بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 20 از 48
حدیث نمبر: 11365 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَرْقَاءُ ، عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْمَازِنِيَّ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْمَازِنِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ضُرِبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ: ضَرَبَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِمَ فَعَلْتَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَّلَ مُوسَى عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُفَضِّلُوا بَعْضَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَى بَعْضٍ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ التُّرَابِ، فَأَجِدُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْعَرْشِ لَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صُعِقَ أَمْ لَا؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے چہرے پر ضرب کے آثار تھے اور اس نے آکر کہا مجھے آپ کے ایک صحابی نے مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعلقہ آدمی سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فضیلت دی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو، کیونکہ قیامت کے دن سب لوگوں پر بےہوشی طاری ہوجائے گی اور سب سے پہلے مٹی سے سر اٹھانے والا میں ہوں گا، میں اس وقت حضرت موسیٰ کو عرش کے پاس دیکھوں گا، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بےہوش ہونے والوں میں ہوں گے یا نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3398، م:2374
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3398، م:2374
حدیث نمبر: 11366 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ اتَّبَعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11366]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1310، م: 959
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1310، م: 959
حدیث نمبر: 11367 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَمْرٍو ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11367]
حکم دارالسلام
حديث حسن بالطريق السالفة 11237 والظاهر أن عمرا - وهو ابن أبى عمرو القرشي المخزومي، الراوي عن أبى سعيد الخدري - لم يسمع منه
الحكم: حديث حسن بالطريق السالفة 11237 والظاهر أن عمرا - وهو ابن أبى عمرو القرشي المخزومي، الراوي عن أبى سعيد الخدري - لم يسمع منه
حدیث نمبر: 11368 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ، إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ، لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک شاعر اشعار پڑھتا ہوا آگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو روکو، کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اشعار سے بھرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2259
الحكم: إسناده صحيح، م: 2259
حدیث نمبر: 11369 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي السَّائِبِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عن صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟، قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا، فَقَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟، فَقُلْتُ: أُرِيدُ قَتْلَهَا، فَأَشَارَ لِي إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ، اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَأَذِنَ لَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ مَعَهُ، فَأَتَى دَارَهُ، فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ، فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ، فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ، فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعُ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوْ الْحَيَّةُ، فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا، قَالَ:" اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ مَرَّتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ، فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ، فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں ابھی ان کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ چارپائی کے نیچے سے کسی چیز کی آہٹ محسوس ہوئی، میں نے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا، میں فوراً کھڑا ہوگیا، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انہوں نے پوچھا اب تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں اسے مار دوں گا، انہوں نے اپنے گھر کے ایک کمرے کی طرف " جو ان کے کمرے کے سامنے ہی تھا " اشارہ کرکے فرمایا کہ میرا ایک چچا زاد بھائی یہاں رہا کرتا تھا، غزوہ خندق کے دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آنے کی اجازت مانگی، کیونکہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور اسلحہ ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ وہ اپنے گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہے، اس نے اپنی بیوی کی طرف نیزے سے اشارہ کیا تو اس نے کہا کہ مجھے مارنے کی جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ مجھے گھر سے باہر نکلنے پر کس چیز نے مجبور کیا ہے؟ وہ گھر میں داخل ہوا تو وہاں ایک عجیب و غریب سانپ نظر آیا، اس نے اسے اپنا نیزہ دے مارا اور نیزے کے ساتھ اسے گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا، مجھے نہیں خبر کہ دونوں میں سے پہلے کون مرا، وہ نوجوان یا سانپ؟ اس کی قوم کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ سے دعاء فرمائیے کہ وہ ہمارے ساتھی کو ہمارے پاس لوٹا دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا اپنے ساتھی کے لئے استغفار کرو، پھر فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرلیا ہے اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص کسی سانپ کو دیکھے تو اسے تین مرتبہ ڈرائے پھر بھی اگر اسے مارنا مناسب سمجھے تو تیسری مرتبہ کے بعد مارے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11369]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م:2236
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م:2236
حدیث نمبر: 11370 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11370]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف رُبَيح بن عبدالرحمن
الحكم: إسناده ضعيف لضعف رُبَيح بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 11371 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11371]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 11372 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَتْ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ، قَالَتْ يَا وَيْلَهَا، أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ"، قَالَ حَجَّاجٌ: لَصُعِقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھالیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے کہ مجھے جلدی لے چلو اور اگر نیک نہ ہو تو کہتی ہے کہ ہائے افسوس! مجھے کہاں لے جاتے ہو؟ اس کی یہ آواز انسانوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان بھی اس آواز کو سن لے تو بےہوش ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1314
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1314
حدیث نمبر: 11373 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِضَبٍّ، فَقَلَّبَهُ بِعُودٍ كَانَ فِي يَدِهِ ظَهْرَهُ لِبَطْنِهِ، فَقَالَ:" تَاهَ سِبْطٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِنْ يَكُنْ فَهُوَ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں جو لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھا اور فرمایا بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ مسخ ہوگیا تھا، اگر وہ باقی ہوا تو یہی ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11373]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
حدیث نمبر: 11374 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، أَبِي الْخَطَّابِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ، إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے نہ بتاؤں؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو، لیکن اس سے کوئی اثر قبول نہ کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11374]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الخطاب المصري
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الخطاب المصري
حدیث نمبر: 11375 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ،" كَانَ يَشْتَكِي رِجْلَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، فَضَرَبَهُ بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِعَةِ، فَأَوْجَعَهُ، فَقَالَ: أَوْجَعْتَنِي، أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِعَةٌ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟، قَالَ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ هَذِهِ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونضر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں درد ہو رہا تھا، انہوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری پر رکھی ہوئی تھی کہ ان کے ایک بھائی صاحب آئے اور اپنا ہاتھ اسی ٹانگ پر مارا جس میں درد ہو رہا تھا، اس سے ان کے درد میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ میرے پاؤں میں درد ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا پھر تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ کہنے لگا کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طریقے سے لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11375]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه،أبو النصر القرشي لم يسمع من أبى سعيد، وله شاهد عند مسلم:2099 ويعارضه ما عند مسلم:2100 والبخاري من حديث عبد الله بن زيد: 457 ولفظه أنه رأي رسول الله مستلقيا فى المسجد واضعا احدي رجليه على الأخري... انظر الفتح
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه،أبو النصر القرشي لم يسمع من أبى سعيد، وله شاهد عند مسلم:2099 ويعارضه ما عند مسلم:2100 والبخاري من حديث عبد الله بن زيد: 457 ولفظه أنه رأي رسول الله مستلقيا
حدیث نمبر: 11376 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَقَالَ:" اقْلِبُوهُ لِظَهْرِهِ"، فَقُلِبَ لِظَهْرِهِ، ثُمَّ قَالَ:" اقْلِبُوهُ لِبَطْنِهِ"، فَقُلِبَ لِبَطْنِهِ، فَقَالَ:" تَاهَ سِبْطٌ مِمَّنْ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا، فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا، فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے الٹا کرو، لوگوں نے اسے الٹا کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اب اسے پیٹ کی جانب پلٹو، چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ مسخ ہوگیا تھا، اگر وہ باقی ہوا تو یہی ہوگا، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11376]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الأزدي
حدیث نمبر: 11377 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، جَهْضَمٌ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضع حمل سے پہلے جانوروں کے پیٹ میں موجود بچے خریدنے اور ماپے بغیر ان کے تھنوں میں موجود دودھ خریدنے سے، بھگوڑا غلام اور تقسیم سے قبل مال غنیمت اور قبضہ سے پہلے صدقات خریدنے سے منع فرمایا ہے، نیز غوطہ خور کی ایک چھلانگ پر جو ہاتھ میں آنے کی بنیاد پر معاملہ کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11377]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لجهالة محمد بن إبراهيم الباهلي، ولضعف شهر بن حوشب ، وجهضم اليمامي ثقة إلا أن حديثه منكر فيما روي عن المجهولين، وهذا منها، وقد ثبت النهي عن بيع الغرر فى حديث أبى هريرة عند مسلم: 1513
الحكم: إسناده ضعيف جدا لجهالة محمد بن إبراهيم الباهلي، ولضعف شهر بن حوشب ، وجهضم اليمامي ثقة إلا أن حديثه منكر فيما روي عن المجهولين، وهذا منها، وقد ثبت النهي عن بيع الغرر فى حديث أبى هريرة عند مسلم: 1513
حدیث نمبر: 11378 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى" أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف ایک پاؤں میں جوتا یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11378]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 11379 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْبِرْ أَبَا سَعِيدٍ، فَإِنَّ الْفَقْرَ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنْكُمْ، أَسْرَعُ مِنَ السَّيْلِ عَلَى أَعْلَى الْوَادِي، وَمِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تنگدستی کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوسعید! صبر کرو، کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر وفاقہ اس سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے جو اوپر کی جانب سے نیچے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11379]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإرساله، فإن عمرو بن الحارث المصري لم يثبت سماعه من سعيد بن أبى سعيد الخدري، وسعيد بن أبى سعيد لم يرو عنه غير اثنين، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله، فإن عمرو بن الحارث المصري لم يثبت سماعه من سعيد بن أبى سعيد الخدري، وسعيد بن أبى سعيد لم يرو عنه غير اثنين، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
حدیث نمبر: 11380 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَمَّادٌ ، الْحَجَّاجِ ، عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ اونٹ والے اپنے اوپر فخر کرنے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سکون اور وقار بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور فخر وتکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11380]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج بن أرطاة وعطية بن سعد العوفي
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج بن أرطاة وعطية بن سعد العوفي
حدیث نمبر: 11381 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ، يَوْمَ الْفِطْرِ، صَلَّى بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَامَ، فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" تَصَدَّقُوا" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَبِالْخَاتَمِ وَبِالشَّيْءِ، فَإِنْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةٌ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ لَهُمْ، وَإِلَّا انْصَرَفَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر سلام پھیر کر کھڑے ہوجاتے اور آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ کردیا کرتی تھیں، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیان فرمادیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11381]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 889
الحكم: إسناده صحيح، م: 889
حدیث نمبر: 11382 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ دَلَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کپڑے میں تھوکا اور اسے مل لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 889
الحكم: إسناده صحيح، م: 889
حدیث نمبر: 11383 مسند احمد
عَارِمٌ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا أَوْهَمَ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے زیادہ رکعتیں پڑھ لی ہیں یا کم کردی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11383]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 11384 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ بْن زَكَرِيَّا ، سُهَيْلٍ ، سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ ، أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْن زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ، أَوْ ابْنَتَانِ، أَوْ أُخْتَانِ، فَيَتَّقِي اللَّهَ فِيهِنَّ، وَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا اور ان سے عمدہ سلوک کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11384]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد بن عبدالرحمن بن مكمل، واختلف فى إسناده
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد بن عبدالرحمن بن مكمل، واختلف فى إسناده