بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 11599
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 11599
حدیث نمبر: 11599 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو عَقِيلٍ ، أَبُو نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، قَالَ: حدثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي يَعْنِي الضِّبَابَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمْ يُجَاوِزْ إِلَّا قَرِيبًا، فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَعَاوَدَهُ ثَلَاثًا، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمُسِخُوا دَوَابَّ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ بَعْضُهَا، فَلَسْتُ بِآكِلِهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر میں کھانے کے لئے اکثر گوہ ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تھوڑی دیر بعد اس نے پھر یہی سوال کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اب بھی اسے جواب نہ دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر اللہ کی لعنت یا غضب نازل ہوا اور ان کی شکلوں کو مسخ کردیا گیا تھا، کہیں یہ وہی نہ ہو اس لئے میں اسے کھانے کا حکم دیتا ہوں نہ ہی منع کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1951، وفيه بيان أنه صلى الله عليه و آله وسلم قال ذلك قبل أن يعلم بأن الممسوخ لا يبقى هو و ذريته بعد ثلاثة أيام
الحكم: إسناده صحيح، م: 1951، وفيه بيان أنه صلى الله عليه وسلم قال ذلك قبل أن يعلم بأن الممسوخ لا يبقى هو و ذريته بعد ثلاثة أيام
← پچھلی حدیث (11598) باب پر واپس اگلی حدیث (11600) →