بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 46 از 48
حدیث نمبر: 11885 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، وَهَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . وَهَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ"، وَقَالَ هَاشِمٌ: يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11885]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 77
الحكم: إسناده صحيح، م: 77
حدیث نمبر: 11886 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو اس کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11886]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، وله شاهد من حديث أبى هريرة عند البخاري: 2559 بلفظ: إذا قاتل أحدكم فليجتنب الوجه
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، وله شاهد من حديث أبى هريرة عند البخاري: 2559 بلفظ: إذا قاتل أحدكم فليجتنب الوجه
حدیث نمبر: 11887 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ نَدْفَعَهُ"، أَوْ نَحْوَ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
الحكم: إسناده صحيح، خ: 509، م: 505
حدیث نمبر: 11888 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشکیزے کو الٹ کر اس میں سوراخ کر کے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11888]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5625، م: 2023، وله إسنادان: الأول: عبدالرزاق عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله، وهذا إسناد صحيح، والثاني: عبدالأعلى عن معمر، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبى سعيد، وهذا الإسناد أخطأ فيه معمر ، فقال فيه عطاء بن يزيد، بدل: عبيدالله بن عبدالله
الحكم: حديث صحيح، خ: 5625، م: 2023، وله إسنادان: الأول: عبدالرزاق عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله، وهذا إسناد صحيح، والثاني: عبدالأعلى عن معمر، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن أبى سعيد، وهذا الإسناد أخطأ فيه
حدیث نمبر: 11889 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے۔ کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ اس کے منہ میں داخل ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11889]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2995
الحكم: إسناده صحيح، م: 2995
حدیث نمبر: 11890 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَأَلُوهُ، فَأَعْطَاهُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا أَعْطَاهُ، حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُمْ حِينَ أَنْفَقَ كُلَّ شَيْءٍ بِيَدِهِ:" وَمَا يَكُنْ عِنْدَنَا مِنْ خَيْرٍ، فَلَنْ نَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا، أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تعاون کی درخواست کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کچھ عطاء فرمادیا اور جو شخص مانگتا جاتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے دیتے جاتے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں دے چکے تو ہاتھ جھاڑ کر فرمایا ہمارے پاس جو دولت آئے گی ہم اسے تم سے چھپا کر ذخیرہ نہیں کریں گے، البتہ جو بچنا چاہے، اللہ اسے بچا لیتا ہے، اللہ سے جو شخص غناء طلب کرلے، اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو صبر کا دامن تھام لے، اللہ اسے صبر دے دیتا ہے اور تمہیں جو چیزیں دی گئی ہیں، ان میں صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11890]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6470، م: 1053
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6470، م: 1053
حدیث نمبر: 11891 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانْ ، مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانْ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11891]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1469، م: 1053
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1469، م: 1053
حدیث نمبر: 11892 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد الخدري
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد الخدري , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ، إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ، وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، نَزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ، فَنَادَى: هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ يَتُوبُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ إِلَى الْفَجْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہے کوئی گناہگار جو توبہ کرے؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا؟ ہے کوئی سوال کرنے والا؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11892]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، من 2700، 758، معمر بن راشد الأزدي متابع
الحكم: حديث صحيح، من 2700، 758، معمر بن راشد الأزدي متابع
حدیث نمبر: 11893 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، رَجُلٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: وَضَعَ رَجُلٌ يَدَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أُطِيقُ أَنْ أَضَعَ يَدِي عَلَيْكَ مِنْ شِدَّةِ حُمَّاكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ لَنَا الْبَلَاءُ، كَمَا يُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ، إِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ، وَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى يَأْخُذَ الْعَبَاءَةَ فَيَجُوبَهَا، وَإِنْ كَانُوا لَيَفْرَحُونَ بِالْبَلَاءِ كَمَا تَفْرَحُونَ بِالرَّخَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک مرتبہ اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسد اطہر پر رکھا تو کہنے لگا کہ آپ کو جس شدت کا بخار ہے، بخدا! آپ پر زیادہ دیر تک ہاتھ رکھنے کی مجھ میں طاقت نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم گروہ انبیاء کو جس طرح اجروثواب سے دوگنا دیا جاتا ہے، اسی طرح مصیبت بھی دوگنی آتی ہے، کسی نبی کی آزمائش جوؤں سے ہوئی اور وہ انہیں مارا کرتے تھے، کسی نبی کی آزمائش فقر وفاقہ سے ہوئی، یہاں تک کہ وہ ایک عباء لیتے اور اسی میں پورا جسم لپیٹتے تھے اور وہ لوگ مصائب پر اسی طرح خوش ہوتے تھے جیسے تم لوگ آسانیوں پر خوش ہوتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11893]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن أبى سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن أبى سعيد
