ہوجائیں گے تو لوگ اللہ کے مال کو اپنی دولت سمجھنے لگیں گے، اللہ کے دین میں دخل اندازی کرنے لگیں گے اور اللہ کے بندوں کے ساتھ ہنسی اور ٹھٹھہ کرنے لگیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11758]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
حدیث نمبر: 11759 مسند احمد
عُثْمَانُ ، عُثْمَانَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ سُورَتَيْنِ، فَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا , قَالَ: فَقَالَ:" لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتْ النَّاسَ"، وَأَمَّا قَوْلُهَا: يُفَطِّرُنِي، فَإِنَّهَا تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ، فَلَا أَصْبِرُ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" لَا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا"، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا: بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ، لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ:" فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صفوان بن معطل کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت ہم لوگ یہیں تھے اور وہ کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو تڑوا دیتا ہے اور خود فجر کی نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ سورج نکل آتا ہے، صفوان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس نے جو یہ کہا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ مجھے مارتا ہے تو یہ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتی ہے، میں نے اسے منع کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سورت تمام لوگوں کے لئے بھی کافی ہوتی ہے، رہی یہ بات کہ میں اس کا روزہ ختم کروا دیتا ہوں تو یہ نفلی روزے رکھتی ہے، میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا، اسی دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور رہا اس کا یہ کہنا کہ میں فجر کی نماز نہیں پڑھتا یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے تو ہمارے اہل خانہ کے حوالے سے یہ بات ہر جگہ مشہور ہے کہ ہم لوگ سورج نکلنے کے بعد ہی سو کر اٹھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم بیدار ہوا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11760 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، هَارُونَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پانی پینے اور اس میں پھونکیں مارنے (سانس لینے) سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11760]
حکم دارالسلام
حديث حسن ، سمرة بن عبدالرحمن المعافري مختلف فيه
الحكم: حديث حسن ، سمرة بن عبدالرحمن المعافري مختلف فيه
حدیث نمبر: 11761 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، هُشَيْمٌ ، مُجَالِدٌ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . قَالَ مُجَالِدٌ : أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ: الرَّجُلُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلصَّلاَةِ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلْقِتَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں کو دیکھ کر اللہ کو ہنسی آتی ہے، ایک وہ آدمی جو رات کو کھڑا ہو کر نماز پڑھے، دوسرے وہ لوگ جو نماز کے لئے صف بندی کریں اور تیسرے وہ لوگ جو جہاد کے لئے صف بندی کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11761]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد الهمداني، وهشيم مدلس وقد عنعن، وهو لم يسمع من مجالد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد الهمداني، وهشيم مدلس وقد عنعن، وهو لم يسمع من مجالد
حدیث نمبر: 11762 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلَا إِنَّ أَحْرَمَ الْأَيَّامِ يَوْمُكُمْ هَذَا، وَإِنَّ أَحْرَمَ الشُّهُورِ شَهْرُكُمْ هَذَا، وَإِنَّ أَحْرَمَ الْبِلَادِ بَلَدُكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا یاد رکھو! تمہارا سب سے معزز دن آج کا ہے، سب سے معزز مہینہ آج کا مہینہ ہے اور سب سے معزز شہر یہ والا ہے، یاد رکھو! تمہاری جان و مال کی حرمت ایک دوسرے پر اسی طرح ہے جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اور اس شہر میں ہے، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11762]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11763 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11763]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11764 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُعَاذٌ ، أَبِي ، عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، أَبِي الصِّدِّيقِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَرَادَ الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ، كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کسی مسلمان کو جنت میں بچے کی خواہش ہوگی تو اس کا حمل، وضع حمل اور عمر تمام مراحل ایک لمحے میں اس کی خواہش کے مطابق ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11764]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي