بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 955
صفحہ 31 از 48
حدیث نمبر: 11585 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَسَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خریدو فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس کے گھر میں آگئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11585]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2177، م: 1584
حدیث نمبر: 11586 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، رَجُلٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطَّرِيقِ"، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: عَلَى الصُّعُدَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا , قَالَ:" فَأَدُّوا حَقَّهَا" , قَالُوا: وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:" رُدُّوا السَّلَامَ، وَغُضُّوا الْبَصَرَ، وَأَرْشِدُوا السَّائِلَ، وَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کرلیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11586]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى سعيد، وقد سلف برقم: 11309 بإسناد صحيح دون زيادة: وأرشدوا السائل، ولها شاهد من حديث أبى هريرة عند أبى داود: 4816 وغيره
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى سعيد، وقد سلف برقم: 11309 بإسناد صحيح دون زيادة: وأرشدوا السائل، ولها شاهد من حديث أبى هريرة عند أبى داود: 4816 وغيره
حدیث نمبر: 11587 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ذَاتَ يَوْمٍ بِنَهَارٍ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَنَا إِلَى أَنْ غَابَتْ الشَّمْسُ، فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا مِمَّا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثَنَاهُ، حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَ، وَنَسِيَ ذَلِكَ مَنْ نَسِيَ، وَكَانَ ممَا قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، يُنْصَبُ عِنْدَ اسْتِهِ يُجْزَى بِهِ، وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ"، ثُمَّ ذَكَرَ الْأَخْلَاقَ، فَقَالَ:" يَكُونُ الرَّجُلُ سَرِيعَ الْغَضَبِ، قَرِيبَ الْفَيْئَةِ، فَهَذِهِ بِهَذِهِ، وَيَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ، بَطِيءَ الْفَيْئَةِ، فَهَذِهِ بِهَذِهِ، فَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْئَةِ، وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْئَةِ، قَالَ: وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ تَتَوَقَّدُ، أَلَمْ تَرَوْا إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ، وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَجْلِسْ" أَوْ قَالَ: فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ الْمُطَالَبَةَ، فَقَالَ:" يَكُونُ الرَّجُلُ حَسَنَ الطَّلَبِ، سَيِّئَ الْقَضَاءِ، فَهَذِهِ بِهَذِهِ، وَيَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ، فَهَذِهِ بِهَذِهِ، فَخَيْرُهُمْ الْحَسَنُ الطَّلَبِ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ، وَشَرُّهُمْ السَّيِّئُ الطَّلَبِ السَّيِّئُ الْقَضَاءِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ، فَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا، وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا، وَيَعِيشُ كَافِرًا، وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا، وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا، وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا، وَيَعِيشُ كَافِرًا، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، ثُمَّ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: وَمَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ عَدْلٍ تُقَالُ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، فَلَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ اتِّقَاءُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ"، ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ مَنَعَنَا ذَلِكَ , قَالَ:" وَإِنَّكُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ"، ثُمَّ دَنَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ، فَقَالَ:" وَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور اس کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل قیامت تک پیش آنے والے حالات بیان کرتے ہوئے خطبہ ارشاد فرمایا: جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کی حمدو ثناء کرنے کے بعد منجملہ دیگر باتوں کے یہ بھی فرمایا لوگو! دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو؟ دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہوگا، بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور جلدی راضی ہوجائے اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور دیر سے راضی ہو اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر سے ہی جائے، یا جلدی آئے اور جلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر اخلاق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ غصہ ایک چنگاری ہے، جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور اس کی رگوں کا پھول جاناہی دیکھ لو، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے وہ زمین پر لیٹ جائے۔ یاد رکھو! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض ادا کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اس انداز میں مطالبہ کرے اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر فرمایا کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے، چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں، مومن ہو کر زندہ رہتے ہیں اور مومن ہو کر ہی مرجاتے ہیں، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہی ہو کر مرجاتے ہیں، بعض ایسے ہیں جو مومن پیدا ہوتے ہیں مومن ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہو کر مرجاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور مومن ہو کر مرجاتے ہیں۔ یاد رکھو! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے، یاد رکھو! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جب کہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو۔ پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! دنیا کی جتنی عمر گذر گئی ہے، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت ہے جو آج اسے گذرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11587]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 11588 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، مُجَالِدًا ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ مُجَالِدًا يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَرَوْنَ أَهْلَ عِلِّيِّينَ، كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا" , فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ مُجَالِدٍ عَلَى الطِّنْفِسَةِ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں نازونعم میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11588]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذان إسنادان ضعيفان لضعف مجالد بن سعيد فى الأول منهما، و ضعف عطية العوفي فى الإسناد الثاني
الحكم: صحيح لغيره، وهذان إسنادان ضعيفان لضعف مجالد بن سعيد فى الأول منهما، و ضعف عطية العوفي فى الإسناد الثاني
حدیث نمبر: 11589 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَمَّا" أَمَرَنَا النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَوَاللَّهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ، وَلَا أَوْثَقْنَاهُ، وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا، فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ، فَاشْتَكَى، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ، حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کر طرف نکل گئے، واللہ ہم نے ان کے لئے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہی انہیں باندھا، وہ خود ہی کھڑے رہے، ہم نے انہیں ہڈیاں اور ٹھیکریاں ماریں، انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے اور عرض حرہ میں جا کر کھڑے ہوگئے، ہم نے انہیں چٹانوں کے بڑے پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1694
الحكم: إسناده صحيح، م: 1694
حدیث نمبر: 11590 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الزَّهْرَانِيُّ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مشک سب سے عمدہ خوشبو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11590]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:2252
الحكم: إسناده صحيح، م:2252
حدیث نمبر: 11591 مسند احمد
زَكَرِيِّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيِّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ تَقُولُ: إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟! وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي لَمَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی، اللہ کی قسم میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں بڑی رہے گی اور لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11591]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة بن أبى سعيد الخدري، ولاضطراب فى الإسناد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة بن أبى سعيد الخدري، ولاضطراب فى الإسناد
حدیث نمبر: 11592 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبُو بَكْرٍ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 11593 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مِسْعَرٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْر ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْر ، قَالَ أَبِي: كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ فَوْقَ يَوْمَيْنِ، إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا". وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فِي مَوَاضِعَ أُخَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عروہ دو دن سے زیادہ کا سفر اپنے شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11593]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1197، وهذا الإسناد أخطأ فيه يحيى بن آدم بقوله: عبدالملك بن ميسرة، والصواب عبدالملك بن عمير كما فى الرواية السالفة برقم: 11683
الحكم: حديث صحيح، خ: 1197، وهذا الإسناد أخطأ فيه يحيى بن آدم بقوله: عبدالملك بن ميسرة، والصواب عبدالملك بن عمير كما فى الرواية السالفة برقم: 11683
حدیث نمبر: 11594 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11594]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
حدیث نمبر: 11595 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحُبْشِيُّ ، يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحُبْشِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟" , فَقَالَ: كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيءٌ، فَبِعْتُهُ بِهَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّهْ , عَيْنُ الرِّبَا، عَيْنُ الرِّبَا، فَلَا تَقْرَبَنَّهُ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ بِمَا شِئْتَ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مَا بَدَا لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی دو صاع رومی کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اوہ! یہ تو عین سود ہے، اس کے قریب بھی مت جاؤ البتہ پہلے اپنی کھجوروں کو بیج لو، پھر اس قیمت کے ذریعے جو مرضی خریدو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11595]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2312، م: 1594، هشام بن سعيد متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2312، م: 1594، هشام بن سعيد متابع
حدیث نمبر: 11596 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ ، أَبِي الْوَدَّاكِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَا: أَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي سَبْيِ أَوْطَاسٍ:" لَا تُوطَأُ حَامِلٌ"، قَالَ أَسْوَدُ:" حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً" , قَالَ يَحْيَى:" أَوْ تُسْتَبْرِأَ بِحَيْضَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے، تاآنکہ وضع حمل ہوجائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کا ایک دور گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11596]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 11597 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وِصَالَ" يَعْنِي فِي الصَّوْمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11597]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 11598 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وَمُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشُ ، مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَمُعَاوِيَةُ , قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَعَنِ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ"، فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ: أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1987
الحكم: إسناده صحيح، م:1987
حدیث نمبر: 11599 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو عَقِيلٍ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، قَالَ: حدثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي يَعْنِي الضِّبَابَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمْ يُجَاوِزْ إِلَّا قَرِيبًا، فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَعَاوَدَهُ ثَلَاثًا، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمُسِخُوا دَوَابَّ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ بَعْضُهَا، فَلَسْتُ بِآكِلِهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر میں کھانے کے لئے اکثر گوہ ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تھوڑی دیر بعد اس نے پھر یہی سوال کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اب بھی اسے جواب نہ دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر اللہ کی لعنت یا غضب نازل ہوا اور ان کی شکلوں کو مسخ کردیا گیا تھا، کہیں یہ وہی نہ ہو اس لئے میں اسے کھانے کا حکم دیتا ہوں نہ ہی منع کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1951، وفيه بيان أنه صلى الله عليه و آله وسلم قال ذلك قبل أن يعلم بأن الممسوخ لا يبقى هو و ذريته بعد ثلاثة أيام