حدیث نمبر: 11894 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا عَجِلَ أَحَدُكُمْ أَوْ أَقْحَطَ، فَلَا يَغْتَسِلَنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب اس طرح (خلوت) کی کیفیت میں جلدی ہو تو غسل نہ کیا کرو (بلکہ بعد میں اطمینان سے غسل کیا کرو) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11894]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11895 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ" رَأَى الطِّينَ فِي أَنْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْنَبَتِهِ، مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ، وَكَانُوا مُطِرُوا مِنَ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں، کیونکہ رات کو بارش ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11895]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2040، م: 1167
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2040، م: 1167
حدیث نمبر: 11896 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُوا بِالْقِرَاءَةِ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَشَفَ السُّتُورَ، وَقَالَ:" أَلَا إِنَّ كُلُّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ"، أَوْ قَالَ:" فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کانوں میں لوگوں کے اونچی آواز میں قرآن کریم پڑھنے کی آواز گئی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خیمے میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا پردہ اٹھا کر فرمایا یاد رکھو! تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، اس لئے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور ایک دوسرے پر اپنی آوازیں بلند نہ کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11897 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، رَجُلٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ جُحْرَ ضَبٍّ، لَتَبِعْتُمُوهُمْ فِيهِ"، وَقَالَ مَرَّةً:" لَتَبِعْتُمُوهُ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11897]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن أبى سعيد، وقد سلف نحوه بإسناد صحيح، برقم: 11800
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن أبى سعيد، وقد سلف نحوه بإسناد صحيح، برقم: 11800
حدیث نمبر: 11898 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَمِنُوا، فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ، يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا، بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ، مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ، قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا، وَيَصُومُونَ مَعَنَا، وَيَحُجُّونَ مَعَنَا، فَأَدْخَلْتَهُمْ النَّارَ، قَالَ: فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ، فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ، لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ، فَيُخْرِجُونَهُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا، ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنَ الْإِيمَانِ، ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ، حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا، فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40، قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا، فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ: شَفَعَتْ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ، وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، أَوْ قَالَ قَبْضَتَيْنِ، نَاسٌ لَمْ يَعْمَلُوا لِلَّهِ خَيْرًا قَطُّ، قَدْ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا، قَالَ: فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ، يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ، فِي أَعْنَاقِهِمْ الْخَاتَمُ: عُتَقَاءُ اللَّهِ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَائِي عَلَيْكُمْ، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان قیامت کے دن جہنم سے نجات پاجائیں گے اور مامون ہوجائیں گے تو دنیا میں تم میں سے کسی صاحب حق کا اتنا شدید جھگڑا نہیں ہوگا جتنا وہ اپنے رب کے سامنے اپنے ان بھائیوں کے متعلق اصرار کریں گے جنہیں جہنم میں داخل کردیا گیا ہوگا اور وہ کہیں گے کہ پروردگار! یہ ہمارے بھائی تھے، ہمارے ساتھ نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور حج کرتے تھے اور تو نے انہیں جہنم میں داخل کردیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم جاؤ اور جن لوگوں کو جانتے ہو انہیں جہنم سے نکال لو، چنانچہ وہ لوگ آئیں گے اور انہیں ان کی صورت سے پہچان لیں گے کیونکہ آگ نے ان کے چہرے کو نہیں کھایا ہوگا، کسی کو نصف پنڈلی تک آگ نے پکڑ رکھا ہوگا اور کسی کو گھٹنوں تک، انہیں نکال کر وہ کہیں گے کہ پروردگار! ہم نے ان لوگوں کو نکال لیا ہے، جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا۔ اللہ فرمائے گا کہ ان لوگوں کو بھی جہنم سے نکال لو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان موجود ہو، پھر جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو، یہاں تک کہ اللہ فرمائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر ایمان ہو، اسے بھی نکال لو، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس بات کو سچا نہ سمجھے اسے یہ آیت پڑھ لینی چاہئے " بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرے گا اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو اسے دوگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطاء فرمائے گا " وہ کہیں گے کہ پروردگار! ہم نے ان تمام لوگوں کو نکال لیا ہے جنہیں نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا اور اب جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہا جس میں کوئی خیر ہو۔ پھر اللہ فرمائے گا کہ فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی اور مسلمانوں نے سفارش کی، اب ارحم الراحمین رہ گیا ہے۔ چنانچہ اللہ جہنم سے ایک یا دو مٹھیوں کے برابر آدمی نکالے گا، یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہ کیا ہوگا، وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، انہیں " ماءِ حیات " نامی نہر پر لایا جائے گا ان پر پانی بہایا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے پانی کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے اور ان کے جسم موتیوں کی طرح چمکدار ہو کر نکلیں گے، ان کی گردنوں پر " اللہ کے آزاد کردہ لوگوں " کی مہر ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم جو تمنا کرو گے اس سے بہترین ملے گا، وہ کہیں گے کہ پروردگار! اس سے افضل اور کیا ہوگا؟ اللہ فرمائے گا میری رضا مندی، آج کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11898]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4581، م: 185
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4581، م: 185
حدیث نمبر: 11899 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُلَامَسَةُ: يُمَسُّ الثَّوْبُ، لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ , وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ، وَهُوَ طَرْحُ الثَّوْبِ الرَّجُلُ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ، وَيَنْظُرَ إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اچھی طرح کپڑا دیکھے بغیر اسے ہاتھ لگا دے (اور وہ اسے خریدنا پڑجائے) نیز بیع مناہدہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کپڑے وغیرہ کو دیکھے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کرنے سے قبل ہی اسے مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11899]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6284، م: 1512، وقوله فى الإسناد: عمرو خطأ ، صوابه عامر
الحكم: حديث صحيح، خ: 6284، م: 1512، وقوله فى الإسناد: عمرو خطأ ، صوابه عامر
حدیث نمبر: 11900 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ"، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11900]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1197، م: 827
حدیث نمبر: 11901 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَعَطَاءِ بْنِ بُخْتٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخبرنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَعَطَاءِ بْنِ بُخْتٍ ، كلاهما يخبر عمر بن عطاء، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، حَتَّى اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11901]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 11902 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حدثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الثَّوْبِ، لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ , وَالْمُنَابَذَةُ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5820، م: 1512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5820، م: 1512
حدیث نمبر: 11903 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَابْنِ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ:" حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اچھی طرح کپڑا دیکھے بغیر اسے ہاتھ لگا دے (اور وہ اسے خریدنا پڑجائے) نیز بیع مناہدہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کپڑے وغیرہ کو دیکھے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کرنے سے قبل ہی اسے مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11903]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 586، م: 827
الحكم: إسناده صحيح، خ: 586، م: 827
حدیث نمبر: 11904 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حدثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ"، أَمَّا اللِّبْسَتَانِ: فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، يَضَعَ طَرَفَيْ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَيَتَّزِرَ بِشِقِّهِ الْأَيْمَنِ، وَالْأُخْرَى أَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَيُفْضِيَ بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ، وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُنَابَذَةُ، وَالْمُلَامَسَةُ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتَ هَذَا الثَّوْبَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ , وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ، وَلَا يَلْبَسَهُ، وَلَا يُقَلِّبَهُ، إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی تجارت سے منع فرمایا ہے، لباس کی تفصیل تو یہ ہے کہ ایک کپڑے میں اس طرح لپٹنا کہ کپڑے کا ایک کونا بائیں کندھے پر رکھے اور دائیں کونے سے تہبند بنائے اور دوسرا یہ کہ ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ نظر آرہی ہو اور دو قسم کی تجارت سے مراد منابدہ اور ملامسہ ہے، منابدہ تو یہ ہے کہ آدمی یوں کہے کہ جب میں یہ کپڑا پھینک دوں تو بیع ہوگی اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی اسے ہاتھ سے چھولے لیکن پہن کر یا پلٹ کر نہ دیکھے، کہ جب چھوئے تو بیع ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11904]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 367، م: 1512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 367، م: 1512