يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَمَّا" أَمَرَنَا النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَوَاللَّهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ، وَلَا أَوْثَقْنَاهُ، وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا، فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ، فَاشْتَكَى، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ، حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کر طرف نکل گئے، واللہ ہم نے ان کے لئے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہی انہیں باندھا، وہ خود ہی کھڑے رہے، ہم نے انہیں ہڈیاں اور ٹھیکریاں ماریں، انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے اور عرض حرہ میں جا کر کھڑے ہوگئے، ہم نے انہیں چٹانوں کے بڑے پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1694
الحكم: إسناده صحيح، م: 1694