الحكم: إسناده صحيح، م: 1951، وفيه بيان أنه صلى الله عليه وسلم قال ذلك قبل أن يعلم بأن الممسوخ لا يبقى هو و ذريته بعد ثلاثة أيام
حدیث نمبر: 11600 مسند احمد
حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ الْأَحْوَلُ ، سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، فُلَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَوْ مُعَاوِيَةُ بْنُ فُلَانٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الْأَحْوَلُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَوْ مُعَاوِيَةُ بْنُ فُلَانٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" الْمَيِّتُ يَعْرِفُ مَنْ يُغَسِّلُهُ، وَيَحْمِلُهُ، وَيُدَلِّيهِ" , قَالَ: فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَمَرَّ أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ؟ قَالَ: مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میت اپنے اٹھانے والوں، غسل دینے والوں اور قبر میں اتارنے والوں تک کو جانتی ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس سے اٹھ کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی، اتفاقاً حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی وہاں سے گذرے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11600]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لابهام راويه عن أبى سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لابهام راويه عن أبى سعيد
حدیث نمبر: 11601 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَنْظُرْ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا تَنْظُرْ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی آدمی دوسرے آدمی کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے، کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ جسم کے ساتھ نہ لیٹے اور کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ جسم کے ساتھ نہ لیٹے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11601]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 338
الحكم: إسناده صحيح، م: 338
حدیث نمبر: 11602 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، الضَّحَّاكُ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بن حبان ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ الشَّامِيِّ ، أَبَا صِرْمَةَ الْمَازِنِيَّ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بن حبان ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ الشَّامِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صِرْمَةَ الْمَازِنِيَّ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولَانِ: أَصَبْنَا سَبَايَا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَصَابَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ، وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا، وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَمْتِعَ وَيَبِيعَ، فَتَرَاجَعْنَا فِي الْعَزْلِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا، فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر قیدی ملے، یہ وہی غزوہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ ملی تھیں، ہم میں سے بعض لوگوں کا ارادہ یہ تھا کہ ان باندیوں کو اپنے گھروں میں رکھیں اور بعض کا ارادہ یہ تھا کہ ان سے فائدہ اٹھا کر انہیں بیچ دیں، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم عزل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں ہے، اللہ نے جو فیصلہ فرمالیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11602]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا الإسناد زاد فيه الضحاك بن عثمان أبا صرمة، وذكره فيه ليس محفوظا
الحكم: حديث صحيح، خ: 2542، م: 1438، وهذا الإسناد زاد فيه الضحاك بن عثمان أبا صرمة، وذكره فيه ليس محفوظا
حدیث نمبر: 11603 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّارِ، فَيُحْتَبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔ اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیاوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2440
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2440
حدیث نمبر: 11604 مسند احمد
سَيَّارٌ ، جَعْفَرٌ ، الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُزَنِيُّ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُزَنِيُّ وَكَانَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ، بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، إِنَّ بَعْضَنَا لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا، فَنَحْنُ نَسْمَعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَعَدَ فِينَا لِيَعُدَّ نَفْسَهُ مَعَهُمْ، فَكَفَّ الْقَارِئُ، فَقَالَ:" مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟" , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا كِتَابَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَحَلَّقَ بِهَا، يُومِئُ إِلَيْهِمْ أَنْ تَحَلَّقُوا، فَاسْتَدَارَتْ الْحَلْقَةُ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي، قَالَ: فَقَالَ:" أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ الصَّعَالِيكِ، تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، وَذَلِكَ خَمْسُ مِئَةِ عَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، ہم لوگ ایک دوسرے سے اپنی شرمگاہیں چھپا رہے تھے اور ایک قاری صاحب ہمارے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے اور ہم اسے سن رہے تے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان آکر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ان کے ساتھ شمار کرسکیں، قاری صاحب ایک دم رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے قاری صاحب ہمیں قرآن کریم کی تلاوت سنا رہے تھے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنانے کا اشارہ کیا، وہ لوگ حلقے کی شکل میں گھوم گئے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا اور فرمایا اے غریبوں کے گروہ! خوش ہوجاؤ کہ تم لوگ مالداروں سے پانچ سو سال " جو قیامت کا نصف دن ہوگا " پہلے جنت میں داخل ہوگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11604]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وإسناده ضعيف لجهالة العلاء بن بشير المزني، وسيار بن خاتم ضعيف وهو متابع
الحكم: حديث حسن، وإسناده ضعيف لجهالة العلاء بن بشير المزني، وسيار بن خاتم ضعيف وهو متابع